حضور اکرمﷺ کی 10 عاداتِ مُبارکہ

دعوت نامہ برائے کوریج

1۔ صبح جلدی اٹھنا

رسول اللہﷺ صبح بہت جلد اٹھ جایا کرتے تھے بلکہ ایسی کوئی روائت نہیں ملتی کہ آپﷺ کی تہجد بھی کبھی قضاء ہوئی ہو۔

سورج نکلنے سے کچھ وقت قبل اور ایک گھنٹہ بعد تک کا وقت آکسیجن سے بھرپور وقت ہوتا ہے۔
آج سائنسی تحقیق کی بنیاد پر بھی صحت کے اعتبار سے 24 گھنٹوں میں یہ بہترین وقت ہوتا ہے کہ جس میں آپ کو زیادہ سے زیادہ آکسیجن لینے کا موقع ملتا ہے جو کہ آپ کی صحت مند زندگی کے لیے ایک بہترین مفید عمل ہے۔

2۔ آنکھوں کا مساج

صبح نیند سے اٹھنے کے بعد رسول اللہﷺ آنکھوں کا مساج فرمایا کرتے تھے۔

جسم کا پورا نظام گیارہ سسٹم پر مشتمل ہوتا ہے۔نیند سے اٹھنے کے بعد یہ سسٹم بحال ہونے میں 11 سے 12 منٹ لیتا ہے۔
اگر آپ آنکھوں کا مساج کرتے ہیں تو یہ سسٹم 10 سے 15 سیکنڈ میں فوراً بحال ہو جاتا ہے۔

3۔ بستر پر کچھ دیر بیٹھے رہنا

رسولﷺ بستر سے اٹھ کر کچھ دیر بیٹھے رہتے تھے اور معمول تھا کہ 3 دفعہ سورہ اخلاص پڑھتے تھے کہ جس کو پڑھنے میں تقریباً 1 منٹ صرف ہوتا ہے۔

آج میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ ہمارے دماغ میں ایک capillary ہے کہ جس کے ایک حصے سے دوسرے حصے کے لیے خون کے لیے ایک پل بنتا ہے۔
اس طرح اس پل کے ذریعے سے ہی ہمارے پورے دماغ کو بلڈ کی سپلائی بحال ہوتی ہے کہ جہاں سے ہمارے تمام تر اعصاب یعنی پورا جسم کو کنٹرول ہونا ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص صبح بیدار ہونے پر اچانک اٹھ کر چل دے کہ جبکہ ابھی برین میں بلڈ کی سپلائی بحال نہیں ہوئی تو اس شخص کو یہاں برین ہیمریج ہو سکتا ہے یا وہ برین کے کئی دوسرے پیچیدہ مسائل کا شکار ہو سکتا ہے کہ جس میں اچانک جسم کے کئی حصوں کا مفلوج ہونا (فالج) بھی شامل ہے۔

جبکہ اگر وہ صرف ایک منٹ بیٹھا رہے کہ اس کے دماغ میں بلڈ کی سپلائی بحال ہو سکے تو بہت سے پیچیدہ مسائل سے بچ سکتا ہے۔
ہ باقاعدہ ایک سائنس ہے اور اس ایک حدیثِ مبارکہ کے پیچھے بہت سے پروفیسر اور ڈاکٹرز کی ریسرچ شامل ہے کہ جس میں غیر مسلم ریسرچرز نے بھی اتفاق کیا ہے کہ ہمیں محمدﷺ کی اس سنت کے مطابق صبع اٹھنے کے بعد بیڈ پر کچھ دیر بیٹھے رہنا چاہیے۔

اس کا فائدہ یہ ہے کہ دماغ پوری طرح سے ایکٹو ہو کر ہمارے جسم کی بھرپور راہنمائی کے قابل ہو جاتا۔
یہ سنت مبارکہ جہاں بہت بڑا اجر و ثواب ہے وہاں صحت کا بہت بڑا راز بھی ہے۔

4۔ قیلولہ کرنا

آپﷺ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ دوپہر کے کھانے کے بعد ایک گھڑی کے لیے (20 سے 25 منٹ) آپﷺ لیٹ جایا کرتے تھے۔

اس کا فائدہ یہ ہے کہ تقریبا 68% افراد میں جب وہ لنچ کرتے ہیں تو ان کا معدہ تھوڑی مقدار میں الکوحل سے ملتا جلتا مادہ پیدا کرتا ہے۔
ایسے میں اگر انسان چل پھر رہا ہو تو وہ چکرا کر گر سکتا ہے، یا اس پر خمار کی سی کیفیت طاری ہو سکتی ہے۔

یہی سبب ہے کہ آپ ہمیشہ دوپہر کے کھانے کے بعد آپنے آپ کو تھوڑا بوجھل سا محسوس کرتے ہیں۔
اگر ہم کچھ دیر لیٹ جائیں تو الکوحل سے پیدا ہونے والے خمار کا ذہن پر زیادہ دباو نہیں آئے گا اور وہ باڈی فنگشنز کے لیے زیادہ فعال رہے گا اور ہم کسی بھی طرح کے حادثے سے بچ سکیں گے۔

اس کے علاوہ بھی اس سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بہت سے صحت کے مسائل کا خدشہ رہتا ہے۔
چونکہ یہ بات آج تحقیقات سے ثابت شدہ ہے اس لیے دنیا بھر کے ممالک میں بیشر 1 سے 2 یا 3 بجے تک دوپہر کا وقفہ کیا جاتا ہے تاکہ لوگ لنچ کے بعد کچھ قیلولہ کر سکیں۔

آج پورا یورپ رسول اللہﷺ کی سنت کو عملاً اپنائے ہوئے ہے اور پورے یورپ میں دوپہر 1 سے 3 بجے تک کا وقفہ ہوتا ہے۔ انہوں نے سنتِ رسولﷺ پر ریسرچ کی، اپنایا اور ہم سے کہیں بہتر صحت کا معیار رکھتے ہیں۔

5۔ کھانے سے پہلے پھل نوش فرمانا

رسول اللہﷺ ہمیشہ کھانا کھانے سے پہلے فروٹ نوش فرمایا کرتے تھے آپﷺ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ آپ کھانے کے بعد پھل نوش نہ فرماتے تھے۔
مختلف پھلوں میں 90 سے 99 % تک پانی کی مقدار ہوتی ہے آپﷺ نے چونکہ کھانا کھانے کے بعد پانی پینے سے منع فرمایا ہے جبکہ کھانے سے قبل پانی پینے کی ترغیب دلائی ہے۔

اس لیے مختلف پھل بھی چونکہ پانی کی بہت زیادہ مقدار رکھتے ہیں اس لیے ان کو کھانے سے پہلے کھانے سے جسم اور خاص طور پر معدہ اور آنتوں کو توانائی ملتی ہے۔

کیونکہ کھانے کو ہضم کرنے میں معدہ اور آنتوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور یہ عمل ان کی کارکردگی بڑھانے میں ان کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے اور یہ بات بھی سائنسی مشاہدات سے ثابت شدہ ہے۔ فروٹ میں موجود غذائیت سے خالی معدہ کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

6۔ غذا کے بعد پانی نہ پینا

رسول اللہﷺ کبھی بھی کھانے کے بعد پانی نہ پیتے تھے۔
آج علم و تحقیق سے جو باتیں سامنے آئی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اس سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کے اس قدر نقصانات ہیں کہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا۔

جب ہم کھانے کے بعد پانی پیتے ہیں تو کھانے میں جس قدر بھی فیٹس ہوتے ہیں وہ کھانے سے نکل کر معدے کے اوپر والے حصے کی طرف آجاتے ہیں۔

باقی کھانا ہاضمے کے دوسرے مرحلے کے لیے چھوٹی آنت میں چلا جاتا ہے اور اس طرح معدے میں رہ جانے والا فیٹ اور پروٹین معدے کے اندر انتہائی نقصان دہ گیسز پیدا کرتے ہیں جبکہ ان سب کو کھانے کے ساتھ مکس ہو کر نظام انہظام کے اگلے مرحلے میں جانا تھا۔ ہم نے پانی پی لیا یا فروٹ کھا لیا تو یہ ہماری صحت کی بربادی کےلیے معدے ہی میں رہ گئے۔

ایک حدیث رسولﷺ کا مفہوم ہے کہ اگر کھانا کھا لینے کے بعد پانی کے حاجت ہو تو محض چند ایک گھونٹ لے لو اور اس کے بعد روٹی کا ایک لقمہ کھا لو۔
جاپانی ریسرچ ہے کہ کھانے کے بعد پانی پینے سے جو فیٹس اوپر آ رہے تھے اور آپ نے جو بعد میں لقمہ کھا لیا تو فیٹس کے اوپر آنے کا سلسلہ نہ صرف وہیں رک جاتا ہے بلکہ وہ دوبارہ غذا کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اس لیے کھانا کھانے کے بعد پانی ہرگز نہیں پینا چاہیے کہ چو پیٹ میں نہ صرف گیس، تیزابیت، بدہضمی کا باعث بنتے ہیں بلکہ بہت سے دل کے امراض کا تعلق بھی اسی سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کے سبب سے ہی ہے۔

7۔ وضو

ہم دن میں پانچ فرض نمازوں کے لیے کم از کم پانچ بار وضو کرتے ہیں کیونکہ وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور منہ، ناک ہاتھ، بازو، سر اور پاوں دھوئے بغیر وضو نہیں ہوتا۔ یعنی دن میں پانچ بار ہم جسم کے ان تمام اعضاء کو دھوتے ہیں۔
وضو میں ہم جسم کے تمام ظاہری اعضاء دھوتے ہیں کہ جن پر مٹی اور کاربن لگ جاتی ہے۔

آج سائنسی مشاہدات یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ جسم کے جن اعضاء پر مٹی یا کاربن لگ جاتی ہے تو اگر ان کو صاف نہ کیا جائے اور وہ جسم کے اس حصے پر زیادہ دیر لگے رہیں تو ان اعضاء اور دماغ کا کنکشن کمزور ہو جاتا ہے۔ یعنی جسم کا اعصابی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔

چونکہ وہ مسلسل دماغ کو یہ پیغام بھیج رہے ہوتے ہیں کہ جسم پر کوئی چیز آ گئی ہے اور اس کی صفائی کا اہتمام کیا جائے۔

اگر ایک شخص صبح منہ دھوتا ہے اور اس کے بعد شام میں آکر دھوتا ہے تو اس کے اعضا اور دماغ کا تعلق کمزور پڑ جاتا ہے کہ جس سے بعد میں وہ بہت سے اعصابی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔
اسلام کم از کم دن میں پانچ بار آپ کے اعضاء کی صفائی کا بندوبست کرتا ہے اور جمعہ کے روز ناخن، زیر ناف اور بغلوں کے غیر ضروری بال کاٹنے سمیت مکمل صفائی کا اہتمام کرتا ہے اسی لیے جمعہ کا غسل ہر مسلمان پر واجب ہے۔

رسول اللہﷺ نے نہ صرف ایسا کرنے کا حکم فرمایا ہے بلکہ یہ سب آپﷺ کی سنت مبارکہ کا حصہ بھی ہے۔

8۔ جلد سونا

رسولﷺ کی ایک اور عادتِ مبارکہ یہ بھی تھی کہ آپﷺ رات جلد سو جایا کرتے تھے۔ عموما آپﷺ نماز عشاء کے فورا بعد سو جاتے تھے۔ یعنی رات جلد سونا اور صبح جلد اٹھنا آپﷺ کے معمولات میں شامل تھا۔
ہماری بائیالوجیکل واچ جو کہ ہمارے پورے جسم کے نظام کو منظم کرتی ہے جب یہ باہر اندھیرا دیکھتی ہے تو یہ آپ کے جسم کو سونے کا سگنل دے دیتی ہے جسم کو تیاری کے لیے یہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا ٹائم دیتی ہے کہ اس وقت تک آپ کو لازمی سونا ہے۔

نوٹ کیجیے کہ نماز مغرب اور نماز عشاء میں بھی تقریباً اتنا ہی دورانیہ ہوتا ہے۔

اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کے اندر بائیالوجیکل واچ کے تحت ایک ڈاکٹر جاگ جاتا ہے جو آپ کے پورے جسم کی مینٹیننس کرتا ہے۔ اگر کہیں زخم آگیا ہے وہ اس کو ریپئر کرے گا۔ اگر جگر یا کسی اور اعضاء میں کچھ مشکل ہے تو اس پر کام کرے گا۔

بلکہ سونے کے بعد سب سے پہلے جگر پر ہی کام ہوتا ہے اور جو جگر کے مریض ہیں ان کے لیے یہ رائے بھی ہے جہاں وہ اپنا علاج کر رہے ہیں وہ اپنی جگہ لیکن اپنے نیند کے نظام کو بہتر کر کے اپنے جسم کے ڈاکٹر کو علاج کا موقع دیجیے اور پھر اس کے ثمرات دیکھیے۔

رات 10 بجے سے بارہ بجے تک جگر اور اس کے ارد گرد کے اعضاء کی مینٹیننس ہوتی ہے اور اس کے بعد درجہ بدرجہ پورے جسم کی مینٹیننس ہوتی ہے اور یہ عمل روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
اللہ رب العزت نے آپ کے جسم میں ایک آٹومیٹک نظام رکھا ہے اور یہ نظام تب کام کرتا ہے کہ جب آپ جلدی سونے کی عادت اپناتے ہیں۔

عہد جہالت میں عربوں میں ایک رواج تھا کہ رات کے کھانے کے بعد ان کے ہاں شعر و شاعری اور دیو مالائی کہانیوں کی محفلیں ہوتی تھیں جو رات گئے دو بجے تک چلتی رہتی تھیں اور اس ماحول میں رسولﷺ کا رات جلدی سونا بھی ان کے نزدیک ایک قابل اعتراض عمل تھا۔

یہ تو عہد جہالت تھا لیکن آج ماڈرن ایج کا دعویٰ کرنے والے ہم مسلمانوں کے ہاں بھی دیر تک جاگنے کو نہصرف قابل اعتراض نہیں سمجھا جاتا بلکہ کچھ حد تک تو قابل فخر بھی جانا جاتا ہے۔ عہد جہالت کی محفلوں کی جگہ آج ماڈرن انٹرنیٹ اور سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی نے لے لی ہے۔
لیکن جلدی سونا رسول اللہﷺ کے معمولات میں تھا کیونکہ جسم کے اندرونی ڈاکٹر کی افادیت سے واقف تھے اور یہی وجہ ہے کہ پوری حیاتِ مبارکہ میں رسول اللہﷺ بیمار نہیں ہوئے۔

9۔ مسواک کرنا

رسول اللہﷺ مسواک کو بہت پسند فرما تے تھے اور خصوصاً دن میں پانچ دفعہ ہر نماز میں وضو کے ساتھ تو ضرور اس کا اہتمام فرما تے تھے۔
اس کے علاوہ بھی جب گھر تشریف لاتے، کسی محفل میں حاضری سے پہلے غرض ہر موقع پر مسواک کا اہتمام کرتے اور مسواک کو بہت محبوب رکھتےﷺ ۔

ہوتا یہ ہے کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو دانتوں کے درمیان کھانے کے کچھ نہ کچھ ذرات ضرور رہ جاتے ہیں اور کھانے کے ایک گھنٹے بعد ان میں بیکٹیریا پیدا ہو جاتے ہیں۔

محسوس کیجیے گا کہ دانتوں میں رہ جانے والے ذرات دو گھنٹوں پر نرم ہو جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ بیکٹیریا ہی ہیں۔اس لیے ہمیں کہا گیا کہ کھانے سے پہلے، بعد، سونے سے پہلے، بعد مسواک کا اہتمام کیا جائے۔ ورنہ یہ آپ کے ہارٹ اٹیک کا بھی سبب بن سکتی ہے۔
آج امریکہ اور مغربی ممالک میں صبح اٹھتے ہی بغیر دانت منہ صاف کیے کھانے پینے کا رواج عام ہے جو ان میں طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔

آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی نے ہارٹ اٹیک کے پانچ سو مریضوں پر ریسرچ کی۔ انہوں نے جہاں اور بہت سی وجوہات بیان کیں وہاں ایک کامن وجہ یہ بھی سامنے آئی کہ یہ لوگ ٹوتھ برش کرنے کے عادی نہ تھے جس کے سبب ان کے دانتوں میں جما میل پیٹ میں جا کر اس قدر ملٹی پلائی ہوا کہ وہ ہارٹ کی آرٹریز کو بلاک کرنے کا سبب بنا۔
ان کو ہارٹ اٹیک کا اصل سبب ان کے دانتوں کا میل تھا جبکہ ہمیں رسول اللہﷺ مسواک کی اس حد تک تلقین فرمائی کہ ایک موقع پر فرمایا کہ اگر امت پر بھاری نہ ہوتا تو میں امت پر مسواک کو فرض قرار دے دیتا۔

آج کی ماڈرن سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ جن لوگوں کو مسواک یا ٹوتھ برش زیادہ کرنے کی عادت ہوتی ہے ان کو غصہ کم آتا ہے اور وہ اکثر ٹھنڈے مزاج، پرسکون رہتے ہیں۔
جس شخص کو زیادہ غصہ آتا ہو، بلڈ پریشر اکثر ہائی رہتا ہو، طبیعت میں بےچینی ہو تو وہ زیادہ سے زیادہ مسواک کیا کرے دو تین ماہ ہی میں وہ اس کے حیران کن معجزاتی اثرات پائے گا۔

10۔ ہفتے میں دو روزے

رسول اللہﷺ کے معمولات میں پیر اور جمعرات کا روزہ بھی شامل تھا اور آپﷺ نے ان روزوں کو رکھنے کی ترغیب بھی دلائی۔ یعنی کہ ہفتے میں دو روزے۔
رسول اللہﷺ کا قولِ مبارک ہے کہ مسلمان ایک آنت میں کھانا کھاتا ہے جبکہ کافر تین آنت میں اور ہمیں نصیحت فرمائی کہ جب خوب بھوک لگے تو کھانا کھاؤ اور ابھی بھوک باقی ہو تو چھوڑ دو۔

یہ عمل آج جدید میڈیکل کی زبان میں "آٹو فیجیا” (Autophagia) کہلاتا ہے۔یہ انسانی جسم کو صحت مند رکھے کا بہت عظیم راز ہے۔

ہوتا یہ ہے کہ جب ہم معمول کے مطابق اپنی ضرورت سے زیادہ کھانا کھاتے رہتے ہیں تو جسم میں ایکسٹرا پروٹین، فیٹس اکٹھے ہو جاتے ہیں جو کہ جسم کی ضرورت سے زائد ہونے کے سبب حسم میں زہر کا کردار ادا کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
آج کی عام بیماریاں شوگر، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کا بنیادی سبب یہی ایکسٹرا فیٹس ہی بنتے ہیں۔
جب آپ کو بھوک لگتی ہے تو جسم کے "ہنگر جوسز” (hunger juices) یعنی جسم میں کھانا ہضم کرنے کا خود کار نظام پوری طرح سے تیار ہو جاتا ہے۔

اگر ہم نے سو لقمے کھانے تھے مگر ستر پر ہاتھ روک لیا تو باقی تیس لقمے کہ جن کی جسم کو ضرورت تھی جسم وہ ضروت ان ایکسٹرا پروٹین اور فیٹس کو کھا کر پورا کرتا ہے۔
جسم اپنے خودکار نظام کے تحت اکٹھے ہونے والے زہر کو ختم کرتا رہتا ہے اور آپ صحت مند رہتے ہیں۔
اب جب تین روز کچھ کوتاہی ہو گئی اور آپ نے پیر کو روزہ رکھ لیا تو دن بھر کے طویل روزے کے باعث آٹو فیجیا کے عمل کو ایکٹو ہونے کا بھرپور موقع ملتا ہے اور تین روز کی کوتاہی کو وہ ریپئر کر دیتا ہے پھر دو روز کے معمولات اور جمعرات کا پھر روزہ۔
جب یہ سنتِ رسولﷺ آپ کے معمولات کا حصہ بن جاتی ہے تو بیماری پیدا کرنے والے سیل آٹو فیجیا کا عمل ہفتے میں دو بار دہرائے جانے کے باعث اکٹھے ہی نہیں ہو پاتے اور آپ سدا صحت مند رہتے ہیں۔

آج ہم سائنسی تحقیقات پر بہت یقین رکھتے ہیں، کیا ہم اس انتظار میں ہیں کہ سائنس رسول اللہﷺ کی سنتِ مبارکہ کو پروف کرے تو ہم اللہ کے رسولﷺ کی سنتوں پر عمل کرنا شروع کریں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ سائنس رسول اللہﷺ کی سنتوں سے بہت پیچھے ہے اور آپﷺ کی ساری حیاتِ طیبہ، سنتیں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں اور انھی میں ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور راحتیں ہیں۔

لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِىۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ

(اے مسلمانو ! ) تمھارے لیے اللہ کے رسولﷺ (کی زندگی) میں ایک بہترین نمونہ ہے الأحزاب۔21″

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *