مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا وفاق المدارس کنونشن سے پہلا پالیسی ساز صدارتی خطاب

الحمد للہ، الحمد للہ رب العالمین، والصلوۃ والسلام علی سیدنا و مولانا خاتم النبیین و علی آلہ و اصحابہ و علی کل من تبعہم بإحسان إلی یوم الدین، جناب مولانا محمد حنیف جالندھری زیادہ مجدہ، ناظم وفاق المدارس العربیہ بلکہ قائد وفاق المدارس العربیہ ( حضرت یہ کہتے ہوئے مسکرائے) اور کس کس کا نام لوں، حضرات علماء و مشائخ!
السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے جامعہ خیرالمدارس بحیثیت طالب علم بارہا حاضری کا موقع ملا – وفاق المدارس کے مختلف اجتماعات میں بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی – مگر آج میں جس شرمندگی کے عالم میں یہاں حاضری دے رہا ہوں، اس کی کیفیت اللہ تبارک و تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہوں کہ آپ حضرات نے اپنے حسن ظن اور محبت کی بناء پر مجھے اس منصب پر بٹھایا، جو ہمارے اتنے جلیل القدر اکابر کا منصب ہے کہ ہم اپنے آپ کو ان کی خاک پا بھی نہیں سمجھتے –

گذشتہ رات جب پہلی بار میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر دفتر میں داخل ہوا اور اس کمرے میں میرے قیام کا انتظام کیا گیا، جس میں میرے استاذ گرامی، شیخ الکل حضرت مولانا سلیم اللہ خان قدس اللہ تعالیٰ سرہ تشریف فرما ہوئے کرتے تھے، جنہوں نے ستائیس سال وفاق المدارس کی اس طرح قیادت فرمائی کہ اس کی نظیر ملنی مشکل ہے – اپنی پوری زندگی وفاق کے لیے وقف کر دی – اور ان کے بعد ان کے فاضل بیٹے نے وفاق ہی کی راہ میں اپنی جان کی قربانی دی –

مزید پڑھیں: کراچی، آلودہ پانی کی وجہ سے صنعتوں کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا ہے، عبدالرشید

مولانا عادل خان شہید رحمۃ اللہ علیہ کو جس وقت جام شہادت پلایا گیا، وہ وفاق ہی کے کام کے سلسلہ میں میرے پاس تشریف لائے تھے، میرے بعد وہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن تشریف لے جانے والے تھے – راستہ میں ان کی شہادت ہوئی- میرے وہ عظیم استاذ جنہوں نے مجھے انگلی پکڑ کر چلایا، ان کی مسند پر، ان کے کمرے میں قیام کرنے میں سچی بات ہے، مجھے انتہائی شرمندگی معلوم ہوئی اور میں صحیح کہوں، رات کو میں سو نہیں سکا – مجھ جیسے آدمی کی وفاق المدارس العربیہ کے لیے صدارت پر مجھے حماسی کا وہ شعر یاد آتا ہے :

ذَهَبَ الَّذينَ يُعاشُ في أَكنافِهِم
وَبَقيتُ في خَلفٍ كَجِلدِ الأَجرَبِ

لیکن یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی سنت ہے کہ دنیا میں کوئی ہمیشہ کے لیے نہیں آتا، اور ان چھوٹوں پر ہی بعض اوقات ذمہ داری سنبھالنے کا فریضہ عائد ہوتا ہے جو علم و عمل میں بڑوں سے کوئی نسبت نہیں رکھتے – بہرحال یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فیصلہ ہے جو آپ حضرات کے ذریعہ کرایا گیا – مجھے ان بزرگوں کے تعلق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ ان شاء اللہ جب ذمہ داری عطا فرمائی تو نبھانے میں صحیح راستہ کی توفیق ضرور عطا فرمائیں گے –

جہاں تک وفاق کے مقاصد اور موجودہ صورت حال میں راستہ کی رکاوٹوں کا تعلق ہے، حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری، اللہ تعالیٰ ان کے عمر میں، علم میں برکتیں عطا فرمائے، نے اپنے خطاب میں وہ ساری باتیں کہہ دی ہیں، جو میں کہنا چاہتا تھا – اس میں کچھ اضافہ کی ضرورت نہیں ہے،تاہم اس کی تاکید کے طور پر یہ عرض کرتا ہوں :

اس وقت آپ یعنی اہل مدارس دنیا کی ساری غیر اسلامی طاقتوں کا ہدف و نشانہ ہیں اور خاص طور پر پر مغربیت جن کا ذکر حضرت مولانا شمس الحق افغانی قدس اللہ سرہ نے کیا اور جس کا حوالہ مولانا نے دیا، وہ در حقیقت اس راز کو اب سمجھ رہی ہے کہ دین کو اپنی جگہ سے ہلانے کے لیے ہم اس وقت تک مزید پڑھیں:

کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک ان مدارس کو ختم نہ کر دیں- یہی مدرسہ کا ملا ہے جو ہمارے تمام عزائم کے راستہ میں رکاوٹ ہے جو اپنی جان کی بازی لگا دیتا ہے لیکن دین کے کسی ایک حکم پر آنچ آنا گوارہ نہیں کرتا – یہ بات درحقیقت، انہیں سمجھ میں آ گئی –

اس لیے ان کی ساری توانائیاں اس پر صرف ہو رہی ہیں کہ اگر دین کو ختم کرنا ہے، اسلام کو ختم کرنا ہے تو ان مدرسہ کو کسی طرح قابو کر لو یا انہیں ختم کر دو العیاذ باللہ یا انہیں اس طرح جکڑ دو کہ وہ چوں کرنے کے قابل نہ رہے – میں نے مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک ہر اسلامی ملک کا دورہ کیا ہے اور وہاں کے حالات کا جائزہ لیا – جہاں جہاں مدرسے ختم ہوئے، وہاں مسلمانوں میں مغربیت کا سیلاب امڈ آیا –

اگرچہ وہاں آج بھی محقق علماء موجود ہیں، میں انہیں خود جانتا ہوں، میری ان سے دوستی ہے، ان کے ساتھ نشستیں رہی ہیں، علم و تحقیق کے میدان میں ان کا کوئی جواب ملنا مشکل ہے- لیکن ان سب پر حکومت کا شکنجہ کسا ہوا ہے – وہ جامعۃ الازہر، جس نے علامہ سیوطی کو پیدا کیا، آج وہاں سے سود کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا گیا، وہاں سے ایسے فتوے نکل رہے ہیں جو مجمع علیہ، مسلم امور کے خلاف ہیں – کیوں؟ اس لیے کہ جامعۃ الازہر اب حکومت کے ماتحت ہے –

ماتحت بننے کے نتیجہ میں ان پر حکومت کا پریشر آتا ہے، اور مدرسہ کی روح جو ان دریوں، بوریوں اور چٹائیوں پر پروان چڑھتی ہے، وہ روح وہاں سے غائب ہو چکی ہے – اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو حکومت چاہتی ہے، اس کا اشارہ چشم دیکھ کر اس کے مطابق فتوے بھی جاری ہو رہے ہیں –

پچھلے دنوں، ایک بڑی کانفرنس تھی جس میں عالم اسلام سے علماء آئے ہوئے تھے، اس میں، مجھ سے پہلے وہاں کے مفتی نے خطاب کیا – خطاب میں کہا : مجھے افسوس ہے کہ میں نے دینی جامعات و اداروں کا سروے کیا ہے – سروے سے مجھے معلوم ہوا کہ جتنے دینی مدرسے، جمعیتیں اور ادارے ہیں، وہ سب غیر مسلموں کے ساتھ پر امن زندگی گذارنے کے منکر ہیں – میں نے اپنے خطاب میں ان کی بات کا جواب بھی دیا اور بعد میں ان سے پوچھا کہ آپ نے سروے کیا ہے،حالانکہ غیر مسلم ممالک میں بہت سے مسلمان رہتے ہیں، انڈیا میں دیکھیے! مسلمان کتنے امن سے رہتے ہیں، آپ نے کیسے یہ بات کی؟

مزید پڑھیں: ستمبر 2021ء میں 2.7 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر آئیں: اسٹیٹ بینک

کہنے لگے : "جتنے لوگوں سے میں نے سوال کیا کہ کرسمس کے موقع پر عیسائیوں کو ہیپی کرسمس کہنا جائز ہے یا نہیں؟ تو اسی فیصد لوگوں نے جواب دیا کہ کرسمس چونکہ عیسائیوں کا دینی مذہبی شعار ہے، اس لیے ہیپی کرسمس کہنا ناجائز ہے، اس لیے میں سمجھا کہ یہ غیر مسلموں کے ساتھ پر امن بقاء باہمی کے قائل نہیں ہیں "- ان کے نزدیک جو ہیپی کرسمس کہنے کا قائل نہ ہو وہ بہت برا انسان ہے- غرض اتنی تحریفات کے دروازے کھل گئے، جس کا کوئی اندازہ نہیں –
مجھے یاد ہے آج سے بیس پچیس سال بلکہ اس سے بھی پہلے میں عراق میں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر ایک مدرسہ گیا، سرکاری مدرسہ تھا – مجھے پتہ چلا کہ وہاں ایک بہت بڑے اور پرانے عالم ہیں، میں ان کی زیارت کے لیے حاضر ہوا – انہوں نے مجھ سے پوچھا : آپ کیا کرتے ہیں؟ میں نے بتایا مدرسہ میں پڑھاتا ہوں، کہنے لگے : کیا پڑھاتے ہیں؟ میں نے جب کتابوں کے نام لینے شروع کیے اور اس میں کافیہ، شرح ملا جامی، شرح تہذیب جیسی کتابوں کے نام لینا شروع کیے تو وہ تقریباً چیخ کر کہنے لگے : تم خوش قسمت ہو کہ ابھی تک یہ کتابیں پڑھاتے ہو،ہمارے ہاں تو اس قسم کے علماء نہیں رہے، ان کے بغیر علم میں گہرائی، تعمق پیدا نہیں ہوتا، تقریباً رونے لگے –

تو، دوسرے تمام عالم اسلام پر انہوں نے نے اس لحاظ سے قبضہ جمالیا ہے، لیکن الحمد للہ! بر صغیر میں، علماء دیوبند اور دارالعلوم دیوبند کی برکت سے صرف پاکستان ہی نہیں، ہندوستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، تھائی لینڈ میں کوئی انہیں جھکا نہیں سکا اور پریشر میں لا کر ان سے کوئی ایسی بات نہیں کہلوا سکا جو مجمع علیہ امور کے خلاف ہو – یہ ان مدارس کی برکات ہیں –

اکابر کے اخلاص، تقوی کی برکات ہیں کہ جس کی وجہ سے ہم اب تک کم از کم نظریاتی طور پر صحیح ہیں – عمل میں ہماری کتنی ہی کوتاہی ہو، عملی اعتبار سے ہم کتنے ہی نیچے چلے گئے ہوں، لیکن الحمد للہ، نظریات اور عقیدہ کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم محفوظ ہیں تو یہ مدارس دینیہ کی برکت ہے –

وفاق المدارس العربیہ کا اتحاد ہمارے لیے عظیم نعمت ہے، بڑا سائبان ہے جس کے نیچے ہم اکٹھے ہو کر مسائل کا تذکرہ کر لیتے ہیں، بات کر لیتے ہیں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرتے ہیں –

میرے بھائیو! گذارش یہ ہے کہ اس بات کی میں تاکید کرتا ہوں وفاق المدارس کا فائدہ اسی وقت ہے، جب ہم متحد، متفق اور یکجان ہوں، ان مدارس دینیہ کی قیمت سمجھیں، ان کی اہمیت سمجھ کر اپنا معیار تعلیم اور معیار تربیت بلند کریں –

حضرت افغانی نے جو یہ فرمایا تھا کہ ہمارا مقابلہ مغربیت سے ہے، تو مغربیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنے ہتھیار بھی تیز کرنے ہیں یعنی ہمیں سمجھنا ہے کہ مغربیت کیا چیز ہے؟ اس کے پیچھے فلسفہ کیا ہے؟ وہ کن نظریاتی طاقتوں کے ذریعہ لوگوں پر چھائی ہے، کس وجہ سے چھائی ہے اور انہیں شکست دینے کے لیے ہمیں کس قسم کے طرز فکر کی ضرورت ہے، کس قسم کے طرز دعوت کی ضرورت ہے –

یہ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اسے سرانجام دیں – اللہ تبارک وتعالی نے ہر دور میں علماء کو ان کے دور کے تقاضوں کے مطابق خدمت دین کی توفیق عطا فرمائی ہے – آج ہم بھی اللہ تعالیٰ کی اس توفیق کے محتاج ہیں –

اس لیے ہمیں اس طرز فکر کو باقی رکھنے اور مغربیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ متحد اور یکجان ہوں، دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہوتا ہے کہ تقسیم کرو، پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو – اس سے اپنی حفاظت کرنی ہے، دوسرا یہ کہ اپنے حالات کا جائزہ لے کر اپنی تعلیم کو زیادہ مستحکم، مضبوط اور ایسا کرنا ہے کہ مغربیت کا مقابلہ کر سکیں –

کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ وفاق کا سفر جو مسلسل جاری ہے اور الحمد للہ ابھی تک رو بترقی رہا ہے، اس میں اپنے طور پر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر یقین کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ترقی کا یہ سفر ان شاء اللہ جاری رہے گا، دنیا کی کوئی طاقت اسے ختم نہیں کر سکتی –

مزید پڑھیں: حکومت سندھ کا تعلیمی بورڈز کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ نہ روک سکا

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم نہ کسی کے دشمن ہیں اور نہ مدہن ہیں – اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بھروسہ پر کہتا ہوں کہ ہم کسی موقعہ پر بھی ادنیٰ مداہنت کو گوارا نہیں کر سکتے – مجھے اب آپ حضرات نے وفاق کا صدر بنایا لیکن پہلے بھی تھوڑی بہت وفاق کی خدمت کرنے کی توفیق ہوئی ہے، اس میں جو خدمت سر انجام دی گئی تو الحمد للہ بڑے بڑے صاحب جاہ و جلال لوگوں سے گفتگو ہوئی ہیں، تیز و تند گفتگو بھی ہوئی، اللہ تبارک وتعالی کے فضل و کرم سے میرا یہ جملہ ان کے دلوں پر لکھا ہوا ہے کہ ہم مدرسہ کا ادنی رشتہ بھی سرکار کے ساتھ قائم نہیں کریں گے- اس لیے نہیں کہ ہم سرکار کے دشمن ہیں، اس لیے کہ سرکار کے ماتحت آ جانے کے بعد ہم اپنے مذاق و مزاج کو اس طرح محفوظ نہیں رکھ سکتے، جس طرح آزادی و خود مختاری کی حالت میں قائم رکھ سکتے ہیں –

میں نے آپ کو جامعۃ الازہر کی مثال دی کہ جو کوئی بھی سرکار کے ماتحت آیا، اس کا تسلط باقی نہ رہا، اپنے اقدار کے تحفظ کے لیے قربانی دینے کا جذبہ باقی نہ رہا – اس لیے ہم حکومت کے ساتھ صرف ایک رشتہ قبول کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہماری رجسٹریشن ہو، پہلے سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن تھی، اب وزارت تعلیم کے ساتھ بادل نخواستہ منظور کر لیا ہے – رجسٹر ہونے کا یہ معنی نہیں کہ ہم ان کے ماتحت آ گئے، یا ان کے تمام شرائط و قواعد کو تسلیم کر لیا یا وہ ہم پر ہیئت حاکمہ بن گئے، یہ باتیں ہمیں کسی قیمت قبول نہیں اور نہ ہی ان شاء اللہ کریں گے –

دین، اسلام کی بقاء کے لیے اسے ہم ضروری سمجھتے ہیں – ان شاء اللہ، ہم اپنے اس مقصد میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ضرور کامیاب ہوں گے، مدارس کی اس شکل کو کوئی ختم نہیں کر سکتا، البتہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اکابر کے طریقہ پر قائم رہیں، اپنے نظام کو زیادہ مستحکم و مضبوط بنائیں، تعلیم و تربیت کو مضبوط بنائیں، ہمارے اندر ایسے واقعات نہ ہوں جو مدارس کی بدنامی کا سبب بنیں، ہمارے اندر ایسی باتیں نہ ہوں کہ جو مدارس پر انگلی اٹھنے کا سبب ہوں، مثلاً کوئی یہ کہہ سکیں کہ مدارس کے مالی معاملات میں احتیاط نہیں، مالیات میں احتیاط اکابر کی میراث ہے، جیسے مدرسہ اکابر کی میراث ہے ایسے ہی تقویٰ و احتیاط بھی میراث ہے – جب تک اس پر قائم رہیں گے، ان شاء اللہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں نہیں مٹا سکتی -ہمیں آپ سب حضرات کے تعاون کی ضرورت ہے، آپ میں سے ہر مہتمم، ہر مدرسہ جہاں بھی ہے، وہ اس عظیم مقصد کا ایک ادارہ ہے –

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *