ڈنمارک کے قبرستان کی پھول گلی ہمیں کیا پیغام دیتی ہے؟

اسکینڈے نیویا کے علاقوں میں اُداس اور اندھیری سردیوں کے بعد چیری کے پھولوں سے بہار کی آمد کا سہرا لکھا جاتا ہے، اس کے بعد خوبانی، آڑو، آلوبخارہ، سیب اور ناشپاتی جیسے پھلوں پر پھولوں کے ایک خوبصورت سلسلے کا آغاز ہوجاتا ہے۔ میری شریکِ حیات چند ماہ پہلے پاکستان سے یورپ آئیں تو انہوں نے چیری بلاسم دیکھنے کی آرزو کی۔

21 اور 22 اپریل کو ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں واقع بس پی بیا نامی قبرستان میں چیری کے پھولوں پر بہار دیکھنے کی تقریب منائی جا رہی تھی۔ ان پھولوں کو دیکھنے کا یہ ایک زبردست موقع تھا لیکن اس دن میں جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں تھا اور واپسی کے بعد اگلے 2 دن موسم ابرِ آلود تھا۔ محکمہ موسمیات نے آج کے دن بھی ملے جلے موسم کی پیش گوئی کی تھی، لیکن آج جانا بہت ضروری تھا کیونکہ جتنی تاخیر ہوگی، پھولوں کے رنگ اتنے ہی پھیکے پڑتے جائیں گے اور پتوں کے نکلنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

آپ بھی ایک لمحے کو سوچیں گے کہ قبرستان اور پھولوں کی نمائش؟ لیکن ان یورپی قبرستانوں کی خوبصورتی تو ہمارے کئی لکھنے والوں نے اپنے خیالوں میں سموئی ہے۔ میں نہیں کہتا کہ اقبال کا یہ مصرعہ کسی قبرستان کو دیکھ کر لکھا گیا ہے لیکن مجھے آج برمحل سا لگا:

افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند

یہ قبرستان تقریباً ایک صدی پرانا ہے اور شہر کے شمالی علاقے میں واقع ہے۔ قبرستان کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوں تو یوں لگتا ہے کہ آپ کسی پارک میں داخل ہو رہے ہیں۔ دروازے کے ایک طرف ایک بے گھر اخبار بیچنے والی عورت نے ہم پر مسکراہٹ نچھاور کی، اسے بھی اندازہ تھا کہ ہم اس کی مسکراہٹ کے خریدار نہیں لیکن وہ ایک فیاض عورت تھی، اس نے کنجوسی نہیں کی اور میں نے بھی احترام میں سر جھکا دیا۔ بائیں طرف کولڈ ڈرنکس اور پولسے کا اسٹال لگا تھا، سامنے ہی فورستھیا نامی پیلی جھاڑیوں کے رنگوں نے بہار کی موجودگی کا احساس دلایا۔ مجھے ایک بار بھی محسوس نہیں ہوا کہ میں کسی قبرستان آیا ہوں، بلکہ مجھے تو کسی چمن زار میں آجانے کی خوشی کا گماں غالب تھا۔ سامنے ہی ایک چھوٹے سے بورڈ پر ڈینش اور انگریزی زبان میں اس سمت کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں پھولوں والی گلی تھی۔

ہم نے قبرستان کے سامنے گاڑی پارک کی،

چیری کے پھولوں والی یہ گلی 1992ء میں بنائی گئی تھی۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ مختصر ترین میعاد کے لیے آنے والے اس موسم میں پھولوں والی گلی میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب لوگ آتے ہیں۔ ہم جیسے کئی دیگر لوگ بھی پھولوں کو دیکھنے پہنچے ہوئے تھے، ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کچھ ایسے بھی لوگ ہوں جنہیں اپنے پیاروں کی یاد ستائی ہو اور وہ ان کی قبروں پر پھول رکھنے آئے ہوں، لیکن اکثر لوگ یہاں ٹہلنے کی غرض سے یا اپنے بچوں کو سیر کروانے یا پھر خصوصی طور پر اس پھول گلی کو دیکھنے کے لیے آئے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔

موسم مسلسل پہلو بدل رہا تھا، کبھی دھوپ آ جاتی تو کبھی بادل سورج کو چھپا دیتے۔ قبروں کے کتبے پڑھتے ہم اس پھول گلی تک پہنچ گئے، پھولوں کی جوانی ڈھلنے کو تھی اور گزشتہ ایک دو روز کی بارشوں نے بھی پھولوں کا رنگ کچھ دھیما کردیا تھا، لیکن پھر بھی ان کے مستانے رنگ روپ کو دیکھنا ایک خوبصورت تجربہ تھا۔ 400 سے 500 میٹر طویل گلی تھی جو ایک طرف سے اس قبرستان میں داخلی دروازے کے طور پر بنائی گئی تھی۔ قبرستان میں چیری بلاسم کی چھاؤں میں درجنوں افراد اس لمحہ خوش رنگ کو جینے کے لیے آئے تھے، جبکہ گلی میں ہر تھوڑے فاصلے پر رکھی گئی بینچوں پر بیٹھے کچھ لوگ اپنی یادوں میں رنگ بھر رہے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ میری پودوں اور پھولوں سے محبت کچھ زیادہ ہی ہے۔ میرے لیے ان پھولوں کو دیکھنا خوشنما احساس کا باعث بنا، جب میں گھر سے چلا تھا تو طبیعت کچھ تھکی تھکی سی تھی، لیکن ان رنگوں نے مجھے تازہ دم کردیا تھا۔ بارش کے اثرات کو دیکھ کر دل کچھ کچھ مغموم ہوتا تھا کہ کاش 3 دن پہلے آیا ہوتا لیکن کسی یار آشنا سے ملاقات تاخیر کا شکار بھی ہوجائے تو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ میں نے اس پھول والی گلی میں لوگوں کو نہیں دیکھا بس پھول ہی دیکھے، گلابی پھولوں کا گلابی رنگ ہلکا ہلکا مدہم ہوگیا تھا، لیکن کہیں کہیں تازہ پھولوں میں رنگ کی تیزی کو محسوس کیا جاسکتا تھا۔

کبھی کبھی ان پھولوں سے ہٹ کر ارد گرد موجود لوگوں پر نظر پڑتی تو وہ بھی کچھ میری طرح ان رنگوں میں منہمک نظر آتے۔ ایک ماں اپنے ننھے بچے کی اس منظر میں تصاویر بنوانے کی خواہش مند تھی، فوٹوگرافر گھاس پر لیٹ کر بچے کی مسکراہٹ کو تصویر میں قید کرنا چاہ رہا تھا، کچھ جوڑے اپنے بوسے کو اس گلی میں سیلفی بنانے کی کوشش میں مگن تھے، کچھ لڑکیاں ان پھول بھری شاخوں کے پاس جا کر اپنی تصویر کھنچوانے کے لیے بے چین تھیں، دور ایک فوٹو گرافر اپنی ماڈل لڑکی کو ان پھولوں کے ساتھ تصویر کھنچنے کی سعی کر رہا تھا۔ چند بوڑھے بینچوں پر بیٹھے کسی پرانی یاد کو تازہ کر رہے تھے، جبکہ میں ایک ایک پھول کو اس کی مسکراہٹ لوٹانے کی فکر میں تھا۔

جیسے ہمیں لگتا ہے کہ سب چینی باشندے ایک جیسے ہوتے ہیں، بالکل ویسے ہی کچھ گوروں کو لگتا ہے کہ ہم تمام دیسی بھی ایک ہی جیسے ہوتے ہیں، شاید اسی طرح دنیا میں کئی لوگ سمجھتے ہوں گے کہ ایک ہی رنگ کے تمام پھول ایک ہی جیسے ہوتے ہیں، مگر جب ہم مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں ہر فرد کی ایک انفرادی خوبصورتی اور نقوش ہیں، لہٰذا درختوں پر اگنے والے سب پھول بھی ایک ہی جیسے نہیں ہوتے، ان کو الگ الگ دیکھنا پڑتا ہے، ویسے بھی نازک اندام لوگوں کو شناخت کا مسئلہ کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے، ہر کسی کو ایک ہی پلڑے میں رکھ کر تو نہیں تولا جاسکتا ناں۔

ایسے ہی ان لاکھوں پھولوں کے ہجوم میں سے ہزاروں سے آنکھیں ملائیں، ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت چہرہ تھا، کیا شربتی، کیا شرابی، گلابی رنگ کی لہروں میں ہر شاخ ڈوبی پڑی تھی۔ یہ ایک گھنٹہ دنیا سے ہٹ کر تھا۔ کہیں پہلو سے آواز آئی کہ اب چلتے ہیں، میں نے کہا بس کچھ دیر اور لیکن فراز نے کہا تھا کہ

تیری قربت کے لمحے پھول جیسے

مگر پھولوں کی عمریں مختصر ہیں

آج اس شعر نے ایک نئے معنی کا دروازہ کھولا تھا، پہلے مجھے لگتا تھا کہ اس شعر میں مخاطب بس ایک ہی ہے، اور آج لگا کہ نہیں آج گل کے روبرو کوئی اور گل ہے۔

اس گلی سے کیا واپس پلٹے کہ پھر قبرستان تھا، لیکن یہ قبرستان بھی ایک چمن زار کا ٹکڑا ہی ہے، اس سے پہلے بھی مجھے کئی دیگر قبرستانوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے، مگر خوبصورتی کے لحاظ سے اس کا کوئی ثانی نہیں۔

زیادہ قبروں کے کتبے دیکھ کر یہی لگتا تھا کہ یہ ایک مسیحی قبرستان ہے، لیکن ایک حصے میں کچھ کتبوں پر کلمہ طیبہ بھی لکھا دیکھا۔ یہاں پر تقریباً سبھی قبریں زمین کے ساتھ ہموار کرکے بنائی گئی ہیں، جن کے اردگرد کچھ موسمی پودے اور پھول بھی لگائے گئے ہیں۔ پورے قبرستان میں شاید ہی کوئی گوشہ ایسا ہوگا جو سرسبز نہ ہو۔

قبرستان کے اندر موجود چرچ کی دیوار پر لگے نقشے سے مجھے پتہ چلا کہ قبرستان کو سہولت کے لیے مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جیسے چھوٹے بچوں کے لیے ایک الگ حصہ مختص تھا۔ جب میں نے اس قبرستان کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو مجھے اس قبرستان میں دفن مشہور لوگوں کی ایک لمبی فہرست ملی، جن میں اکثریت مصنفین، پینٹرز اور فن کاروں کی ہے جبکہ کچھ نام سیاستدانوں کے بھی شامل ہیں۔ جی ہاں اس سے پہلے رگا لیٹویا کے بلاگ میں بھی میں نے تذکرہ کیا تھا کہ لوگ اپنے فنکاروں کو اپنے مشاہیر مانتے ہیں، اسی لیے ان کے مجسموں سے شہر کے باغیچے اور بازار بھرے پڑے ہیں۔

بلاشبہ قبرستان مقامِ عبرت ہوتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں تو نشانِ عبرت بھی بنے ہوئے ہیں۔ ان میں چلنے کے لیے مناسب راستے بنانے میں، درخت لگانے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ ڈنمارک کے اس قبرستان کی یہ پھول گلی ہمیں پیغام دیتی ہے کہ جن بستیوں میں ہم اپنے پیاروں کو چھوڑ آتے ہیں، ان کو خوبصورت کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔

تحریر: رمضان رفیق

سورس

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *