نیب کو کاروباری مشاورتی کمیٹی کا اجلاس بلانا چاہیے، صدر ایف پی سی سی آئی

کراچی : ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کودو سال قبل کاروباری برادری کے ساتھ بنا ئے جانے والی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بلانا چاہیے؛کیونکہ اس کا اجلاس دو سال میں اب تک صرف ایک بار ہی ہوا ہے۔اس کمیٹی کا مقصد کاروباری برادری کی نیب کیسز سے متعلق شکایات کو حل کرنا اور نیب کو کسی عہدیدار کے اختیارات کے غلط استعمال کی اطلاع دینا ہے۔

میاں ناصر حیات مگوں نے نیب کو یقین دلایا ہے کہ کاروباری برادری صرف ان شکایات اور تجاویز کو سامنے لائے گی جو جائز،جینوئن اور مفید ہوں۔ مزید برآں، ایف پی سی سی آئی پاکستان میں شفافیت اور احتساب کے قوانین کو سمجھنے کے لیے ایس ایم ایز میں بیداری پیدا کرنے کی نیب کی کوششوں کی حمایت بھی کرے گا۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہا کہ 6 رکنی کاروباری مشاورتی کمیٹی کا باقاعدئیگی سے اجلاس ہونا چا ہیے تھا تاکہ اسے متعلقہ اور موثر رکھا جا سکے اور کاروباری اداروں کو تاخیر یا نقصان کے بغیر ان کے جائز مسائل کا حل فراہم کیا جا سکے۔یہ بات قابل غور ہے کہ نیب نے بزنس کنسلٹیٹیو کمیٹی کی سفارشات کی جانچ پڑتال کے لیے نیب کے اعلیٰ عہدیداران پر مشتمل 3 رکنی جائزہ کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔

میاں ناصر حیات مگوں نے تجویزپیش کی کہ نیب کی کاروباری مشاورتی کمیٹی کے تمام ارکان کو ذاتی نامو ں کے بجائے عہدے کی بنیاد پر کمیٹی کا رکن ہونا چاہیے۔ اس طرح کمیٹی کو ادارہ جاتی انداز میں چلایا جا سکتا ہے اور پاکستان کی پوری کاروباری، صنعتی اور تجارتی برادری کی نمائندہ کمیٹی بنایا جا سکتا ہے۔

میاں ناصر حیات مگوں نے بطور صدر ایف پی سی سی آئی ایک بار پھر نیب کے لیے اپنی مکمل تائیدو حمایت کا اعادہ کیا ہے اور ایف پی سی سی آئی کے کاروباری برادری کے اعلیٰ تر ین اور نمائندہ پلیٹ فارم کو پاکستان کی کاروباری برادری کے ساتھ رابطے کے لیے استعمال کرنے کی تجویز پیش کی ہے؛ تا کہ دونوں ادارے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

ایف پی سی سی آئی تجویز پیش کرتا ہے کہ نیب کو ہر سہ ماہی میں کم از کم ایک بار اپنی کاروباری مشاورتی کمیٹی کا اجلاس بلانا چاہیے؛ تاکہ تبدیل ہوتے کاروباری اور معاشی چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *