بیمار پُرسی کرنے والا جنت کے باغ میں رہتا ہے

بیمار شخص کی عیادت بیمار پرسی بھی بڑے اجر و ثواب کا عمل ہے اور آنحضرت ﷺ نے ہر مسلمان کے ذمے دوسرے مسلمان کے جو حقوق بیان فرمائے ہیں ان میں بیمار پرسی بھی داخل ہے بعض فقہا نے اسے واجب تک کہا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ سنت ہے ۔

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "جب کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی بیمار پرسی کرنے جاتا ہے تو وہ مسلسل جنت کے باغ میں رہتا ہے” (صحیح مسلم کتاب البر والصلہ و ترمذی کتاب الجنائز)

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ "جو کوئی مسلمان صبح کے وقت کسی دوسرے مسلمان کی عیاد کو جاتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کیلئے دعائے خیر کرتے رہتے ہیں اور اگر وہ شام کے وقت کسی کی عیادت کو جاتا ہے تو اگلی صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے حق میں دعائے خیر کرتے رہتے ہیں۔ اور اس کو جنت کا ایک باغ عطا کیا جا تا ہے” (ترمذی ، کتاب الجنائز حدیث 969)

مزید پڑھیں: ملک میں صنعتی تعلقات اور مزدور قوانین کے نامور اور تجربہ کار استاد ” ڈاکٹر سید غیور الحسن” سے ملاقات

آنحضرت ﷺ کا مستقل معمول تھا کہ اپنے ملنے جُلنے والوں میں سے کسی کی بیماری کی اطلاع ملتی تو اس کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے عیادت کے آداب میں سے یہ ہے کہ مریض کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اس کا حال پوچھا جائے۔ بشرطیکہ ہاتھ رکھنے یا حال پوچھنے سے اس کو تکلیف نہ ہو اگر تکلیف کا اندیشہ ہو تو نہ ہاتھ رکھنا چاہیئے نہ حال پوچھنا چاہیئے۔ ایسے میں تیمار داروں سے خیریت دریافت کر لینا کافی ہے۔

آنحضرت ﷺ نے بیمار کی عیادت کے وقت سات مرتبہ یہ دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے ۔ "أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك” ترجمہ: "وہ اللہ جو خود عظیم ہے اور عظیم عرش کا مالک ہے، میں اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا فرمائے”۔

مزید پڑھیں: جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور جناح اسپتال کے درمیان راہداری کا افتتاح

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کی موت کا وقت ہی نہ آچکا ہو اس کو اس دعا کی برکت سے اللہ تعالی شفا عطا فرمادیتے ہیں (ابوداؤد کتاب الجنائز وترمذی کتاب الطلب)

آنحضرت ﷺ مریض کی عیادت کے وقت بہ کثرت یہ دعا بھی پڑھا کرتے تھے ۔ "اذهب البأس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاءك شفاء لا يغادر سقما” ۔ ترجمہ: "ائے تمام لوگوں کے پروردگار، تکلیف کو دور فرما دیجئے اور شفا عطا فرمائیے، آپ شفا دینے والے ہیں آپ کے سوا کوئی شفا نہیں دے سکتا۔ ایسی شفا دیجئے جو بیماری کا کوئی حصہ نہ چھوڑے”

نیز بیمار کو دیکھ کر یہ بھی ارشاد فرماتے تھے۔ "لاباس ، طهور إن شاء الله” ۔ ترجمہ: "تمہارا نقصان نہ ہو یہ بیماری انشاءاللہ تمہارے لئے پاکی کا موجب ہوگی”۔

مزید پڑھیں: کامیڈی کنگ اور اسٹیج کے بے تاج بادشاہ عمر شریف انتقال کرگئے

لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام میں جتنی فضیلت بیار پرسی کی بیان کی گئی ہے ۔ اس سے زیادہ تاکید اس بات کی کی گئی ہے کہ اپنے کسی عمل سے مریض کو ذرا بھی تکلیف نہ پہنچے جس عیادت سے بیمار یا تیمارداروں کو زحمت اٹھانی پڑے، اس سے ثواب کے بجائے گناہ کا شدید خطرہ ہے۔ چنانچہ اگر مریض کے لئے کسی شخص سے ملاقات مضر ہو تو ایسے میں ملاقات پر اصرار کرنا بالکل نا جائز ہے۔ ایسے میں باہر ہی باہر سے حال معلوم کر کے آجانے اور دعا کرنے سے عیادت کی فضیلت حاصل ہوجاتی ہے۔ مریض کو جتانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اگر مریض کا دل خوش کرنا مقصود ہو تو تیمارداروں سے کہہ دیا جائے کہ وہ کسی مناسب وقت پر مریض کو اطلاع کر دیں کہ فلاں شخص آپ کی عیادت کے لئے آیا تھا اور آپ کے لئے دعا کرتا ہے۔

اسی طرح حدیث میں اس بات کی بھی تاکید کی گئی ہے کہ جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لئے جائے وہ اس کے پاس زیادہ دیر نہ بیٹھے۔ بلک مختصر عیادت کر کے چلا آئے، کیونکہ زیادہ دیر بیٹھنے سے اکثر مریض کو تکلیف ہوتی ہے۔ ہاں جس بے تکلف شخص کو خود مریض اپنی تسلی یا دل بستگی کے لئے بٹھانا چاہے۔ اس کے بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

عیادت کے لئے مناسب وقت کا انتخاب بھی نہایت ضروری ہے، ایسے وقت میں عیادت کو جانا درست نہیں ہے جب مریض کے آرام یا دیگر معمولات میں خلل آئے، لہذا تیمارداروں سے پہلے ہی پوچھ لینا چاہیئے کہ عبادت کا مناسب وقت کیا ہوگا؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *