آزادیِ صحافت اور جمہوریت

تحریر: شاکر احمد خان

جمہوریت اور صحافت دونوں لازم ملزوم ہے یہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا اگر ہاں تو آپ نے بالکل درست سنا ہے۔ کہ جہاں جہاں جمہوریت ہوگی وہاں وہاں صحافت کا ہونا ضروری ہے۔ اس لیے کہ جمہوری نظام ترتیب اس انداز سے دیا گیا ہے کہ اس کی تین بنیادی ستونوں میں انسانی حقوق،قانون کی حکمرانی اور شراکت داری شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: صحافتی تنظیموں کی جانب سے میڈیا ڈيولپمنٹ آرڈيننس مسترد

اب ان تینوں نکات پر کڑے پہرے کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک طرح سے ان کا احتساب بھی ہوناچاہیے ، نگرانی کا یہی رول میڈیا ادا کرتاہے۔ میڈیا کا کردار ایک آئینہ اورشیشے کا ہوتا ہے وہ حکومت اور معاشرے کو آئینہ دکھا کر ان کا کردارواضح کرتا ہے اور کمزوریوں کی نشاہدہی کرتا ہے۔اب آئینہ میں اپنا دھندلا عکس دیکھ کر عقل مند لوگ اپنے اس دھبے کو دھونے اور اور کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اپنی خرابیاں اور کمزوریاں دور کرنے کے بجائے بعض لوگ میڈیا سے کہتے ہیں کہ آپ کے آئینہ پر دھند چھائی ہے اور چونکہ اس میں ہمارا کردار ہماراعکس ہماری خواہشات اور توقعات کے مطابق نہیں دکھتا لہذا ہم تمہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے تم ہمارا کردار دوسروں کو دکھاتے پھرو۔

جی ہاں اور یہ کام زیادہ تر حکومت کرتی ہے۔یہی وجہ ہےکہ کوئی بھی سیاسی پارٹی جب تک اپوزیشن میں ہوتی ہے تو میڈیا کی آزادی کی گھن گھاتی پھرتی ہے مگر جیسے ہی وہ اقتدار کی باگیں سنبھالتی ہے میڈیا ان کے نظروں میں کھٹکنے لگتا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی اس ناااہلی اور کمزوری کو عوام کے سامنے لانا ہوتا ہے جو حکومت کبھی نہیں چاہتی۔ حالانکہ اگرتعصب کاعینک اتار کر دکھا جائے تو میڈیا کی آزادی خود حکومت کے حق میں ہےکہ انہیں اپنی کمزوریاں نظر آئے اور وہ ان کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرے، مگر جہاں مقصد ہی اپنی نااہلی اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنا ہووہاں اس آئینہ کو ہی موردالزام ٹہرایا جاتا ہے جس میں اپنا عکس دھندلا اور کرپشن زدہ نظرآتا ہو۔

مزید پڑھیں: صحافت میں اگر مزاحمتی آہنگ باقی نہ رہے

اب میڈیا کو خاموش کرانے کیلئے مخصوص اور زیادہ ایکٹو نظر آنے والے صحافیوں کو قابو کرنے کیلئے میڈیا مالکان کے ذریعے دباو ڈالا جاتا ہے، ان کا پروگرام آف ایئر کروایا جاتا ہے اور ان کےکالم کو پبلش کرنے سے روکاجاتا ہے۔ بسا اوقات ان کو ڈرانے کیلئےکرائےکے غنڈوں سے پٹائی بھی کروائی جاتی ہے مگر چونکہ یہ کوئی مستقل حل نہیں ہوتا اور وہ ڈرتےبھی ہیں کہ کہیں یہ ہتھکنڈے مصیبت مول لینے کے مترادف نہ ہوتوان ہتھکنڈوں کو قانونی حیثیت دینے کیلئے پارلیمنٹ میں بل لایاتا جاتا ہے تاکہ اس کےذریعے ان تمام ظلم و جبر کو جائز ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل ہواور یہی آج کل موضوع بحث بنے پی ایم ڈے اے کا معاملہ ہے۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *