سردارانِ قریش کی پیشکش

ایک بار سردارانِ قریش عمارہ بن مغیرہ نامی ایک نہایت خوبرو نوجوان کو لئے ہوئے آپ ﷺ کے سرپرست اور چچا یعنی ابوطالب کے پاس پہنچے اور انتہائی احمقانہ قسم کی پیشکش کرتے ہوئے کہا: ’’اے ابوطالب! آپ اس خوبرو نوجوان کو اپنا فرزند بنا لیجئے… اور اپنے بھتیجے محمد (ﷺ) کو ہمارے حوالے کر دیجئے۔‘‘
اس پر ابوطالب نے جواب دیا: ’’واہ … کیا خوب مشورہ ہے… کہ میں اپنے فرزند کو تو تمہارے حوالے کردوں… تا کہ تم اسے ہلاک کر ڈالو… اور تمہارے لڑکے کی پرورش میں اپنے ذمے لے لوں؟‘‘
ابوطالب کی زبانی یہ جواب سن کر وہ لوگ کھسیانے ہو کر وہاں سے چلتے بنے۔
یوں جب ان کی تمامتر عیاریاں بے کار وبے سود ثابت ہوئیں… تو آخر وہ جھنجھلااٹھے… اور تنگ آ کر ایک روز وہ باقاعدہ وفد کی شکل میں ابوطالب کے پاس پہنچے، جب سخت گرمی پڑ رہی تھی، جھلسا دینے والی لو کے جھکڑ چل رہے تھے، سورج سروں پر آگ برسا رہا تھا، گرمی کی شدت کی وجہ سے ہر کوئی اپنے گھر میں دبکا بیٹھا ہوا تھا… ایسے میں یہ لوگ خلافِ معمول ٗ اچانک اور بے وقت ابوطالب کے پاس جا پہنچے، مزید یہ کہ ان کے تیور بھی کافی بدلے ہوئے تھے… انداز… اور لب و لہجہ بھی بدلا ہوا تھا… یہ سب کچھ دیکھتے ہی ابوطالب نے معاملے کی نزاکت کو فوراً ہی بھانپ لیا، اور ان سے یوں اچانک اور بے وقت آمد کی وجہ دریافت کی۔
جس پر انہوں نے کہاکہ: ’’اے ابوطالب! ہمارے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا ہے… ہم اپنے بتوں اور بزرگوں کے خلاف اس طرح اس نئے دین کی نشر و اشاعت کو کسی صورت گوارا نہیں کرسکتے… اب یا آپ اپنے بھتیجے کو لگام دے دیجئے… ورنہ ہم نے ٹھان لی ہے کہ … ہم دونوں فریقوں میں سے کوئی ایک ضرور ہلاک ہو جائے گا۔‘‘
اس دھمکی نے ابوطالب کو پریشان کر دیا، کیونکہ انہیں اس بات کا خوب احساس و ادراک تھا کہ قریش اپنی بات کے خوب پکے ہوتے ہیں، جو ٹھان لیتے ہیں وہ ضرور کر گذرتے ہیں… !
لہٰذا ابوطالب نے آپ ﷺ کو بلوایا، آپ ﷺ سوچ میں پڑ گئے کہ اتنی تپتی ہوئی دوپہر میں چچانے بلوایا ہے… نہ جانے کیا معاملہ ہے…؟ آپ ﷺ چچا کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے لاڈلے بھتیجے کو مخاطب کرتے ہوئے بڑے ہی درد انگیز لہجے میں کہا: ’’بھتیجے! میرے کندھوں پر اتنا بوجھ نہ ڈالو… جسے میں برداشت نہ کرسکوں۔‘‘
اپنے مشفق و مہربان چچا کی زبانی یہ بات سن کرآپ ﷺ کو یہ خیال گذرا کہ شاید اب میرے چچا میری مدد و حمایت سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں۔
یہ سوچ کر آپ ﷺ نے جواب دیا: ’’اے میرے چچا! اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لا کر رکھ دیں… تب بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑ سکتا… یہاں تک کہ اللہ خود اس کام کو پورا کردے… یا میں خود اس کوشش میں ہلاک ہو جاؤں…‘‘
آخری جملہ کہتے کہتے آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اور آپ ﷺ وہاں سے اٹھ کر جانے لگے، ابھی آپ ﷺ وہاں سے چلے ہی تھے کہ… لاڈلے بھتیجے کا یہ حال ابوطالب سے دیکھا نہ گیا، بھتیجے کی آنکھوں میں آنسو… ابوطالب کے دل پر تو بس چھریاں ہی چل گئیں… اور بے اختیار پکار اٹھے… ’’بھتیجے!یہاں آؤ… میرے پاس…‘‘ چچا کی اس پکار پر آپ ﷺ کے بڑھتے ہوئے قدم اسی جگہ رک گئے، اور آپ ﷺ واپس پلٹے، چچا کے پاس پہنچے تو انہوں نے شفقت بھری نگاہ ڈالتے ہوئے کہاـ: ’’بھتیجے! جو جی میں آئے کرو… میں تمہارا ساتھ ہر گز نہ چھوڑوں گا۔‘‘
[جاری ہے]

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *