برطانیہ کے بارے میں دلچسپ معلومات

برطانیہ (GB) یا مملکت متحدہ (United kingdom) جسے مختصراً برطانیہ یویو کے (UK) لکھا جاتا ہے، مغربی یورپ کا اہم ملک ہے اس کا رقبہ 244،880 مربع کلومیٹر اور آبادی 6 کروڑ سے زیادہ ہے جس میں 84 فیصد انگریز، 9 فیصد سکاٹ، 5 فیصد ویلش اور 3 فیصد آئرش ہیں۔ اس میں جزیرہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ شامل ہیں۔ اس کے شامل ہیں۔ اس کے شمال میں بحراوقیانوس، جنوب میں رودبار انگلستان (English Channel)، مشرق میں بحیرہ شمالی اور مغرب میں بحیرہ آئرش، آئرلینڈ اور بحیرہ سیلٹک واقع ہیں۔ جزیرہ آئرلینڈ جمہوریہ آئرلینڈ اور شملی آئرلینڈ (برطانوی) میں بٹا ہوا ہے۔ بحیرہ آئرش جزیرہ برطانیہ کو جزیرہ آئرلینڈ سے جدا کرتا ہے۔
 
برطانیہ عظمی میں درج ذیل چار اکائیاں شامل ہیں
انگلستان ( England)
سکاٹ لینڈ
ویلز
شمالی آئرلینڈ
 
انگلینڈ والے انگریز اور ویلز والے ویلش کہلاتے ہیں۔ جنوبی انگلستان کا مشہور دریا ٹیمز ہے جس کے کنارے لندن واقع ہے جو انگلستان اور برطانیہ کا دارالحکومت اور دارالسلطنت ہے۔ برطانوی مقبوضات میں جبرالٹر، برٹش ویسٹ انڈیز، برمودا، جزائر فاکلینڈ، ساؤتھ جارجیا، سینٹ ہیلینا، اسنشن (بحراوقیانوس) اور مجمع الجزائر چاگوس ( بحرہند) شامل ہیں۔
جغرافیائی لحاظ سے برطانیہ ( Britain) ، ویلز، سکاٹ لینڈ اور چھوٹے چھوٹے ملحقہ جزائر شامل ہیں ۔ 1603ء میں جب انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کی بادشاہتیں متحد ہوئیں تو اسے برطانیہ کہا جانے لگا۔ جیمز اول شاہ برطانیہ عظمی king of great britain کہلایا اور 1707ء میں انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹوں کے اتحاد سے مملکت متحدہ وجود میں آئی۔
سلطنت برطانیہ اپنی وسعت کے اعتبار سے تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت تھی اور کافی عرصے تک یہ ایک عالمی طاقت رہی۔ 1921ء کو اپنی طاقت اور وسعت کی انتہا پر یہ 33 ملین مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی تھی اور اس کے زیر نگیں 45 کروڑ 80 لاکھ لوگ تھے جو اس وقت کی عالمی آبادی کا ایک چوتھائی بنتے ہیں۔ یہ اتنی وسیع تھی کہ اس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ سلطنت برطانیہ پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ یہ دنیا کے پانچوں آباد براعظموں پر موجود تھی.
 
برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے سلطنت برطانیہ کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کی ابتدا 1600ء میں ملکہ الزبتھ اول کے دور میں بحیثیت ایک تجارتی کمپنی کے ہوئی۔ اس کا مقصد ہندوستان کے ساتھ تجارت تھی۔ مفل سلطنت کی زبوں حالی نے طاقت کا جو خلا پیدا کیا اسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورا کیا۔ 1857ء کو برصغیر مکمل طور پر سلطنت برطانیہ کا حصہ بن چکا تھا۔ ۔1878ء میں دکن، ہندوستان کے قحط میں 12 سے 29 ملین افراد ہلاک ہوئے، کیونکہ اگر چہ ہندوستان میں غلہ موجود تھا مگر برطانوی وائسرائے نے حکم دیا کہ غلہ برطانیہ برآمد کیا جائے۔ اس کے بعد بچ جانے والے فاقہ زدہ کسانوں سے پچھلے سالوں کا tax وصول کر کے ان کو مالی طور پر بھی کمزور کر دیا- ابتدا کی طرح اس کا زوال بھی آئرلینڈ سے 1922ء ميں شروع ہوا۔ 1947 میں برصغیر علاحدہ ہوا.
 
برطانیہ کے بڑے شہر لندن کی آبادی 87 لاکھ، برمنگھم 24 لاکھ ، مانچسٹر 23 لاکھ، ویسٹ یارک شائر 16 لاکھ اور گلاسکو 12 لاکھ ہے۔ سکاٹ لینڈ کا دارالحکومت گلاسکو اور شمالی آئرلینڈ کا دارالحکومت بلغاسٹ ہے ۔ نظام دستوری بادشاہت ہے۔ ملک الزبتھ دوم فروری 1952ء سے برسرِاقتدار ہیں۔ زرعی پیداوار میں گندم، جو، آلو، آئل سیڈ اسر معدنی پیداوار میں کوئلہ، تیل، قددتی گیس، سیسہ، جست، سونا، قلعی، جپسم، پوٹاشیم شامل ہیں۔ فی کس آمدنی 34800 ڈالر ہے۔ آبادی میں 71.6 فیصد عیسائی، 2.8 فیصد مسلم، ایک فیصد ہندو، 0.6 فیصد سکھ، 0.5 فیصد یہودی اور 15 فیصد لادین ہیں۔ عیسائیوں میں 62 فیصد اینگلیکن اور 13.5 فیصد کیتھولک ہیں۔
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *