دعوت کے موثر ترین ذرائع (تیسری قسط)

5۔ ذرائع ابلاغ :
ابلاغ کا معنیٰ ’’دوسروں تک اپنی بات پہنچانا‘‘ ہے۔ اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لئے جو طریقے اور راستے استعمال کئے جاتے ہیں، ان کو ذرائع کہتے ہیں۔ گویا کہ ذرائع ابلاغ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بات مختلف ذرائع سے دوسروں تک پہنچانا۔ اسی کو انگریزی میں میڈیا کہتے ہیں۔

دعوت دین کا ایک بہت بڑا ذریعہ ذرئع ابلاغ ہے، یعنی ہر دور میں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے جو ذرائع ہیں، ان سے استفادہ کرتے ہوئے دین دعوت دوسروں تک پہنچائی جائے۔

نبوی دور کے ذرائع ابلاغ :
حضورﷺ کے دور میں ذرائع ابلاغ شعر و شاعری اور خطابت تھے۔ چنانچہ غزوہ احزاب سے واپسی کے موقع پہ نبی کریمﷺ نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا: اب قریش کو ہم پہ حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہوگی بلکہ ہم ہی ان پہ حملہ کریں گےاور قریش اب ہمارے خلاف عرب قبائل میں نفرت کی آگ بھڑکائیں گے۔ نفرت بھڑکانے کے لئے وہ شعر و ادب کی جنگ لڑیں گے۔ گویاکہ حضورﷺ صحابہ کرامؓ کو اشارہ فرما رہے ہیں کہ وہ اس جنگ کےن لئے تیار رہیں، اس کو ’’میڈیا وار‘‘ کہتے ہیں۔

اس میدان میں کفار کا مقابلہ کرنے کے لئے تین حضرات ’’حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ اور کعب بن مالکؓ کو تیار کیا۔ حضرت حسان بن ثابتؓ رسول اللہﷺ کی مدح سرائی کرتے اور کفار کے اعتراضات کے جوابات دیتے، حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کفار کی مذمت میں اشعار کہتے جبکہ حضرت کعب بن مالکؓ رزمیہ اشعار کہتے۔ ان تینوں حضرات نے اس میدان میں بھرپور کردار ادا کیا اور اس اسلوب میں بھی کفار کو شکست دی۔

اس کی ایک جھلک پیش خدمت ہے:
بنو تمیم کا وفد نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور عرب رواج کے مطابق وہ اپنے خطباء اور شعراء ساتھ لائے۔ جب ان کے شعراء کلام پیش کر چکے اور خطباء پرجوش اور فصیح تقاریر کر چکے تو نبی کریمﷺ نے انصار کے خطباء کو حکم دیا اور انہوں نے فصیح و بلیغ تقریریں کیں۔ بعد ازاں بنو تمیم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آپ کے خطباء نے ہمارے خطباء سے زیادہ اچھی تقاریر کیں اور آپ کے شاعر ہمارے شعراء سے زیادہ بہتر ہیں، پھر یہی بات ان کے قبولِ اسلام کا ذریعہ بنی۔

دورِ حاضر اور ذرائع ابلاغ :
آج کے دور کا ذرائع ابلاغ ’’میڈیا‘‘ ہے۔ پوری دنیا میں میڈیا کے ذریعے ہی اپنی تہذیب و ثقافت کو عام کرنے اور اپنی برتری ثابت کرنے کی جنگ کی جا رہی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت میڈیا پہ اکثریت قبضہ کفر کا ہی ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے لوگ فحاشی و عریانی اور بےراہ روی کا شکار ہو چکے ہیں اور میڈیا جس کو چاہتا ہے بدنام کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اسے ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے اور دنیا اسے تسلیم کر لیتی ہے، کیونکہ آج اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ میڈیا ہی ہے۔

نبوی زندگی سے ہمیں یہ سبق سیکھتے ہوئے آج کے ذرائع ابلاغ میں بھی عبور حاصل کرتے ہوئے اسے دعوت کے مقاصد میں استعمال کرنا ہوگا اور اس میڈیا کے محاذ میں اتر کر مہارت پیدا کر کے کفر کا مقابلہ کرنا ہوگا اور آج اس کی اشد ضرورت ہے۔

6۔ سیاسی غلبہ :
دعوت کا ایک مؤثرذریعہ سیاسی قوت کا حصول ہے یعنی سیاسی قوت اور برتری حاصل کر کے دعوت کا پیغام پہنچانا۔ اس کا اندازہ حضورﷺ کی دعوت کے انداز سے بھی ہوتا ہے کہ آپﷺ نے مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد سب سے پہلےایک عالمگیر ریاست کا قیام عمل میں لایا۔

سیاسی قوت حاصل ہونے کے بعد جہاں عمومی دعوت کا ماحول سازگار بنا وہیں مختلف ممالک کے بادشاہوں تک اپنا پیغام پہنچانے کی راہ بھی ہموار ہوئی اور نبی کریمﷺ نے مختلف بڑی سلطنت کے مالک بادشاہوں کو خطوط لکھے اور اسلام کی دعوت دی۔ نبی کریمﷺ کا فرمان بھی یہی ہے کہ برائی کو روکنے کا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ اسے ہاتھ سے روکا جائے اور یہ سیاسی قوت کے نتیجے میں ہی ممکن ہے۔

سیاسی غلبہ نہ ہونے کے نقصانات:
سیاسی قوت نہ ہونے کے نتیجے میں سب سے بڑا نقصان دعوت کا ہوتا ہے کہ وہ کمزور ہو جاتی ہے اور دعوت پہنچ جانے کے بعد بھی سیاسی مغلوب ہونے کی وجہ سے حق قبول کرنے کی جرات نہیں ہوتی اور ظالم کس ظلم حق کے قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ عرب کا مشہور مقولہ بھی ہے کہ رعایا اپنے بادشاہ کے دین پہ ہوتی ہے۔ بادشاہ کے اختیارات وسیع ہوتے ہیں اس لئے رعایا پہ ظلم و جبر کر کے اپنا باطل موقف منواتی ہیں جب کہ اسلامی حکومت دعوت کے ساتھ ساتھ عبادات و احکام کو نافذ کر کے ایک ایسا ماحول بناتی ہے جس میں رہتے ہوئے دین پہ چلنا اور اس کے احکامات پہ عمل پیرا ہونا آسان ہو جاتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *