نیدر لینڈ(هالينذ) کے بارے میں دلچسپ معلومات

مغربی یورپ کا یہ ملک بحیرۂ شمالی کے ساحل پر واقع ہے۔ اس کے مشرق میں جرمنی ، جنوب میں بیلجیئم اور شمال اور مغرب میں بحیره شمالی واقع ہے۔ جرمنی سے آنے والا و دریائے رائن نیدر لینڈ کے وسط سے بہہ کر بحیرۂ شمالی میں گرتا ہے ۔ روٹرڈم کی بندرگاہ اسی دریا پر واقع ہے۔ نیدر لینڈ کی آباد کی ایک کروڑ 70 لاکھ اور رقبہ 41,543 مربع کلومیٹر ہے۔ نیدر لینڈ ہموار ملک ہے اور سمندر سے اس کی اوسط بلندی 37 فٹ ہے اور خاصا رقبہ سمندر سے نیچے ہے جسے 1500 میل لمبے پشتوں کے ذریعے سمندر سے حاصل کیا گیا ہے ۔ دار الحکومت ایمسٹرڈم خلیج اجسلمپر کے ساحل پر واقع ہے جسے حکومت 1920ء سے پانی سے خالی کرتی آرہی ہے۔ ایمسٹرڈم کی آبادی ساڑھے دس لاکھ ہے جبکہ بندرگاہ ہیگ میں ساڑھے چھ لاکھ اور روٹرڈم میں سوادس لاکھ افراد بستے ہیں ۔ آبادی میں رومن کیتھولک 30 فیصد، ڈچ ریفامڈ 11 فیصد، کیمونسٹ 6 فیصد، دیگر پروٹسٹنٹ 3 فیصد،
مسلمان 6 فیصد اور 42 فیصد لادین ہیں ۔ مسلمانوں میں اینڈویشی ،ترک، مراکشی اور سرینائی شامل ہیں ۔ ڈچ اور فریسین سرکاری زبانیں ہیں ۔ تقر یا 83 فیصد آبادی شہروں میں بستی ہے۔
 
بالینڈ میں آئینی بادشاہت ہے۔ مکہ بیٹرکس 1980ء سے برسراقتدار ہیں ۔ بیحره شمالی کے ساحل پر واقع بیک ڈچ حکومت کا انتظامی مرکز اور صوبہ جنوبی بالینڈ کا دارالحکومت ہے۔ بیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف (ICT) کام کرتی ہے ۔ ملکی دارالحکومت ایمسٹرڈم تقریبا90 جزیروں پر آباد ہے جن کے درمیان نہریں حائل ہیں ، ایسٹرڈم چودھویں صدی سے اہم بندرگاہ ہے۔ یہاں ہیروں کی صنعت مشہور ہے۔ نیدرلینڈ کے باشندے اور ان کی زبان جرمن نژاد ہونے کے باعث ڈچ (Dutch) کہلاتے ہیں، یہ اصطلاح جرمن زبان سے مستعار ہے جیسا کہ جرمن میں ملک جرمنی کو ڈوئچ لانڈ کہا
جاتا ہے۔ بالینڈ پورے ملک کو بھی کہا جاتا رہا ہے اور اس کے ایک ساحلی صوبے کا نام بھی بالینڈ تھا جواب دو صوبوں شمالی ہالینڈ اور جنوبی بالینڈ میں بٹا ہوا ہے۔ "ہالینڈ” کے معنی ہیں "لکڑی کی سرزمین ‘‘ رومی جرنیل جولیس سیزر نے 55 ق م میں نیدر لینڈ فتح کیا تھا جب یہاں سیلٹ اور جرمانک قبائل آباد تھے۔ شاہ فرانس چارلس اعظم (شالیمین) کی سلطنت ٹوٹی تو نیدر لینڈز (ہالینڈ، بیلجیئم اور فلانڈرس ) کے حصے بخرے ہو گئے اور یہاں کاونٹ (نواب )، ڈیوک اور بشپ حکومت کرنے لگے۔ پھر ہالینڈ پر برگنڈی (فرانس) اور اس کے بعد سپین کا قبضہ رہا۔ 1581ء میں ہالینڈ نے سپین سے آزادی حاصل کر لی ۔ سترھویں صدی عیسوی میں نیدر لینڈ ایک بحری اور استعاری قوت بن کر ابھرا۔ (1795ء تا 1813ء) نیدر لینڈ اور بیلجیئم پر فرانس کا تسلط رہا۔ 1815ء میں ویانا کی کانگریس سے نیدرلینڈز کی بادشاہت وجود میں آئی جس میں بیلجیئم بھی شامل تھا۔ 1830 ء میں بیلجیئم نے علیحدگی اختیار کر لی ۔ پہلی جنگ عظیم میں نیدرلینڈ غیر جانبدار رہا، تاہم دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اس پر قابض رہا۔ 1949 ء میں ڈچ استعمار سے انڈونیشیا کو آزادی کی۔ نومبر 2004ء میں ڈچ فلمساز تھیووان گوگھ کو گولی مار دی گئی جس نے ایک دل آزارفلم بنا کر توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا قتل کے الزام میں ایک مراکشی مسلمان کو سزا سنائی گئی ۔ جون 2010ء کے پارلیمانی انتخابات اسلام دشمن جماعت فریڈم پارٹی نے جیت لیے جس کا سربراہ گیرٹ ولڈرخلافِ اسلام فلم "فتنہ بنا چکا ہے۔
 
ہالینڈ کی بڑی فصلیں گندم، آلو، چقندر اور پھول ہیں ۔ معدنی وسائل میں قدرتی گیس، پٹرولیم، چونے کا پیر اور نمک شامل ہیں ۔ سکہ یورو ہے۔ فی کس آمدنی 40,300 ڈالر ہے۔ شرح خواندگی 99 فیصد ہے۔ ویسٹ انڈیز ( جزائر غرب الہند ) میں نیدرلینڈز اینٹلز، کوراکاؤ، بونیئر ، سینٹ مارٹن اور اروبانامی جزیرے نیدر لینڈ کی ملکیت ہیں۔
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *