اسماعیل علیہ السلام

حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابرہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے اور آپ کی والدہ کا نام ہاجرہ علیہا السلام تھا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شان و عظمت کا تذکرہ قرآن مجید میں اس طرح کیا گیا ہے م:
"اور کتاب میں اسماعیل علیہ السلام کا ذکر بھی کیجے، بے شک وہ وعدے کے پکے رسول (اور) نبی تھے۔ اور اپنے گھر والوں کو نماز ور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اپنے رب کے ہاں انتہائی پسندیدہ تھے”
اللّٰہ کے حکم پر اللّٰہ کے گھر کی تعمیر اور اس کے ساتھ مکہ کا مقدس شہر بسانے کے لیے اللّٰہ نے حضرت ابرہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا منتخب کیا۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام اپنی بیوی اور بیٹے کو لے کر ایک ایسی بنجر وادی میں پہنچے جہاں نہ پانی تھا، نہ کوئی درخت۔ نہ کوئی پھل، نہ کوئی خوراک تھی۔ یہ وہی جگہ تھی جو آج کل مکہ مکرمہ کہلاتی ہے۔ ابراہیم علیہ السلام انھیں وہاں چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ ہاجرہ علیہا السلام جانتی تھی کہ انھوں نے یہ کام اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللّٰہ کے حکم کے تحت کیا ہے، اس لیے انھیں یقین تھا کہ اللّٰہ ان کو اور ان کے بیٹے کو بے یار و مددگار اور بے وسیلہ نہیں چھوڑے گا، ان کے لیے ضرور کوئی بندوبست کر دے گا۔ واقعی اللّٰہ نے انھیں مایوس نہ کیا۔ سب سی پہلے یہ ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے لیے زمین سے پانی کا ایک چشمہ نکال دیا۔ آج اس بابرکت پانی کا آب زم زم کے نام سی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ پانی مکہ مکرمہ کی پوری آبادی کے عکاوہ پوری دنیا سے آئے ہوئے لاکھوں حاجیوں کو سیراب کرتا ہے بلکہ حجاج کرام یہ پانی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں گیلنوں کی مقدار میں دنیا بھر میں لے کر بھی جاتے ہیں۔
زم زم کے نمودار ہونے کے بعد وہ دونوں ماں بیٹا وہیں زندگی بسر کرنے لگے۔کچھ عرصہ بعد قبیلہ جُرہُم کے چند افراد قریب سے گزرے۔ انھوں نے وہاں پانی کا چشمہ دیکھا تو اس کا پانی خوب سیر ہو کر پیا، پھر انھوں نے اس جگہ کو موزوں پاکر حضرت ہاجرہ علیہا السلام سے اجازت مانگی کہ کیا ہم بھی آپ کے پاس زم زم کے قریب آباد ہو سکتے ہیں؟ ان کی طرف سے اجازت ملنے پر وہ یہاں رہنے لگے۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام پل کر جوان ہو گئے تو انھوں نے اسی قبیلے کی ایک دوشیزہ کے ساتھ شادی کر لی۔
یہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے جن کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے والد اور اپنے نبی حضرت ابرہیم علیہ السلام کو خواب میں حکم دیا تھا کہ وہ انھیں اللّٰہ کی راہ میں قربان کر دیں۔ جب انھوں نے اپنے بیٹے سے ذکر کیا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ تمھاری قربانی دے رہا ہوں۔ اس پر تمھارا کیا خیال ہے؟ تو انھوں نے فوراً سر تسلیم خم کیا اور خود کو قربانی کے لیے پیش کر دیا۔ قرآن مجید نے اس کا ذکر کچھ یوں کیا ہے
” پھر جب وہ( اسماعیل علیہ السلام) ان (حضرت ابرہیم علیہ السلام) کے ساتھ دوڑنے باگنے (کی عمر) کو پہنچے تو انھوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمھیں ذبح کر رہا ہوں، اب تم دیکھ لو! تمھاری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے کہا! جو آپ کو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کر گزریں، انشاء اللہ! مجھے آپ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے”
جب دونوں نے اللّٰہ کی مرضی کے مطابق خود کو پیش کر دیا، یعنی ابرہیم علیہ السلام نے بیٹے کی پیشانی کو پکڑ کر ذبح کے لیے لٹا دیا تو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی” اے ابراہیم تو نے اپنا خواب یقیناً سچ کر دیکھایا بے شک ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بلا شہ یہ کھلی آزمائش ہی تھی۔ اور ہم نے اس( اسماعیل) کے بدلے میں عظیم القدر (جانور) ذبح کرنے کو دیا۔”
اس طرح یہ قربانی آیندہ آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن گئی۔ اللّٰہ تعالیٰ کے نیکوکار بندے ہمشہ اس پر عمل کرتے رہے، کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد کے ساتھ مل کر کعبہ کی تعمیر بھی کی۔ اس مبارک کام کو کرتے ہوئے دونوں نے ایک عظیم الشان دعا بھی کی جس کا ایک حصہ یہ ہے:
” اے ہمارے رب! تو ہم سے( یہ نیکی) قبول کر لے، بےشک تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے”

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *