پاکستان اور افغانستان جڑواں بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں، مولانا زاہد الراشدی

اسلام آباد: ( ) پاکستان شریعت کونسل اسلام آباد راولپنڈی کے مشترکہ اجلاس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو فوری تسلیم کیا جائے اور برادرانہ بنیاد پر باھمی معاملات کو طے کیا جائے۔

کونسل کا اجلاس جامع مسجد مدنی مری روڈ اسلام آباد میں مولانا ثناء اللہ غالب کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا زاہدالراشدی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ دیگر شرکاء میں مولانا عبدالرؤف محمدی، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا حافظ علی محی الدین، مولانا عمران جاوید سندھو،پروفیسر حافظ منیر، مولانا اسداللہ غالب، مولانا تنویر احمد اعوان، مفتی محمد سعد سعدی ،سعید احمد اعوان، مولانا محمد علی قریشی بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ جب امریکی اتحاد نے اپنی پسپائی تسلیم کر لی ہے اور طالبان نے پرامن طور پر پورے افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے تو ان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں کوئی اور رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں کورونا کی مہلک اقسام پھیلنے کا خطرہ

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور امارت اسلامی افغانستان مشترکہ عقیدہ و ثقافت کے باعث جڑواں بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لئے دونوں کو کسی بیرونی مداخلت اور ڈکٹیشن کے بغیر باہمی معاملات مل بیٹھ کر بھائیوں کی طرح طے کرنے چاہییں،انہوں نے کہا کہ مبینہ دہشت گردی کے خلاف امریکی اتحاد کی جنگ ناکام ہونے کے بعد اس جنگ کے مقاصد کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں اور اقدامات پر بھی نظر ثانی ضروری ہو گئی ہے اور متعلقہ اداروں کو اس پر سنجیدہ توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جنگی مقاصد کیلئے طے کئے گئے اقدامات اور پالیسیوں کو جنگ ناکام ہونے کے بعد بھی جاری رکھنا جنگ کو جاری رکھنے کے مترادف ہوگا جس کا کوئی جواز نہیں ہے، اجلاس میں بیرونی دباؤ پر کی جانے والی قانون سازی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ گھریلو تشدد بل ہو یا اوقاف قوانین، بچوں پر تشدد کی روک تھام کا بل ہو یا جبرا قبول اسلام کا بل سب کا ڈرافٹ باہر سے تیار ہو کر آتا ہے اور ہمارے مذہب، معاشرتی اقدار، تہذیب و ثقافت کے خلاف قوانین بنا کر ملک و قوم پر مسلط کئے جا رہے ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

علمائے کرام نے کہا کہ بیرونی مداخلت اور دباؤ کو روکنا ضروری ہے، ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے، اجلاس میں کہا گیا کہ ہمیں بین الاقوامی معاہدات کا بھی قومی سطح پر جائزہ لینا ہوگا کہ کون سے معاہدات ہمارے دستور اور مذہب کے خلاف ہیں ان کی نشاندہی ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں: طالبان نے افغانستان میں عبوری حکومت کا اعلان کردیا

اجلاس میں صحابہ کرام اور دیگر مقدس شخصیات کی شان میں توہین کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجرموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا، شرکاء نے چکوال میں ایک ایم این اے کی طرف سے ممتاز عالم دین اور تحریک خدام اہلسنت کے امیر قاضی ظہور حسین اظہر کے بارے میں نازیبا الفاظ کی بھی سخت مذمت کی گئی اور اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو اور انتشار کا سبب بننے پر ممبر قومی اسمبلی کے خلاف سائبر کرائم کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

شریعت کونسل کے اجلاس میں مدارس کے نئے وجود میں آنے والے بورڈز کے ذمہ داران سے مطالبہ کیا گیا کہ سابقہ اور پرانے بورڈز کے سسٹم کو چھیڑے بغیر اپنے دائرے میں رہتے کام کریں اور باہمی تنازعات و خلفشار سے دونوں فریقوں کو اجتناب کرنا چاہیے، اجلاس میں مولانا عبدالقدیر، مولانا حمید الرحمن عثمانی، مولانا وسیم زاہد عباسی، مولانا صلاح الدین، حافظ شاھد الرحمن، مولانا نور محمد، محمد عمیر خان ایڈووکیٹ اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *