قطر اسپتال ، ساڑھے 6 ہزار مریضوں کو ساڑھے 5 کروڑ کا کھانا کھلایا گیا ، انکشافات

کراچی: (رپورٹ : بابر علی اعوان ( سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال کراچی میں مریضوں کے کھانے کے بجٹ میں خرد برد ثابت ہوگئی ۔ اسپتال انتظامیہ نے ساڑھے 6 ہزار مریضوں کو ساڑھے 5 کروڑ کا کھانا کھلایا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات کر دیئے۔

یاد رہے کہ قطر اسپتال میں مریضوں کے کھانے کے بجٹ میں مبینہ خر د برد کی نشاندہی کی گئی تھی، جس پر محکمہ صحت نےتحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی نے پیر 13 ستمبر کو اپنی رپورٹ محکمہ صحت کو جمع کرادی۔

ذرائع کے مطابق ایک سال (جولائی 2020 سے جون 2021) کے دوران اسپتال میں کھانےکے بجٹ سے 5 کروڑ 47 لاکھ 95 ہزار 379 روپے استعمال ہوئے لیکن کھانا صرف 6 ہزار 462 مریضوں کو کھلایا گیا۔ اسپتال میں ایک مریض کےناشتے، دن کے کھانے، شام کی چائے اور رات کے کھانے کا ریٹ 727 روپے مقرر کیا گیا جس کی نظیر نہیں ملتی کیونکہ سندھ کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں بھی زیادہ سے زیادہ ریٹ 4 سو روپے مقرر ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال میں استعمال شدہ سامان ٹینڈر کے بغیر فروخت

رپورٹ کے مطابق اسپتال کے ڈائیٹ ڈیمانڈ رجسٹر میں مریضوں کی تعداد 75 ہزار 312 دکھائی گئی لیکن انتظامیہ مریضوں کی تفصیلات، داخلے کی تاریخ، اسپتال میں قیام کا دورانیہ، ڈسچارج سمری اور دیگر تفصیلات فراہم کرنے سے قاصر رہی جس پر کمیٹی نے ایک پروفارما کے ذریعے تمام شعبہ جات کے سربراہان سے داخل مریضوں کی مکمل تفصیلات حاصل کیں جن کے مطابق 6 ہزار 462 مریض بنے۔

رپورٹ کے مطابق اسپتال انتظامیہ کے بقول انہوں نےسیکیورٹی عملے کے 13 ہزار 490 افراد کو بھی کھانا کھلایا جس کی رقم 98 لاکھ بنتی ہے اور اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

رپورٹ کے مطابق اسپتال میں بستروں کی اصل تعداد 433 کے بجائے 255 ہے۔ اسپتال میں فوڈ انسپیکشن کمیٹی بھی موجود نہیں جبکہ اسپتال میں ڈائیٹ سے متعلق انٹرنل آڈٹ رپورٹ بھی دستیاب نہیں ۔ اس سارے معاملے پر کمیٹی نے محکمہ صحت کو سفارش کی ہے کہ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نوشاد شیخ، اکاؤنٹنٹ عارف اور متعلقہ عملے کے خلاف سخت انضباطی کاروائی کی جائے۔

کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ چونکہ معاملہ کروڑوں کی خرد بردکا ہے اس لئے اسے قانونی کاروائی کے لئے متعلقہ محکمے میں بھی بھیجا جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *