افغانستان میں کورونا کی مہلک اقسام پھیلنے کا خطرہ

تحریر: ڈاکٹر خالد مشتاق

عالمی اداروں کی مدد بند اور اسکریننگ نہ ہونے سے بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے- غنی حکومت میں بھاری رقم لے کر جعلی سرٹیفکیٹ جاری کئے جاتے رہے- کابل میں صرف محمد علی جناح اسپتال باقاعدگی سے فعال ہے

جنگ سے تباہ حال افغانستان میں معاشی مسئلہ کے بعد ایک بہت بڑا مسئلہ کرونا پھیلنے کا خطرہ ہے۔ افغانستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کورونا کی مہلک ترین اقسام ڈیلٹا اور الفا کابل میں پھیل رہی ہیں۔ جبکہ صورتحال یہ ہے کہ اسکریننگ کے بغیر ہزاروں افراد کی بارڈرز سے آمدورفت جاری ہے۔ اس کے سبب کورونا کی خطرناک اقسام کا افغانستان میں پھیلنے کا خطرہ ہے۔ افغانستان میں کورونا کا پہلا مریض فروری 2020ء میں تشخیص ہوا۔ یہ مریض ایران سے آیا تھا۔ ہرات شہر میں اس پہلے مریض کے بعد کورونا میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ہرات سرحدی شہر ہے۔ جہاں ایران سے افغان مہاجرین آرہے ہیں۔

2020ءمیں تقریباً 3 لاکھ 85 ہزار افغان مہاجرین ایران سے افغانستان آئے۔ بارڈر پر صرف ٹمپریچر چیک کیا جاتا تھا۔ اسی سبب کورونا ہرات شہر میں تیزی سے پھیلا۔ فرانسیسی این جی او (MSF) ایم ایس ایف نے 120 بیڈ کا اسپتال ہرات میں بنایا۔ آکسیجن کی سہولت مہیا کی۔ روزانہ 80 مریض کورونا کے آرہے تھے۔ جن مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت تھی انہیں داخل کر لیتے۔ دیگر مریضوں کو گھر بھیج دیتے اور انہیں وقت دے دیا جاتا۔ جب وہ ٹیلی فون پر ڈاکٹر کو اپنی بیماری کی صورتحال سے آگاہ کرتے تو مرض کی شدت ہونے پر اسپتال بلا لیا جاتا۔

مزید پڑھیں: پاکستانی میں لاکھوں افغان مہاجرین کی موجودگی پاکستانی مہمان نوازی کا ثبوت ہے، صدر ڈاکٹر عارف علوی

اس کے علاوہ ہرات یونیورسٹی اور دارالسلام میں 300 بیڈ کا Isolation سینٹر بنایا گیا۔ جب وبا کم ہوئی تو یہ سینٹر بند کر دیا گیا۔ کورونا کی دوسری لہر کے بعد 2021ءمیں اسپتال میں مریض نہیں تھے۔ ڈاکا پڑا اور MSF کے اس اسپتال میں ڈاکٹرز کی اشیا اور اسپتال کے سامان کو لوٹ لیا گیا۔ نتیجتاً ہرات کا یہ اسپتال جو MSF فرانسیسی این جی او چلا رہی تھی، بند کر دیا گیا۔ قندھار پاکستان کے چمن بارڈر کے قریب شہر ہے۔ اس شہر میں ایران اور پاکستان دونوں جگہ سے افغان مہاجرین آتے ہیں۔ بارڈر پر صرف ٹمپریچر چیک کیا جاتا ہے۔

چینی حکومت کے تعاون سے بنایا گیا میر والس (Mir Wals) اسپتال بڑا اسپتال ہے۔ اس قدیم اسپتال میں 230 مریض روزانہ آرہے تھے۔ (Internation Commihe of Red Cross) (ICRC) اس اسپتال میں کورونا کے مریضوں کے علاج میں معاونت کررہی ہے۔ کابل افغانستان کا دارالخلافہ ہے۔ یہاں سب سے زیادہ کورونا کے مریض آرہے تھے۔ ویسے تو کورونا کے مریض قندھار، ہرات، ننگرہار، بلخ، پکتیکا اور قندوز شہروں میں زیادہ ہیں۔ لیکن دیگر شہروں سے Serious مریضوں کو بڑے شہر بھیجنے کا رجحان عام ہے۔ اس لیے کابل میں مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

گورنمنٹ کے علاوہ پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی کورونا کے مریض داخل ہو رہے ہیں۔ لیکن داخل مریضوں کو آکسیجن کی فراہمی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کابل میں 6 فیکٹریاں ایسی ہیں جو آکسیجن فراہم کرتی ہیں۔ یہ زیادہ تر صنعتی یونٹس کو آکسیجن فراہم کرتی ہیں۔ اس وقت صحت کی وزارت نے انہیں کہا کہ وہ پہلے اسپتالوں کو آکسیجن سپلائی کریں، پھر صنعتی یونٹس کو۔ صرف ایک فیکٹری جو صدیقی صاحب چلا رہے ہیں، مریضوں کو ویلفیئر کے طور پر آکسیجن فراہم کر رہی ہے۔ دیگر فیکٹریز نے آکسیجن سلنڈر کے ریٹ بڑھا دیئے ہیں۔ ضرورت زیادہ ہے۔ آکسیجن سلنڈر کم ہیں۔ پرائیویٹ اسپتال لوگوں کو داخل کر لیتے ہیں۔ لوگ آکسیجن سلنڈر اپنے رشتے داروں کے لیے خود اٹھا کر لاتے ہیں اور خالی ہونے پر آکسیجن دوبارہ ڈلوا کر لاتے ہیں۔ بڑے حکومتی اسپتالوں میں کابل میں صرف 3 اسپتال کورونا کے مریضوں کو داخل کر کے علاج کر رہے ہیں۔ محمد علی جناح اسپتال۔ جو 300 بیڈ کا اسپتال ہے اور یہاں 50 بیڈ آکسیجن والے ہیں۔ افغان جاپان اسپتال 150 بیڈ کا ہے۔ جبکہ ریڈ کراس اسپتال میں 50 بیڈ ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس عالمی وبا سے بچاؤ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہے، بینظیر اعوان

کراچی میں انڈس اسپتال میں کورونا کے مریضوں کے لیے 50 سے کم بیڈ آکسیجن والے ہیں۔ اس لحاظ سے کابل میں 250 آکسیجن والے بیڈ بہت زیادہ ہیں۔ لیکن گورنمنٹ اسپتالوں میں بھی محمد علی جناح اسپتال کے علاوہ آکسیجن والے 200 بیڈ ہیں۔ اسپتال والے آکسیجن باہر سے لیتے ہیں۔ اس لیے ان اسپتالوں میں اکثر آکسیجن کی کمی رہتی ہے۔ داخل مریضوں کی اموات کا شرح زیادہ ہے۔ اچانک آکسیجن ختم ہو جائے تو مریض شدید مشکل میں آجاتے ہیں اور بہت سیریس ہو جاتے ہیں۔ محمد علی جناح اسپتال کابل میں حکومت پاکستان کے سفیر نے پچھلے سال اپنے آکسیجن پلانٹ کا افتتاح کیا۔ اس لحاظ سے پاکستانی حکومت کی سپورٹ پر چلنے والے اسپتال میں آکسیجن کا مسئلہ نہیں۔ پلانٹ میں 1200 سلنڈر اور آکسیجن بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔

محمد علی جناح اسپتال کے علاوہ دیگر اسپتالوں میں آئی سی یو کے اندر مریض کے رشتہ دار موجود ہوتے تھے۔ مریضوں کے سلنڈر کی چوری ہو جاتی تھی۔ لوگ اس حد تک ذہنی طور پر پریشان تھے کہ مریض کے رشتہ دار نہ ہوں تو دوسرے کا آکسیجن اپنے مریض کو لگا دیتے۔ آکسیجن کے حصول کے لیے لمبی لائنیں لگی رہتین اور سلنڈر بھی مہنگے۔ آکسیجن سلنڈر نہ ملنے پر لوگ آپس میں اور طبی عملہ سے بھی جھگڑ پڑتے۔ یہی سبب ہے کہ افغان جاپان اسپتال کے طبی عملے میں متعدد اہلکاروں نے اسپتال چھوڑ دیا۔ یہی اسپتال Infection Diseases کا سب سے بڑا اسپتال تھا۔ حکومت نے کابل یونیورسٹی کے قریب ایک بڑا Isolation سینٹر بنایا ہے۔ لیکن اس میں آکسیجن کی سہولت نہیں۔ سابق صدر غنی کے معاشی ترقی کے مشیر یوسف غضنفر کو کورونا ہوا۔ وہ علاج کیلئے ترکی گئے اور جولائی میں وہیں کورونا میں انتقال ہو گیا۔

مزید پڑھیں: ہلال ِاحمر نے کورونا وباء کے خلاف ویکسی نیشن کا دائرہ کار وسیع کردیا

کابل میں کورونا کے ٹیسٹ کیلئے حکومتی اور این جی او لیب کے علاج پرائیویٹ لیب کام کر رہی ہیں۔ جن میں رائل میڈیکل کمپلیکس، الفلاح لیب، عدیل لیب، وہاج اسپتال، بلاسم ہیلتھ کیئر سسٹم، D.K جرمن لیب، ایشیا لیب، SRL ڈائیگنوسٹک سٹی لیب شامل ہیں۔ کابل میں پرائیویٹ لیب ٹیسٹ اتنا مہنگا ہے کہ تصور بھی مشکل ہے۔ کورونا کا Rapid Test اور PCR ٹیسٹ 100 ڈالر کا ہوتا رہا ہے۔ غنی حکومت کی طرف سے پابندی لگائی گئی تھی کہ 2 سال یا اس سے بڑا بچہ PCR ٹیسٹ کے بغیر ایئرپورٹ سے نہیں جا سکتا۔ کرپشن کی حد یہ تھی کہ ایک معروف پرائیویٹ لیب صدر اشرف غنی کے قریبی فرد کی تھی۔ حکومت کی طرف سے UAE اور زیادہ سفر کرنے والوں کو بتایا گیا کہ اسی لیب سے PCR کرائیں۔ جہاں سے اکثر بغیر ٹیسٹ کے منفی PCR کی رپورٹ بنا دی جاتی۔ اس طرح صدر اشرف غنی کی حکومت کی کرپشن کی وجہ سے بہت سے مثبت کیسز مڈل ایسٹ، امریکہ، انڈیا، وائرس کا Variant منتقل کرتے رہے۔ یہ سلوک غنی حکومت نے اپنے دوست ممالک کے ساتھ کیا کہ کورونا کو ان ممالک میں پھیلایا۔ کابل میں انڈیا سے آئے ہوئے Delta Variant موجود ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں برطانیہ سے الفا Variant کے 100 کیسز پائے گئے ہیں۔

جون 2021ءمیں امریکی حکام نے قانون بنایا کہ 2 سال سے بڑا کوئی فرد PCR، منفی کے بغیر سفر نہیں کر سکتا۔ امریکیوں نے خاص طور پر جرمن FCIC فرانس کی لیب اور امریکن ملٹری کی لیب سے PCR ٹیسٹ کو امریکہ جانے کے لیے معیار بنایا۔ تاکہ کورونا وائرس کابل سے امریکہ یورپ نہ جا سکے۔ لیکن 2 ماہ بعد ہی اگست میں بغیر ٹیسٹ کیے ایک لاکھ سے زائد افراد کو امریکہ بغیر ٹیسٹ کے لے گئے۔ اسی طرح ہزاروں افراد کو یورپی ممالک بغیر ٹیسٹ کے اپنے ملک لے گئے۔ اس طرح برطانیہ کے الفا قسم کے کورونا، انڈیا کے ڈیلٹا قسم کے کورونا کے ہزاروں ممکنہ مریض انہوں نے امریکہ یورپ میں پھیلا دیئے۔ کابل ایئرپورٹ پر لوگ جس طرح موجود تھے۔ جس طرح جہاز میں بغیر ماسک مسافر امریکہ یورپ ٹرانسفر ہوئے۔ اس سے افغان شہریوں کے علاوہ امریکہ و یورپ کے شہریوں کو جو نقصان پہنچے گا، اس کے ذمہ داران امریکہ و یورپ کے فیصلے کرنے والے So Called انسانیت کے جمہوری علمبردار ہیں۔

کورونا ویکسین
کورونا ویکسین

کورونا کی پہلی لہر اپریل 2020ءمیں افغانستان میں آئی۔ 2 ہفتہ کا لاک ڈاﺅن ہوا۔ تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے۔ عام غیر ایمرجنسی آفس میں 50 فیصد اسٹاف کو آنے کی اجازت دی گئی۔ شہروں کے درمیان ٹریفک کو محدود کر دیا گیا۔ دوسری جانب عید کے بعد کیسز میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ پھر حکومت نے پابندیاں لگائیں۔ لیکن افغانستان کے معاشی حالات کے پیش نظر بیشتر شہری غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لہذا یہ پابندی نہ لگائی جا سکی۔ کورونا کی تیسری لہر جون 2021ءمیں آئی۔ ایک دن میں 4 ہزار ٹیسٹ روزانہ ہو رہے تھے۔ ملک میں تقریباً 31 حکومتی لیب کام کر رہی تھیں۔ چھوٹے شہروں سے PCR ٹیسٹ کے نمونہ جمع کر کے بڑے شہر لائے جاتے ہیں۔ اس طرح تین، چار دن بعد رپورٹ ملتی ہے۔ 16 جون کو 2313 مریض مثبت رپورٹ ہوئے۔ یہ افغانستان میں ایک دن کے سب سے زیادہ مریض ہیں۔

جون کے شروع میں ٹرانسپورٹ میں سختی تھی۔ لیکن جیسے ہی ٹرانسپورٹ میں نرمی کی گئی۔ کورونا کیسز بڑھ گئے۔ جون، جولائی 2021ءمیں آکسیجن کی کمی ہو گئی۔ محکمہ صحت کے مطابق مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

انٹرنیشنل اداروں نے کورونا ایمرجنسی کے آغاز سے ہی محکمہ صحت افغانستان کی مدد شروع کی۔ ورلڈ بینک نے ابتدائی مدد 100.4 ملین ڈالر سے مدد کی۔ ڈاکٹرز، میڈیکل اسٹاف کے لیے کورونا سے بچنے کا لباس PPE ایک لاکھ 50 ہزار کی تعداد میں دیا۔ آغاز میں 10 ہزار مریضوں کے داخلے اور 1300 آئی سی یو کا پلان کیا گیا۔ پہلی لہر اپریل سے اگست 2020ءتک ریڈیو، ٹی وی، پرنٹ کے ذریعے اشتہار دیے گئے۔ پہلی لہر میں 24 فروری 2020ءسے 13 اگست 2020ءتک 97778 ٹیسٹ ہوئے۔ جن میں سے 37424 مثبت آئے۔ 1363 کورونا مریضوں کا انتقال ہوا۔

مزید پڑھیں: کورونا ویکسین لگوانے کے باوجود بھارتی ہدایت کارہ کورونا کا شکار

WHO نے اب تک 2 لاکھ ہیلتھ ورکرز کو آگاہی دی ہے۔ جس میں پولیو ورکرز، این جی اوز کے کارکنان، حکومت کے ملازمین شامل ہیں۔ فرانس، جرمنی، جاپان، امریکی این جی اوز وغیرہ نے تعاون کیا۔ جون جولائی 2021ءمیں WHO نے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے 8 لاکھ 13 ہزار کٹس دیں۔ 31 لیبارٹریز جون 2021ءمیں افغانستان میں کام کر رہی تھیں۔ ان کی Capacity روزانہ 8500 ٹیسٹ تھی۔ 16 جون 2021ءکو اب تک کے سب سے زیادہ کورونا کیسز ریکارڈ ہوئے۔ 2313 مثبت کیسز مثبت ہونے کی شرح 42 فیصد رہی۔ ریڈکراس کابل کے مطابق ان کی لیب میں جون 2021ءمیں کورونا ٹیسٹ کرنے والوں میں مثبت آنے کی شرح 34 فیصد رہی ہے۔

14 جون 2021ءکو کابل میں 1804 کیسز مثبت آئے اور اسپتالوں میں 74 لوگوں کا کورونا سے انتقال ہوا۔ کورونا وبا کے شروع فروری 2020ءسے جولائی 2021ءتک کل کورونا کے مثبت کیسز کی تعداد تقریباً پونے 7 لاکھ رہی۔ کورونا سے جولائی 2021ءتک ہونے والی اموات 7127 رہیں۔ (واضح رہے کہ یہ اموات اسپتال میں ہونے والی اموات نہیں۔ افغانستان میں National Death Pegistes، یعنی اموات کو رجسٹر کرنے والا اور وجوہات لکھنے والا رجسٹر کا کوئی سسٹم نہیں ہے)۔ اسی دوران کئی ہزار ہیلتھ ورکرز کورونا میں مبتلا ہوئے۔ 93 انتقال کر گئے۔

افغانستان میں 8 لاکھ افراد کو کورونا ویکسین دی گئی۔ جس میں 65 فیصد مرد، 35 فیصد خواتین ہیں۔ ان میں سے بھی اکثریت کو ایک خوراک ہی مل سکی۔ ویکسین کی Colachain کو دور دراز علاقوں تک یقینی بنانا، بجلی کی عدم دستیابی، ہیلتھ ورکرز کی کمی کی وجہ سے یہ ناکام پروجیکٹ ثابت ہوا۔ واضح رہے کہ یہ تمام معلومات جولائی 2020ءتک کی ہیں۔

مزید پڑھیں: فلائٹ لیفٹیننٹ ڈاکٹر ماہ نور کورونا کے باعث انتقال کر گئیں

موجودہ حکومتی تبدیلی کے نتیجے میں مغربی ممالک، جاپان کی این جی اوز فعال تھیں۔ لیکن اب انہوں نے کام روک دیا۔ اب لیبارٹری ٹیسٹ سب محکمہ صحت پر بوجھ پڑ گیا ہے۔ اس وقت اگست میں کابل میں صرف محمد علی جناح اسپتال باقاعدگی سے کام کر رہا ہے اور کورونا کے مریضوں کو آکسیجن بیڈ کی سہولت دے رہا ہے۔ کابل میں دنیا بھر سے اخباری نمائندے آرہے ہیں۔ لوگ بھی یہاں سے جارہے ہیں۔ کابل میں ایشیا کا ڈیلٹا کورونا وائرس، برطانیہ کا الفا کورونا وائرس، سب موجود ہیں۔

اگر دنیا کے ممالک نے افغانستان میں کورونا کے علاج کے حوالے سے مدد نہ کی تو خطرناک صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ جو افغانستان کے عوام، اردگرد کے ممالک اور پوری دنیا کو خطرناک ترین کورونا وائرس کے Varients کے پھیلاﺅ کا سبب بن سکتی ہے۔ افغان عوام کو کورونا سے بچانے اور اور انٹرنیشنل کمیونٹی کو بچانے کیلئے نئی حکومت کو کورونا کے علاج کے لیے سپورٹ کی شدید ضرورت ہے۔ ورنہ دنیا میں افغانستان سے کورونا کے نئے Varients وجود میں آنے اور پھیلنے کے امکانات شدید ہیں۔ دنیا اس انسانی المیے سے بچنے کے لیے افغان عوام کی مدد کرے۔

“ڈاکٹر خالد مشتاق معروف ماہر امراض سینہ اور انسان دوست ڈاکٹر ہیں اب تک کورونا کے بلا مبالغہ سینکڑوں مریضوں کا علاج کرکے اللہ کے حکم سے صحت یابی کی جانب گامزن کرچکے ہیں ۔افغانستان میں کورونا کی الارمنگ صورت حال پر ان کا ایک مضمون ملاحظہ کیجئے ”

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *