وزیر ِتعلیم کی جانب سے خدا کا واسطہ

تحریر: زاہد احمد

گزشتہ روز سندھ کے وزیر ِتعلیم ، سیّد سردار علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں ، ‘کالج ایجوکیشن’ سے متعلق اراکین ِ سندھ اسمبلی کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ، اراکین ِ سندھ اسمبلی سے مخاطب ہوکر ، ان کو خدا کا واسطہ دیکر التجا کی ہے کہ وہ لیکچرارز کے تبادلوں کی سفارش نہ کریں ۔ وزیر ِتعلیم کو معلوم ہوگا کہ کتنی بڑی تعداد میں کالج اساتذہ ، اراکین ِ صوبائی و قومی اسمبلیوں سے اپنے تبادلے کی سفارشات کرواتے ہونگے ۔ سندھ میں سفارشی کلچر عام ہے ۔ جس سرکاری ملازم کا کوئی بھائی ، رشتے دار ، دوست یا گاؤں کا آدمی بڑا بیوروکریٹ ، سیاسی لیڈر یا ممبر قومی و صوبائی اسمبلی ہوگیا ، بس اس کے وارے نیارے ہیں ایسا شخص عوامی مفادات ، سرکاری ضروریات اور قواعد و ضوابط کے تحت نہیں بلکہ اپنی مرضی و منشاء کے تحت پوسٹنگ اور عہدہ لے لیتا ہے خواہ اس جگہ اس کی ضرورت ہو کہ نہ ہو ، وہ اس عہدے کا اہل ہو کہ نہ ہو مگر سفارش ہے تو سب کچھ ممکن بھی ہے اور آسان بھی ۔

جن سرکاری ملازمین کا بھائی ، عزیز ، رشتے دار یا گاؤں کا آدمی کسی بڑی پوسٹ پر بیوروکریٹ ، سیاستداں یا ممبر قومی و صوبائی اسمبلی نہ ہو ، سندھ حکومت میں اس سے بڑا قسمت کا مارا کوئی نہیں ۔ ایسے ملازمین کو دورافتادہ علاقوں یا ان جگہوں پر جہاں سہولیات بالکل نہ ہوں اور اگر ہوں بھی تو کم سے کم تر ہوں ، وہاں تعیّنات کردیا جاتا ہے اور مشکل اورمحنت طلب کام لئے جاتے ہیں ۔سرکاری ملازمین کی تعیّناتیوں میں ناانصافیاں عام ہیں ، تعیّناتیوں کے ضمن میں صرف سفارش اور پیسہ چلتاہے ۔ اگر سندھ حکومت کے کسی اہل اور مستحق ملازم کی تعیّناتی اس کی اہلیت ، قابلیت اور استعداد ِ کار کے مطابق ہے تو اسے معجزہ ہی سمجھ لیجئے ۔ اس نوعیت کی تعیّناتیوں سے پورے سندھ میں کالج ایجوکیشن کا نظام شدید ابتری کا شکار ہوکر رہ گیا ہے ۔ کچھ کالجز اساتذہ سے بالکل محروم ہیں تو کچھ کالجوں میں منظور شدہ تعداد سے کئی گنا زیادہ اساتذہ بغیر کام کئے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں: وزیرِتعلیم کے دو صائب فیصلے

ایک مرتبہ میں نے حیدرآباد شہر کے ایک گرلز کالج کی پرنسپل سے ان کے کالج میں میں قطعی غیرضروری طور پر ، منظور شدہ تعداد (ایس این ای ) سے دوگنا سے بھی زائد تعداد میں خواتین اساتذہ کی تعیّناتی پر ان سے استفسار کیا تو ان کا جواب تھا کہ ، ان سفارشی خواتین میں سے اگر میں نے ایک بھی خاتون کو ہٹانے کی بات کی تو اگلے روز میرا تبادلہ یقیناً سندھ کے کسی دورافتادہ علاقے میں ہوجائیگا ۔ شنید ہے کہ کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ ، ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ کی خالی اسامی سمیت دیگر انتظامی اسامیوں پر تعیّناتیوں کے لئے کالج اساتذہ کے انٹرویوز کر رہا ہے ۔ ‘دروغ بر گردن ِ راوی’ ، کسی نے مجھے بتایا ہے کہ ان اسامیوں کے لئے ایک ایسی خاتون کالج پرنسپل کا بھی انٹرویوز کیا گیا ہے ، جن کے متعلق مشہور ہوگیا تھا کہ وہ “آرٹس و کامرس” کالج کی پرنسپل ہوتے ہوئے وہ اپنے کالج میں لاکھوں روپے سالانہ “مینڈک” کی خریداریوں پر خرچ کرتی رہیں ۔

واضح رہے کہ “مینڈک” کی مد میں اخراجات صرف ان کالجوں میں ہوتے ہیں جہاں ‘علم الحیوانیات’ پڑھایا جاتا ہے اور اس کے تجربات ہوتے ہیں ۔ اگر موجودہ وزیر ِ تعلیم کے ماتحت بھی افسران کی تقرّریاں ، میرٹ سے ہٹ کر سفارش اور رشوت کی بنیاد پر ہونگی تو اس صوبے کی اس سے بڑی بدنصیبی ہو نہیں سکتی ۔ وزیر ِ تعلیم نے اسمبلی میں بات لیکچرارز کی کی ہے ، اسکول ٹیچر کی نہیں اس لئے یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ یہ بات ‘کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ’ کے تناظر میں کہی گئی ہے تو میں یہ گمان کرتا ہوں کہ اس ڈپارٹمنٹ میں افسران کی سطح پر بلا مبالغہ 95 فیصد تعیّناتیاں میرٹ کے برخلاف ہیں باقی مانندہ جو 5 فیصد تعیّناتیاں میرٹ پر ہیں ، ان کے پیچھے بھی سرکار کی کوئی نہ کوئی مجبوری ہے ، مثلاً ایسے افسران اپنی صلاحیتیوں ، استعدار ِ کار کی وجہ سے محکمے کی مجبوری ہیں یا اتنے دبنگ ہیں کہ اگر سرکار نے ان پر بری نظر ڈالتی تو وہ سرکار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔

مزید پڑھیں: ڈائریکٹر جنرل کالجز کی تعیّناتی کا قضیہ

سندھ میں تعلیم اور تعلیمی نظام کو سدھارنا اور سنوارنا ہے تو صرف کالج کے لیکچرارز کے لئے ہی نہیں ، اسکول کے اساتذہ ، ہیڈ ماسٹرز ، فیلڈ آفسز میں تعیّنات افسران اور کالج پرنسپلز کے لئے بھی اراکین ِ اسمبلی سے التماس کرنا ضروری ہے کہ وہ ان مناصب کے لئے بھی ان سے سفارش نہ کریں ۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر وزیر ِ تعلیم سندھ ، سندھ میں سفارشی کلچر کا خاتمہ کرتے ہوئے ان تمام افسران کو فارغ کردیں جو سفارشی بنیاد پر مختلف اسامیوں پر تعیّنات ہیں تو اس وقت کم از کم کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے دفاتر تو خالی ہی سمجھئیے ، ہاں البتّہ ان سفارشیوں کی جگہ اگر میرٹ پر افسران تعیّنات کردئیے گئے تو صوبے میں ایک خوشگوار اور خوش آئند تعلیمی انقلاب برپا ضرور ہوجائے گا ۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *