قلعہ کوٹ ڈیجی دلچسپ معلومات (قسط نمبر 2)

میر سہراب خان تالپور بن میر چاکر خان تالپور سہرابانی خاندان کا پہلا حکمران تھا جس نے خیر پور ( سابقہ نام سہراب پور ) کو اپنا دارالحکومت بنایا اور اپنے علاقے کو بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف مقامات پر تین قلعے تمیر کراۓ ۔
ان میں سے ایک ’’تھر‘‘ کے علاقے میں’’ قلعہ امام گڑھ اور دوسرا جوت پور جبل کی سرحد پر’ قلعہ شاہ گڑھ کے نام سے بنایا گیا جبکہ تیسرے قلعے کی بنیاد 1797ء میں خیر پور سے 20 کلومیٹر جنوب میں واقع احمد آباد کی ایک پہاڑی پر رکھی گئی جو 21.33 میٹر بلند ہے۔
قریہ احمد آباد کو اب کوٹ ڈیجی کہا جاتا ہے اور یہ دفاعی حصار اس شہر کے نام کی مناسبت سے’ قلعہ کوٹ ڈیجی‘‘ مشہور ہے۔اس قلعے کے تعمیراتی کاموں کی نگرانی کا فریضہ تالپور حکومت کے وزیرتعمیرات محمد صالح زہری بلورچ کوسونپا گیا۔
1829ء میں 32 سال کے طویل عرصے میں مکمل ہونے والا یہ قلعہ دفاعی اور رہائشی دونوں مقاصد کے تحت بنایا گیا ہے ۔ اس کی لمبائی 1524 میٹر اور چوڑائی 941.40 میٹر ہے جبکہ زمین سے اونچائی ( پہاڑی کی بلندی کی مناسبت سے )21.33 میٹر ہے۔
ابتداء میں ایک نواب کی کمان میں 500 سپاہیوں کو 100 توپوں کے ساتھ قلعے کی حفاظت پر معمور کیا گیا۔
نگہداری ( نگرانی) کا یہ سلسلہ فروری 1843 ء تک جاری رہا اور پھر اسی دور میں مذموم مقاصد کے تحت سندھ میں قدم جمانے والی انگریز قوم نے تالپوروں سے حکومت چھین لی ۔
کیسے؟
اس سوال کے جواب کے لیے ہم 1613ء میں چلتے ہیں جب وقت نے اس حادثے کی پرورش شروع کی ۔
ہوایوں کہ اس سال برطانوی تجارتی پیڑا دیبل کی بندرگاہ پرلنگر انداز ہوا۔
سندھ کا علاقہ معاشی اور تجارتی نقطہ نظر سے انگریزوں کے دل میں گھر کر گیا وہ اسے حاصل کرنے کے خواب دیکھنے لگے لیکن فوری طور پر اس خواب کی تعبیر ممکن نظر نہیں آ رہی تھی ۔
اس علاقے پر قبضہ جمانے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی اور طویل وصبر آزما انتظار کی ضرورت تھی لہذا انگریزوں نے اس علاقے میں آنا جانا شروع کر دیا۔
1758ء میں انھوں نے اس وقت کے حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو سے یہاں اپنی تجارتی کوٹھی بنانے کی اجازت حاصل کر لی اور پھر انتہائی تیزی سے اپنا’’ ٹھکانہ‘‘ تعمیر کر لیا اور ظاہری طور پر’’اپنے کام سے کام رکھنے والی پالیسی‘‘ اختیار کیے رکھی لیکن جب انھوں نے سرکاری معاملات میں دخل اندازی کرنے کی ابتدائی کوششیں کیں تو 1775ء میں کلہوڑوں نے ان کی تجارتی کوٹھی کو بند کر نے کا حکم جاری کر دیا۔
1783ء میں جب کلہوڑا خاندان کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور تالپور خاندان نے سندھ کی حکومت سنبھالی تو انگریزوں نے تالپور حکمرانوں سے میل ملاپ بڑھایا اور 1808ء میں نہایت مکاری سے میر غلام خان تالپور سے ایک تجارتی معاہدہ کرنے میں کا میاب ہو گئے جس کی رو سے ان کی تجارتی کوٹھی کا تالا کھل گیا۔
1839 ء میں چال باز انگریزوں نے اپنی تجارتی کوٹھی اور مال و اسباب کی حفاظت کا جواز پیش کرتے ہوۓ تالپوروں سے اپنی علیحدہ فوج رکھنے کی اجازت بھی حاصل کر لی اور پھر آہستہ آہستہ خفیہ طور پر اپنے فوجی دستوں کی تعداد بڑھاتے چلے گئے ۔ جب انھیں اپنی طاقت کا خوب اچھی طرح اندازہ ہو گیا تو انھوں نے تالپور حکومت کے معاملات میں مداخلت شروع کر دی ۔
تالپوروں نے جب سرکاری کاموں میں مداخلت کے خلاف احتجاج کیا تو دونوں فریقین میں اختلافات بڑھتے چلے گئے جس کے نتیجے میں 1843 ء میں تالپوروں اور انگریزوں کے درمیان میانی کے میدان میں جنگ چھڑ گئی۔
انگریز جنزل چارلس نیپئر نے مؤثر جنگی حکمت عملی کے تحت صرف اپنے 2800 سپاہیوں کی مدد سے تالپورفوج کی 20 ہزار کی نفری کو شکست دے کر سندھ کے دارالحکومت حیدر آبادسمیت دیگر اہم شہروں پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد انگریزوں کی فتوحات کا سلسلہ بڑھتا رہا۔
وہ سندھ سے نکل کر پنجاب تک پہنچ گئے ۔ 14 اگست 1947ء کو جب غلامی کا طوق ٹوٹا تو ریاست خیر پور قلعہ کوٹ ڈیجی سمیت پاکستان کے حصے میں آ گئی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *