قلعہ کوٹ ڈیجی دلچسپ معلومات (قسط نمبر 1)

صوبہ سندھ کے شہر خیر پور سے مورو ( نواب شاہ) جاتے ہوۓ آپ کوقومی شاہراہ ( نیشنل ہائی وے) کے ساتھ واقع پہاڑوں پر ایک قلعہ دکھائی دے گا۔
یہ کوٹ ڈیجی کا قلعہ ہے ۔
’’کوٹ‘‘ ہندی زبان میں قلعہ کو کہتے ہیں اور’’ڈیجی‘‘ ایک
ہندو رانی کا نام ہے جو قدیم زمانے میں اس علاقے پر حکومت کرتی تھی۔ قدیم
کوٹ ڈیجی شہر کے کھنڈرات اب بھی نئے کوٹ ڈیجی شہر سے تھوڑی ڈور ایک پہاڑی
پر واقع ہیں ۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کوٹ ڈیجی کو موہن جودڑو (لاڑکانہ )سے بھی قدیم بتاتے ہیں۔
’’ قلعہ کوٹ ڈیجی‘‘ کی تمیر سے متعلق مختلف بیانات ملتے ہیں ۔ کچھ مؤرخین کہتے ہیں کہ یہ قلعہ کلہوڑا خاندان کے حکمرانوں نے تعمیر کرایا تھا جبکہ بعض مؤرخین کے
مطابق ’’1783ء میں تالپور خاندان کے سرداروں نے کلہوڑا خاندان کے آخری حکمران غلام نبی کلہوڑا کو حیدر آباد کے مشہور قصبہ’ہالا‘ کے قریب لڑی جانے والی’’جنگ ہالانی‘‘ میں شکست دے کر سندھ پر اپنی حکومت قائم کر لی اور غلام نبی کالہوڑا فرار ہو گیا تھالیکن اس کی بہادر والدہ اور کلہوڑا فوج کے سپہ سالار جزل شالمین شیدی کی مشتر کہ حکمت عملی کے باعث تالپورفوج دوسال تک حیدرآباد کے قلع کوفتح کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی ۔
بعد ازاں ایک کلہوڑا سپاہی کی غداری کی وجہ سے قلعے کی فصیل میں شگاف ہوا اور تالپور فوج اس شگاف کے ذریعے قلعے کے اندر داخل ہونے میں کا میاب ہوگئی ۔
جنرل شالمین شیدی نے اپنی بچی کھچی فوج کے ساتھ تالپوروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بالا آخر جنرل شالمین شیدی گرفتار ہوا اور اس کی فوج کے حوصلے پست ہو گئے
جس سے فائدہ اٹھا کر تالپورفوج نے حیدر آباد کے قلعے پر قبضہ کر لیا اور میر بجار
خان تالپور کے بیٹے میر فتح خان تالپور کو متفقہ طور پر سندھ کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔ اس نے حکومت سنبھالنے کے بعد سندھ کو تین حصوں ( حیدر آباد خیر پور اور میر پور خاص)
میں تقسیم کیا۔
حیدرآباداور وسطی سندھ کی حکمرانی حیدر آبادی یا شہداد پوری تالپوروں کو ملی ۔
مینا کانی تالپور میر پور خاص کے حاکم بنے اور خیر پور کی حکومت سہرا بانی تالپوروں
کے حصے میں آئی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *