اِحرام

حج یا عمرہ کرنے یا دونوں ایک ساتھ ادا کرنے کی نیت کرتے ہی انسان حالتِ احرام میں چلا جاتا ہے۔
احرام کے لفظی معنی (کچھ چیزوں یا کاموں کو) حرام کرنا ہے.جب کوئی شخص احرام کی حالت اختیار کر لے تو چند حلال چیزیں اور کام اب اس کے لیے حرام ہو جاتے ہیں ، لہٰذا اب اسے ان کاموں سے رک جانا چاہیے مثلاً: مردوں کا سلے ہوئے اور عورتوں کا بھڑکیلے کپڑے پہننا۔ احرام کے لیے عورتیں سادہ لباس پہن لیتی ہیں جبکہ مرد دو اَن سلی چادروں سے جسم ڈھانپتے ہیں۔اس کے علاؤہ ان کاموں سے روکنا ضروری ہے : ناخن کاٹنا، بال منڈوانا، کانٹا یا جان بوجھ کر کھینچ کر نکال دینا۔ خوشبو لگانا یا خوشبودار صابن استعمال کرنا۔ میاں بیوی کا ازواجی تعلقات قائم کرنا۔ منگنی کرنا یا کرانا، خواہ اپنی ہو یا کسی اور کی۔ شادی کرنا۔ دستانے پہننا۔مردوں کا ایسی چیز سے سر ڈھانپنا جو سر کو چھو رہی ہو، البتہ چھتری یا اس قسم کی کسی چیز سے سر پر سایہ کیا جا سکتا ہے لیکن اسے سر سے فاصلے پر رہنا چاہیے۔ قمیص، پگڑی، چغہ اور پاجامہ پہننا۔ عورتوں کا چہرے پر نقاب ڈالنا، سوائے اس صورت کے جب مرد قریب ہوں اور کپڑا چہرے کو نہ چھوئے۔شکار کرنا۔جب کوئی شخص احرام کی حالت میں ہو تو اسے اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ہر اس کان سے بچے جس سے اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے۔ احرام کی حالت میں یہ اور زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو نہ زبان سے دکھ پہنچایا جائے اور نہ ہاتھ سے اس کا ایذا دی جائے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *