آدم علیہ السلام

حضرت آدم علیہ السلام دنیا کے سب سے پہلے انسان تھے ۔ وہ سب سے پہلی نبی تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔
جب اللہ تعالٰی نے فرشتوں سے کہا کہ وہ آدم کو پیدا کرے گا تو انھوں نے کہا:
“کیا تو زمیں میں ایسی مخلوق بنائے گا جو اس میں فساد کرے اور خون بہائے گی؟ جبکہ ہم کسی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ اللّٰہ نے کہا: بلاشبہ میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔اور اللّٰہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو (ان چیزوں کے) سب کے سب نام سیکھا دیے(جن کے ذریعے سے انھوں نے دنیا کی ایسی زندگی گزارنی تھی جو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر کی تھی)، پھر انھیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا : اگر تم سچے ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام(ہی) بتاؤ۔ انھوں نے کہا: تو پاک ہے، ہمیں علم نہیں سوائے اس کے جو تو نے ہمیں سکھا دیا، بے شک تو ہی خوب جاننے والا حکمت والا ہے۔
آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالٰی نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کریں تاکہ وہ جان لیں کہ آدم کی زندگی اعلیٰ اور ارفع مقصد کے لیے ہے تو ابلیس کے سوا سب سجدے میں گر گئے۔ ابلیس جنوں میں سے ایک جن تھا۔اس نے سجدہ کرنے سے انکا کر دیا اور اکڑ کر کہا:
“(میں اسے کیوں سجدہ کروں؟) میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے”
اللّٰہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے لیے ان کی بیوی حوا علیہا السلام کو پیدا کیا۔ قرآن مجید میں حوا علیہا السلام کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کے ذریعے آدم علیہ السلام کا جوڑا بنایا تاکہ وہ سکوں حاصل کریں۔اللّٰہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام کو ایک خوبصورت زندگی دے کر جنت میں رہنے اور اپنی مرضی کے مطابق ہر نعمت استعمال کرنے کی اجازت دی سوائے اس کے کہ وہ ایک خاص درخت کے قریب جاکر اس کا پھل نہ استعمال کریں۔ مگر شیطان جو ان کا شدید دشمن تھا،اپنے فریب سے ان کو بہکا دیا۔ وہ ان کو خیر خواہ بن کر آیا اور کہا:
“تمھارے دب نے تمھیں اس درخت سے صرف اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ،یا کہیں تم دونوں ہمیشہ کی زندگی نہ پا لو”
وہ شیطان کے بہکاوے میں اکر اللّٰہ کے حکم کو بھول گئے اور درخت کا پھل توڑ کھایا۔ ایسا کرنے کی دیر تھی کہ ان کے بدن سے لباس اتر گیا۔اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے انھیں درخت کا پھل نہ کھانے کا حکم یاد دلایا۔
پھل کھانے والی آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام دنوں سے سے ہوئی تھی اس لیے قرآن اس غلطی کی ذمہ داری دونوں پر ڈالتا ہے جبکہ موجودہ انجیل یہ کہتی ہے کہ حوا علیہا السلام نے آدم علیہ السلام کو اس درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی تھی۔بلکہ یہاں تک کہتی ہے کہ حوا نے آدم سے پہلے پھل کھا لیا تھا قرآن مجید بتاتا ہے گناہ دونوں نے کیا اور اللّٰہ سے اس پر معافی دونوں نے مانگی جس پر اللّٰہ نے ان کو معاف کر دیا اور انھوں زمیں پر اترنے کو حکم دیا:
” تم دونوں اکٹھے اس سے ستر جاؤ، تم میں سے بعض بعض کا دشمن ہے، پھر اگر واقعی تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کے پیچھے چلا، نہ وہ گمراہ ہو گا اور نہ مصیبت میں پڑھے گا”
اسلام میں ایسا کوئی تصور نہیں کہ آدم علیہ اسلام اور حوا علیہا السلام کا گناہ وراثت میں سب انسانوں کو منتقل ہوا اور ہم سب پیدائشی گناہگار ہیں۔اس کے برعکس انسان فطرتاً گناہوں سے پاک اور معصوم ہوتا ہے۔ہر انسان کو عمل کی آزادی حاصل ہے، اس لیے وہ جو عمل بھی کرتا ہے، اپنی ذمہ داری پر کرتا ہے۔وہ جس راستے کا انتخاب کرے گا ، اس کے لیے وہ خود اللّٰہ کے سامنے ذمہ دار ہو گا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے یہ بات بڑی خوبصورتی سے کہی ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *