ماہِ صفر

فضائل

نبی کریم صہ نے فرمایا:

“کوئی بیماری (مشیتِ الٰہی کے بغیر)متعدی نہیں ہوتی، بدشگونی لینا(جائز)نہیں ہے، الُو کی نحوست (یاروح کی پکار) اور ماہِ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں” (بحاری:5705)۔

 مسنون اعمال

قرآن وحدیث میں کہیں ماہِ صفر میں کسی نیک عمل کو فضیلت کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا, لہٰذا جو مسنون اعمال عام دنوں میں کیے جاتے ہیں، وہ اس ماہ میں بھی کیے جائیں۔

 رسم و رواج

ماہِ صفر کو منحوس سمجھنا، بالخصوص اس کے ابتدائی تیرہ دِنوں کو۔ ان کو یہ لوگ تیرہ تازی کہتے ہیں۔ نحوست کی وجہ سے اس ماہ میں شادیاں نہ کرنا، نیز مٹی کے اور پرانے برتن توڑ دینا۔ صفر کے آخری بدھ (چہار شنبہ) کو “یوم غسل صحت” منانا، شیرینی تقسیم کرنا، جلوس نکالنا اور مریضوں کو صحت یابی لیے تعویذ یا چھلہ وغیرہ پہنانا اور چوری کی رسم ادا کرنا۔یہ سب اعمال قرآن و سنت کی رو سے ممنوع ہیں ۔

 اہم واقعات

  • 12 صفر 2 ھ / 4 اگست 623 ء کو وحیِ الٰہی سے کفار سے قتال کی اجازت دی گئی
  • صفر 2ھ/اگست 623ء میں غزوہِ”ابواء” یا “ودّان” پیش آیا۔
  • صفر 4ھ/ جولائی 625ء میں “رجیع اور بئر معونہ” کے سانحات پیش آئے۔
  • یکم صفر 12ھ / 17 اپریل 633 ء کو حضرت خالد بن ولید رضہ اور ایرانی سپہ سالار قارن بن قریانس کے مابین جنگ مذار (عراق) لڑی گئی جس میں ایرانیوں کو شکست ہوئی اور 30 ہزار ایرانی مارے گئے۔
  • 16 صفر 35ھ / 30 مارچ 636 ء کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضہ اپنے لشکر کے ہمراہ قادیسہ میں اترے
  • 26 صفر 16 ھ / 29 مارچ 637 ء بروز جمعتہ المبارک حضرت سعد بن ابی وقاص نے مدئن فتح کیا۔ کسریٰ کے قصرا بیض (وائٹ ہاؤس) میں منبر رکھا اور نماز جمعہ ادا کی۔یہ اس سر زمین سے پہلا جمعہ تھا
  • 25 صفر 20ھ / 11 فروری 641 ء کو ہمدان (ایران) فتح ہوا
  • 25 صفر 20ھ /11 فروری 641 ء کو حضرت عمر و بن عاص رضہ نے مصر کا قلعہ “فرما” فتح کر لیا اور اسی روز قسطنطنیہ میں قیصر روم ہرقل فوت ہوا
  • یکم صفر 99ھ/13 ستمبر 717ء کو اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے وفات پائی اور اس کے بہنوئی حضرت عمر بن عبد العزیز رضہ مسند خلافت پر متمکن ہوئے
  • صفر 180ھ/ اپریل 796ء میں امیر اندلس ہشام بن عبد الرحمٰن اول نے وفات پائی اور اس کا بیٹا ءکم بن ہشام تخت نشیں ہوا
  • صفر 273ھ / جولائی 886 ء میں امیر اندلس محمد بن عبد الرحمٰن ثانی فوت ہوا اور اس کا بیٹا منذر بن محمد تخت نشیں ہوا
  • یکم صفر 310ھ / 31 مئی 922ء کو مقام “واسط” (عراق) میں زمین شق ہوگئی جس سے 1300 گاؤں زمین میں دفن ہو گئے
  • 2 صفر 366 ھ / 29 ستمبر 976 ء کو امیر اندلس حکم ثانی نے وفات پائی اور اس کا بیٹا ہشام ثانی تخت نشین ہوا
  • یکم صفر 589ھ / 6 فروری 1193 ء کو سلطان صلاح الدین ایوبی رح نے دمشق میں وفات پائی
  • 9 صفر 656 ھ / 7 فروری 1258 ء کو چنگیز خان کا پوتا ہلاکو خان بغداد میں داخل ہوا۔اس نے عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کو قتل کر کے خلافت عباسیہ کا خاتمہ کر دیا ، نیز اس کی فوج کے ہاتھوں بغداد اور اس کے گردونواح میں 1 کڑوڑ 6 لاکھ سے زاید مسلمان قتل ہوئے
  • 19-17 صفر 886 ھ / 17-19 اپریل 1481 ء کو فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح عثمانی رح نے تیس برس کی حکمرانی کے بعد وفات پائی
  • 7 صفر 918 ھ / 24 اپریل 1512 ء کو عثمانی خلیفہ سلاطن سلیم اول مسند سلطنت پر فائز ہوا
  • صفر 1034 ھ / نومبر 1624 ء میں شیخ احمد سرہندی نے سرہند میں وفات پائی۔ان کو مجدد الف ثانی کہا جاتا ہے
  • 27 صفر 1037 ھ / 28 اکتوبر 1627 ء کو مغل بادشاہ رکن الدین محمد جہانگیر نے وفات پائی اور اسے شاہدرہ(لاہور) میں دفن کیا گیا۔ جہانگیر نے 22 برس حکومت کی
  • صفر 1274ھ/ 21 ستمبر 1857 کو دہلی پر انگریزوں نے قبضہ کر کے آخری مغل بادشاہ سراج الدین بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کر کے رنگون بھیج دیا
  • صفر 1324 ھ / اپریل 1906 میں شاہ فیصل بن عبد العزیز آل سعود پیدا ہوئے
  • صفر 1333ھ/ دسمبر 1914 ء میں اردو کے مشہور شاعر اور مثنوی مدو جزر اسلام کے مصنف مولانا الطاف حسین حالی فوت ہوئے
  • 13 صفر 1359ھ / 23 مارچ 1940ء کو قراردادِ لاہور میں مسلمانوں کے لیے الگ ملک کو مطالبہ کیا گیا
  • 27 صفر 1387 ھ / 6 جون 1967 ء کو تیسری عرب اسرائیل جنگ کا آغاز ہوا۔اس چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے اردن سے بیت المقدس و غرب اردن ، مصر سے جزیرہ نما سیناء اور غزہ کی پٹی اور شام سے جولان کے علاقے چھین لیے
  • 7 صفر 1400 ھ / 27 دسمبر 1979ء کو روس نے افغانستان پر حملہ کیا۔ ہزاروں روسی فوجیوں کے واصل بہ جہنم ہونے ہونے اور 10 لاکھ افغانیوں کی شہادتوں کے نتیجے میں روسی افواج 15 فروری 1989 کو ذلیل و رسوا ہوکر افغانستان سے نکل گئی
  • یکم صفر 1419 ھ / 28 مئی 1998 ء کو پاکستان 5 ایٹمی دھماکے کر کے پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بن گیا
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *