عذر ِگناہ ، بدتراز گناہ

تحریر: زاہد احمد

برطانوی سامراج کے دور میں ہندوستان کا حاکم ، انگریز جب ہندوستانیوں کو نااہل ، کمتر ، گنوار اور جاہل سمجھتا تھا تو کاروبار ِسلطنت چلانے کے لئے برطانیہ سے افسران لاکر ‘مقبوضہ ہندوستان’ پر مسلّط کردیا کرتا تھا اور عذر یہ پیش کرتا تھا کہ ہندوستانی جدید طرز ِحکومت سےناواقف ہیں ۔ اس لئے ہمیں افسران برطانیہ سے لاکر تعیّنات کرنے پڑتے ہیں ۔

برطانیہ سے درآمد شدہ یہ گورے افسران اپنی مخصوص تربیت اور طرز ِ حکمرانی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہندوستان پر حکومت کرتے تھے ۔ سلطنت ِ برطانیہ نے وائسرائے سے لے کر علاقہ مجسٹریٹ تک برطانیہ سے لاکر ہندوستان پر مسلّط کردئیے اس طرح اس نے پورے ہندوستان پر ان افسران کے ذریعے اپنی مرضی و منشاء کے مطابق نوآبادیاتی نظام مسلّط کرکے ہندوستان پر حکمرانی کی ۔ بد نصیبی سے آج سندھ کے حکمرانوں اور سیاسی آقاؤں کی سوچ بھی کراچی کے لئے وہی ہے ، جو ہندوستان کے لئے برطانوی سامراج کی تھی ۔

مزید پڑھیں: میٹرک بورڈ نے 2019 کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اعلان کر دیا

کراچی کے امور چلانے کے لئے ، کراچی والوں کو نااہل ، جاہل اور کم تر سمجھتے ہوئے کراچی سے باہر کے ‘حاکموں’ کو کراچی کی حکمرانی دینا وطیرہ بن چکا ہے۔ میں یہ بات ہرقسم کے تعصّب سے بالاتر رہتے ہوئے ، خالصتاً انتظامی ، قانونی اور اخلاقی بنیادوں پر کہہ رہا ہوں ۔ پہلے پہل تو یہ رحجان پولیس اور سول بیوروکریسی میں دیکھا جارہا تھا ، پھر بلدیاتی اداروں پر بھی آئین و قانوں کی دھجّیاں اڑاتے ہوئے مقامی افسران کی جگہ غیر مقامی افسران کو تعیّنات کیا جانے لگا مگر گزشتہ روز تو انتہا ہوگئی کہ کراچی کے ایک تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر آف ایگزامینیشن کے منصب پر آئین ، قانون ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے واضح احکامات کی دھجّیاں اڑاتے ہوئے لاڑکانہ تعلیمی بورڈ کے دو ڈپٹی کنٹرولرز کو کراچی اور سکھر کے تعلیمی بورڈز کے کنٹرولرز آف ایگزامینیشن کا اضافی چارج دے دیا گیا ۔

حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے سندھ کے تعلیمی بورڈز کو ‘سونے کی چڑیا’ سمجھتے ہوئے ان پر تسلّط اور غلبہ حاصل کرنے کی ایک جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔ سندھ کے تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیز کی ‘کنٹرولنگ اتھارٹی’ گورنر سے لے کر وزیراعلٰی کو منتقل کرنے کے پس ِ پردہ بھی یہی محرّک رہا ہے پھر سندھ سرکار نے ‘یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ’ کے نام سے ایک باقاعدہ محکمہ قائم کردیا ۔ یونیورسٹیز اور بورڈز کی کلیدی اسامیوں پر تقرّری کے لئے ‘سرچ کمیٹی’ کا قیام عمل میں لایا گیا مگرسندھ کی یونیورسٹیز اور بورڈز میں میرٹ اپنی جگہ نہ بناسکا ۔ بورڈز میں جن سیکریٹریز اور کنٹرولرز آف ایگزامینیشن کو ‘سرچ کمیٹی’ نے میرٹ پر تعیّنات کرنے کی سفارش کی ، انہیں قانونی موشگافیوں کی بھینٹ چڑھادیا گیا ۔ حال ہی میں سندھ کے 5 تعلینی بورڈز کے چئیرمین کے انتخاب کے لئے بذریعہ ‘سرچ کمیٹی’ ہونے والے انٹرویو ، محض محکمے کی جانب سے اعلان کردہ تاریخ سے محض 2 روز پہلے رکوادئیے گئے جس کا کوئی جواز یا توجیہہ متعلقہ محکمہ آج تک پیش نہیں کرسکا ۔

مزید پڑھیں: یو آئی ٹی اعلی اور معیاری تعلیم کے ساتھ ملازمت بھی، 500 سے زائد طلبہ کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم

کراچی کے انٹرمیڈیٹ اور میٹرک بورڈز کے کنٹرولرز آف ایگزامینیشن اور سیکریٹریز کی اسامیاں طویل عرصے سے خالی پڑی ہیں ۔ ان اسامیوں پر عموماً متعلقہ بورڈز کے ہی افسران کو اضافی چارج دے کر امور چلائے جارہے تھے کہ میٹرک بورڈ میں لاڑکانہ بورڈ کے ایک ڈپٹی کنٹرولر آف ایگزامینشن کا اضافی چارج دے دیا گیا اور جب متعلقہ وزیر سے اس کی وجہ جاننا چاہی تو انہوں نے "عذر ِ گناہ ، بدتر از گناہ” کے مصداق کیا مضحکہ خیز توجیہہ پیش کی کہ سن کر وزیر ِ موصوف کے پیش کردہ جواز پر حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی ، وزیر ِموصوف فرماتے ہیں کہ ” ہمیں طلاع ملی تھی کہ بعض کنٹرولرز کے پاس دو یا تین عہدوں کے چارج ہیں اس لئے لاڑکانہ بورڈ کے دوافسران کو کراچی اور سکھر بورڈ کے کنٹرولرز کا عارضی چارج دیا گیا ہے” ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ان بورڈز میں فی الوقت کنٹرولرز کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے ، جب کنٹرولر ہی نہیں ہے تو کنٹرولر کو دو یا تین چارج دئیے جانے کی اطلاع دینے والے نے وزیر ِ موصوف کو کیسے ‘ماموں’ بنایا پہلے تو اس کی تحقیق ہونی چاہئیے ۔ دوسری بات یہ کہ اگر کراچی بورڈ یا سکھر بورڈ کے ہی کسی جونئیر افسر کے پاس ان دونوں بورڈز کے کنٹرولرزآف ایگزامینیشن کے اضافی چارج تھے ، تو میرے محترم وزیر ِ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ، یہ بتانا پسند فرمائینگے کہ لاڑکانے کےجن جونئیر افسران کو آپ نے کراچی اورسکھر بورڈز کے کنٹرولرز کے چارج دئیے ہیں کیا وہ ‘ڈبل چارج’ (اضافی چارج) نہیں ، اگر لاڑکانہ بورڈ جیسے چھوٹے ، کم عمر ، کم تجربہ رکھنے والے لاڑکانہ بورڈ کے جونئیر اور کم تجربہ رکھنے والے افسران کی جگہ کراچی اور سکھر بورڈ کے اپنے ہی افسران کو ، جو اپنے اپنے بورڈز کے معاملات کو لاڑکانہ بورڈ کے افسر کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر انداز میں امور سرانجام دے رہے تھے ان کو ہی چارج دینے میں کیا قباحت تھی ۔

مزید پڑھیں: کراچی: اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ نے کل ہونے والے پرچے ملتوی کردئیے

اگر وزیر ِ موصوف لاڑکانہ بورڈ جیسے چھوٹے اور نوزائد بورڈ کے دو جونئیر افسران کو کراچی اور سکھر جیسے بڑے اور پرانے بورڈز کی سینئر پوسٹوں پر تعیّناتی کا کوئی معقول اور تسلّی بخش جواب دیتے تو بہت بہتر ہوتا ، ان افسران کو چارج دینے کی جو توجیہہ وزیر ِ موصوف نے پیش کی ہے وہ معقولیت کا درجہ نہیں رکھتی ۔ تیسری بات یہ ہے کہ گزشتہ روز سندھ کابینہ کے ماہ اگست میں منعقد ہونے والے اجلاس کا نوٹس میری نظر سے گزرا ہے جس میں اجلاس کے ایجنڈے کے آئٹم نمبر 22 میں تو یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی ‘کنٹرولنگ اتھارٹی’ وزیر ِاعلٰی سندھ کو ظاہر کیا گیا ہے (ایجنڈے کا عکس ذیل میں ملاحظہ ہو) جب کہ وزیر ِ موصوف کا مؤقف ہے کہ کنٹرولنگ اتھارٹی وہ (وزیر) ہیں ، ذرا اس بات کی بھی وضاحت ہوجائے کہ دراصل سندھ میں یونیورسٹیز اور بورڈز کی کنٹرولنگ اتھارٹی ہے کون ؟

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *