دعوت کے موثر ترین ذرائع (دوسری قسط)

3۔ قرآنی دعوت :
دعوت کا ایک مؤثر ترین ذریعہ قرآن کریم ہے کہ قرآن کریم کے ذریعے دعوت کو عام کیا جائے۔ نبی کریمﷺ قرآن کے ذریعے مشرکین کو دعوت دیا کرتے تھے۔ چنانچہ مشرکین کی کسی مجلس کے پاس سے گزر ہوتا تو قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دیتے۔ چونکہ وہ لوگ عرب تھے اس لئے انہیں ترجمہ کی ضرورت نہیں تھی، گویا خود تلاوت قرآن کریم بھی دعوت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔

اس کے ساتھ قرآن کریم کی تعلیمات اور بنیادی عقائد کو عنوان بنا کر دعوتی انداز اپنایا جائے تو اس کی قوت تاثیر بھی زیادہ ہوگی اور سمجھنا بھی آسان ہوگا۔

قرآن کریم کی دعوت کا ایک انداز یہ ہے کہ اس کو صرف مسلمانوں کی کتاب سمجھ کر پیش کرنے کی بجائے اسے تمام انسانیت کی فلاح کے لئے خداوند قدوس کا مرتب کردہ قانون بنا کر پیش کیا جائے تاکہ وہ اسے سننے اور اس کے پیغام کو سمجھنے کے لئے آمادہ ہوں۔ اگر اس طریقے سے دعوت کو عام کیا جائے اور قرآن کو بنیاد بنا کر ہی دعوت دی جائے تو مسلم غیر مسلم سب کے لئے یکساں مفید ہوگا اور دعوت مؤثر بھی ہوگی۔

تیسرا دعوت دیتے ہوئے قرآن کریم کا اسلوب ملحوظ خاطر رکھا جائے اور اس اسلوب کے مطابق دعوت دی جائے گی تو ان شاء اللہ وہ مزید مؤثر ہوگی۔

اسلوب دعوتِ قرآنی :
قرآن کریم کے ذریعے دعوت دیتے ہوئے اس کے اسلوب کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔ قرآن کریم نے دعوت کے لئے مندرجہ ذیل اسلوب اختیار کئے۔

حکمت :
پہلا اسلوب یہ بتلایا کہ دعوت حکمت کے ساتھ دی جائے۔ حکمت کو قرآن میں خیر کثیر قرار دیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
“اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے، اسے حکمت عطا کرتا ہے اور جسے حکمت دی گئی اسے خیر کثیر دی گئی”۔
حدیث میں نبی کریمﷺ نے حکمت کی نعمت مل جانے کو قابل رشک قرار دیا۔
اللہ تعالیٰ نے ہر ایک پیغمبر کو کتاب کے ساتھ حکمت بھی عطا کی اور نبی کریمﷺ کے مناصب نبوت میں یہ کتاب اللہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حکمت کی تعلیم بھی شامل تھی جو نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام کے ذریعے امت تک پہنچائی۔

حکمت کا مفہوم :
مفسر علامہ آلوسیؒ حکمت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “حکمت سے مراد وہ بصیرت و شعور ہے جس کے ذریعے انسان حال کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے کلام کرے”۔

مطلب یہ ہے کہ جہاں سختی سے بات کرنی ہو وہاں سختی سے کرے، جہاں نرمی سے کرنی ہو وہاں نرمی سے کرے، اختصار کی جگہ اختصار اور طوالت کی جگہ طوالت اختیار کرے، جہاں صراحت سے بات کرنا مخاطب پہ ناگوار ہو وہاں اشارے اور کنایہ سے گفتگو کرے۔

موعظہ حسنہ :
امام راغب اصفہانیؒ کے نزدیک موعظہ حسنہ سے مراد یہ ہے کہ: “خیر کا اس طرح ذکر کرنا کہ جس سے دل میں رقت پیدا ہو”۔ عبد القادر جرجانیؒ فرماتے ہیں: “خیر کا تذکرہ جس سے سخت دل نرم ہوں، آنکھیں اشکبار ہو جائیں اور بداعمالیوں کی اصلاح ہو جائے”۔
یعنی موعظہ حسنہ کلام کی وہ خاصیت ہے کہ جس میں درد مندی اور خیر کواہی کا عنصر کار فرما ہوتا ہے۔ اس میں محض دلائل کا انبار مقصود نہیں ہوتا بلکہ اخلاص و محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر مفہوم کو دلوں میں اتارنے کے لئے مناسب اور موزوں الفاظ کا انتخاب کیا جائے۔

مجادلہ حسنہ :
مجادلہ اس مناظرہ کو کہا جاتا ہے کہ جس میں اظہار حق کی بجائے مد مقابل کو الزام دینا اور خاموش کرانا مقصود ہوتا ہے۔ مفتی محمد شفیع عثمانیؒ فرماتے ہیں: مجادلہ سے مراد مناظرہ ہے اور حسنہ سے مراد یہ ہے کہ اگر دعوت میں کہیں بحث و مناظرہ کی ضرورت پیش آ جائے تو وہ مباحثہ بھی اچھے طریقے سے ہونا چاہئے۔

امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ اس اسلوب سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسانی معیارات تین ہیں۔ یعنی انسان تین گروہوں میں سے
کسی ایک میں ہوگا، لہذا ہر ایک کو اسی کے مطابق دعوت دی جائے۔ حکماء کو دعوت کے لئے پہلا طریقہ اختیار کیا جائے، عوام کے لئے دوسرا اور منکرین کے لئے تیسرا طریقہ اختیار کیا جائے۔

مشترکہ امور پہ گفتگو کرنا :
دعوت قرآنی کا اہم اسلوب یہ ہے کہ مخالف سے مشترکہ امور پہ گفتگو کی جائے۔ یعنی ان امور کو مد نظر رکھ کر بات کی جائے جو دونوں کے نزدیک مسلم ہوں۔ ابتداء میں تو امت ایک ہی تھی بعد میں اختلاف کیا گیا اور تفریق پیدا کی گئی، اس لئے ہر ایک کتاب اور ہر پیغمبر پچھلی نبی اور کتاب کا تسلسل ہی ہوتا ہے اور انہی تعلیمات کی روشنی میں نئی ہدایات لے کر آتا ہے۔ اسی لئے قرآن کے بارے میں جا بجا یہی بات دہرائی گئی کہ یہ کوئی نئی کرٓکتاب نہیں ہے بلکہ سابقہ کتب تورات، انجیل، زبور اور تما صحائف کی تعلیمات کا تسلسل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کر دعوت دینے کے لئے نبی کریمﷺ کو بھی یہی تعلیم دی۔ ارشاد خداوندی ہے:
کہہ دو: اے اہلِ کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہم میں اور تم میں مشترک ہے، کہ ہم اللہ کےت سوام کسی اور کی عبادت نہ کریں۔ نہ اس کے ساتھ کسی شریک ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو: تم گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں”۔

4۔ مخالف کی نفسیات کا خیال :
دعوت میں مخالفین کی نفسیات کا خیال رکھتے ہوئے ان کی نفسیات کو سمجھ کر گفتگو کرنا، دعوت کے مؤثر ہونے کا اہم ذریعہ ہے۔

عرب نفسیات :
اہلِ عرب کی نفسیات یہ تھیں انہیں مال و منصب سے بہت لگاؤ تھا۔ نبی کریمﷺ نے جب دعوت دی تو فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جس سے تم عرب و عجم کے بادشاہ بن جاؤ گے، ان کے پوچھنے پہ پھر بتایا کہ وہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ ہے۔ اس سے اصل مقصود ان کی نفسیات کو دیکھتے ہوئے یہ بات ذہن نشین کرانا مقصود تھی کہ اصل منصب و بادشاہت اسی کلمہ کو مان لینے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ہے۔

زنا کی اجازت مانگنے والے کو نصیحت:
معجم کبیرطبرانی کی روایت ہے کہ ایک نوجوان آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرتاہے کہ اے اللہ کے رسول! آپ مجھے زناکی اجازت دیجئے۔ اتناکہنا تھا کہ صحابہ میں ایک شور بپا ہوگیا،آپﷺ نے فرمایا :اس کو مجھ سے قریب کرو، وہ قریب ہوکر آپﷺ کے سامنے بیٹھ جاتاہے ۔ آپﷺ نے فرمایا: کیا تم اپنی ماں کے ساتھ یہ حرکت کرنا گواراکروگے؟ اس نے کہانہیں، آپﷺ نے کہا :اسی طرح دوسرے لوگ بھی اپنی ماں کے لئے ایسا گوارا نہیں کرتے، پھر آپﷺ نے دریافت کیا: کیا تم اپنی بیٹی کے ساتھ یہ حرکت کرناپسندکروگے؟ اس نے کہا: نہیں، آپﷺ نے فرمایا :اسی طرح لوگ اپنی بیٹیوں کے لئے اس کو ناپسند کرتے ہیں، پھر آپ ﷺ نے پوچھا:کیا تم اپنی بہن کے ساتھ یہ حرکت کروگے ؟اس نے کہانہیں، آپ ﷺنے فرمایا: اسی طرح لوگ اپنی بہنوں کے لئے اس کو ناپسندکرتے ہیں، اسی طرح ایک ایک کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی خالہ کے بارے میں دریافت کیا، آخر میں اس کے سینہ پر اپنادست مبارک رکھ کر یہ دعاء فرمائی :اے اللہ! اس کے گناہوں کو معاف فرما، اس کے دل کو پاکیزگی عطا فرما اور اس کی شرمگاہ کو محفوظ فرما۔

اس صورت میں بھی نبی کریمﷺ نے سختی کرنے کی بجائے اس کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے تمام رشتوں کی عزت سمجھائی جس کے نتیجے میں وہ خود ہی ہر معزز رستے کے ساتھ اس عمل کو غلط قرار دیتا رہا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے دل میں زنا کی برائی اور قباحت آ گئی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *