ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق کا ایک علمی اور تحقیقی کارنامہ

اردو زبان میں حمد باری تعالیٰ کے موضوع پر شہر کراچی کے ایک عاشق رسول ص محترم طاہر سلطانی کی زیر ادارت کراچی سے شائع ہونے والے اولین ماہنامہ جریدہ ” ارمغان حمد” کے 125 شماروں کا مکمل اشاریہ ترتیب دیا گیا ہے۔
جسے شہر کراچی کے ایک نوجوان اہل علم حافظ ڈاکٹر محمد سہیل شفیق، استاد شعبہ تاریخ اسلامی جامعہ کراچی نے شبانہ روز کی محنت اور بڑی عرق ریزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرتب کیا ہے۔ اس اشاریہ کو جہان حمد پبلیکیشنز کراچی نے بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔

44 سالہ ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق کراچی کے ممتاز دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے کے ساتھ ساتھ جامعہ کراچی سے اسلامی تاریخ اور علوم اسلامیہ میں ماسٹرز اور اسلامی تاریخ کے موضوع پر ڈاکٹر آف فلاسفی PhD کے علمی مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ ان دنوں جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامی تاریخ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر سہیل شفیق ملک کی مختلف جامعات کے زیر اہتمام دینی موضوعات پر شائع ہونے والے بے شمار تحقیقی رسائل و جرائد میں مدیر، مدیر انتظامی،نائب مدیر، رکن مجلسِ ادارت اور رکن مجلسِ مشاورت کی حیثیت سے بھی وابستہ ہیں ۔
مختلف ملکی و غیر ملکی جرائد میں آپ کے 60 سے زائد علمی و تحقیقی مقالات شائع ہوچکے ہیں اور مختلف اسلامی موضوعات پر 12 کتابیں بھی شائع ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں۔

ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق کی دینی، علمی اور تحقیقاتی شعبہ میں اعلیٰ اور معیاری خدمات کے اعتراف میں جامعہ کراچی سمیت کئی دینی اور علمی اداروں نے انہیں مختلف اعزازات سے نوازا ہے ۔
اس سلسلہ میں پچھلے ہفتے ادارہ چمنستان حمد و نعت ویلفیئر ٹرسٹ کراچی کے چیئرمین محترم طاہر سلطانی کی سرپرستی میں جناب لیاقت علی پراچہ کی رہائش گاہ واقع جاوید بحریہ ماری پور روڈ پر منعقدہ ایک پروقار تقریب میں ڈاکٹر سہیل شفیق کی جملہ دینی، علمی اور تحقیقی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا اور ان کی شخصیت اور خدمات کی پذیرائی کی گئی۔

اشاریہ ارمغان حمد کے مرتب حافظ ڈاکٹر محمد سہیل شفیق نے ایک سعادت مند شاگرد کے انداز میں اس ضخیم تحقیقی اثاثہ کو اپنے استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد کے نام سے منسوب کیا ہے ۔
معروف محقق اور اہل علم شخصیت خواجہ رضی حیدر نے اس اشاریہ کو ایک علمی صدقہ جاریہ قرار دیتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ کسی موضوع پر اشاریہ نویسی جانفشانی کی متقاضی ہوتی ہے۔ یہ عمومی تحقیق کے مقابلہ میں زیادہ دیدہ ریزی اور انہماک کا مطالبہ کرتی ہے ۔ کیونکہ یہ تحقیقی موضوعات اور ماخذ کی تلاش میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اس لئے اشاریہ نویسی کی اہمیت و ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق ہمارے ملک کے ان ذہین و شفیق اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں کہ جنہوں نے تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کے شعبہ میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ جامعہ نعیمیہ کراچی کے استاد الحدیث و ناظم تعلیمات علامہ جمیل احمد نعیمی نے اشارہ ارمغان حمد پر اپنے تبصرہ میں طاہر سلطانی اور ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق کو اس عظیم علمی کارنامہ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔

اسی طرح ممتاز علمی ادبی اور نعت گوئی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات پروفیسر انوار احمد زئی، محمد یامین وارثی، طاہر حسین سلطانی نے ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق کی تصنیف و تالیف کی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔
اشاریہ ماہنامہ ارمغان حمد 696 صفحات پر مشتمل ہے ۔ اشاریہ کا سرورق سادہ مگر ہلکے رنگوں کے استعمال نے اسے پروقار اور دیدہ زیب بنا دیا ہے اور اس تحقیقی مجلہ کی طباعت میں اعلیٰ درجہ کا کاغذ بھی استعمال کیا گیا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *