سینی گال کے بارے میں دلچسپ معلومات

سینی گال مغربی افریقہ میں ساحل اوقیانوس پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں موریتانیا، مشرق میں مالی،جنوب میں گنی اور گنی بساؤ اور مغرب میں بحر اوقیانوس (اٹلانٹک ) موجزن ہے۔ گئی اور مالی سے آنے والا دریائے سینی گال شمال میں موریتانیا کی سرحد کے ساتھ بہتا ہے ۔گنی سے بہہ کر آنے والا دریائے گیمبیا جنوبی سینی گال میں ایک زرخیز وادی بناتا ہے۔ جس کا آخری نصف ملک گیمبیا میں واقع ہے۔ یوں ملک گیمبیا طویل پٹی کی شکل میں ملک سینی گال کے اندر واقع ہے اور
فقط مغرب میں اسے تھوڑا سا اوقیانوس کا ساحل لگتا ہے۔ اس کا سبب استعماری تقسیم ہے۔ جب فرانس نے سینی گال پر اور برطانیہ نے گیمبیا پر قبضہ جما رکھا تھا۔ سینیگال کا جنوب مغربی علاقہ دلدل اور جنگلات پرمشتمل ہے۔ سینیگال کا رقبہ 1,96,722 مربع کلومیٹر اور آبادی ایک کروڑ 27 لاکھ کے قریب ہے۔ آبادی میں 94 فیصد مسلمان اور 5 فیصد مسیحی ہیں ۔
43 فیصد آبادی قبیله و ولوف، 24 فیصد پولار اور 15 فیصد سیریر قبیلے سے تعلق رکھتی ہے۔ مقامی زبانیں وولوف، پولار،جول اورمیٹلنڈ نکا ہیں جبکہ فرانسیسی سرکاری زبان ہے۔ دارالحکومت ڈاکار کی آبادی 30 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
سینی گال میں اسلام کو عہدِ مرابطین میں فروغ حاصل ہوا۔ 432/ 1040ء میں پہلی مرتبہ دریائے سینیگال کے جنوب میں موریتانیا کے قبیلہ لمتونہ کے لوگوں نے ایک زاویہ (تبلیغی مرکز) قائم کیا۔ 1050/442ء میں شاہان تکرور نے مرابطی داعیوں کے ہاتھوں اسلام قبول کر لیا۔ اس زمانے میں مسلمان تاجر بھی سینی گال میں وارد ہونے لگے۔ تاہم مؤرخ عبدالله الطيب السودانی کہتے ہیں کہ جب حبشہ میں مہاجرین صحابہ کرام کے ذریعے سے اسلام پھیلا تو وادی نیل
اور حبشہ (ایتھوپیا) کے کچھ لوگ ترکِ وطن کر کے دریائے سینی گال کے کنارے تکرور میں جا آباد ہوئے اور ان کے طفیلدینِ اسلام وہاں پہنچا۔ ماہرین انساب کا کہنا ہے کہ سینی گال میں جولوف سلطنت کے بانی اندیاجان اندیائی بزرگ صحابی ابووروا رضہ کی نسل سے تھے۔ چھٹی ساتویں صدی ہجری میں سنینی گال مالی کا حصہ بن گیا – 1700/1184 میں شیخ توکور نے وولوف قبیلے کو مشرف بہ اسلام کیا۔ انہوں نے فوتا میں اسلامی سلطنت کی بنياد رکھی جو 1304 / 1890 ء
تک قائم رہی ۔ 1893ء میں فرانس نے سینی گال کی آخری آزاد مسلم ریاست پر تسلط جمالیا
ساحل سینی گال پر فرانسیسی 1036ھ/1626ء سے قابض تھے۔83-1757ء کے زمانے میں ساحل سینی گال پر انگریز قابض رہے۔64-1852ء میں الحاج عمر الفوتی نے فرانس کے خلاف جہاد کیا حتیٰ کہ وہ بانجا غارا میں شہید ہو گئے۔ شیخ احمدماباجاہو نے جہاد جاری رکھا اور معرکہ سومب (1867ء)میں شہادت پائی۔فوتا میں شیخ احمد فرانسیسیوں سے آٹھ سال لڑتے رہے اور 1292ھ/1887ء میں شہید ہوئے۔مشرقی سینی گال میں شیخ محمد الا مین درامی 2 سال فرانسیسیوں سے لڑتے رہنے کے بعد 1305ھ/1887ء میں شہید ہو گئے۔1088ھ/1677ء سے یورپی سامراجیوں،پرتگالیوں، برطانیوں اور فرانسیسیوں نے ساحل سینی گال پر جزیرہ گوری کو سیاہ فام افریقی غلاموں کی تجارت کا مرکز بناے رکھا۔یہاں سے ان غلاموں کو امریکہ لے جا کر بیچ دیا جاتا اور سفید فام آقا ان سے اپنے زرعی فارموں میں جانوروں کی طرح کام لیتے۔سینی گال نے اگست 1960ء میں فرانسیسی سامراج سے آزادی حاصل کی۔89-1982ء میں سینی گال اور گیمبیا کا وفاقی سینی گیمبیا وجود میں آیا جو 7 سال بعد ختم ہوگیا۔
سینی گال کی بڑی فصلیں مونگ پھلی، باجرہ، مکئ، سورگھم، چاول۔ کپاس، ٹماٹر ہیں۔قدرتی وسائل مین مچھلی، فاسفیٹ، اور لوہا اہم ہیں۔سکہ CFA فرانک ہے(ایک ڈالر 468.55 فرانک کے برابر ہے) فی کس آمدنی 1900 ڈالر اور شرح خواندگی49.7 فیصد ہے۔سربراہ مملکت عبداللہ ودیع اور وزیر سلیمان اندینی اندیائ ہیں۔ سینی گال میں فقہ مالکی رائج ہے۔سینی گال کے سلاطین جنھوں نے فرانس سامراج کے خلاف جنگیں لڑیں،ان میں لانجور جوب،البوری نجائ، سامبالا ولی فال اور بیرام یاسین بویو شامل ہیں

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *