دعوت کے موثر ترین ذرائع (پہلی قسط)

دعوت انبیاء کرام کی مشترکہ میراث ہے، نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کے اعزاز ختم نبوت کے طفیل یہ ذمہ داری اب امت مسلمہ کے کاندھوں پر ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ دعوت کو امت تک پہنچانے کے وہ ذرائع اختیار کئے جائیں جو سب سے زیادہ موثر ہوں تاکہ دعوت سے مقصود اپنی منزل اور ہدف تک پہنچنا ممکن ہو سکے۔

ا۔ مسجد :
مساجد عبادات و دعوت کے بنیادی مرکز ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالی سورۃ الاعراف کی آیت نمبر ۲۹ میں ارشاد فرماتے ہیں:
” اور اپنے منہ ہر نماز کے وقت سیدھے کرو اور اس کے فرمانبردار ہو کر اس کو خالص پکارو”۔
سورہ جن کی آیت نمبر ۸ امیں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
” اور یہ کہ مسجد میں اللہ کے لئے ہیں، سو تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو”۔

متعدد احادیث میں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے مساجد کی فضیلت و اہمیت کو بیان فرمایا۔ فرمان نبوی ہے:
"جب تم جنت کے باغات سے گزرو تو تم خوب چرو، سوال کیا گیا کہ جنت کے باغات کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا: مساجد”۔
"جو شخص صبح کے وقت یہ شام کے وقت مسجد کی طرف جاتا ہے تو الله تعالی اس کے لئے جنت میں ہر صبح و شام مہمان نوازی فرمائیں گے”۔

دعوت کا سب سے بڑا اور موثر ترین ذریعہ مسجد ہے۔ مساجد اسلامی دعوت کے اولین مراکز ہیں اور اسلام میں مسجد کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مسجد کی اہمیت کو اور دعوتی مرکز کو پیش نظر رکھتے ہوئے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ پہنچتے ہی سب سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھی۔ چنانچہ آگے چل کر یہی مسجد دعوت کا بہت بڑا ذریعہ بنی، جس میں دینی تعلیم کے حلقے، ذکر کے حلقے، باہر سے آنے والے وفود کی ملاقا تیں، تعلیمات اسلامی سے آگاہی حاصل کرنا ہو یا اسلام کی دعوت قبول کرنی ہو تو اسے مسجد کا رخ کرنا پڑتا۔ باہمی تنازعات کا فیصلہ کرانا ہو یا باہمی صلح کرانی ہو تو اس کے لئے بھی مرکز مسجد ہی ہوتا اور اگر کوئی مال لوگوں میں تقسیم کر کے رفاہی کام سر انجام دینا ہوتا تو اس کے لئے بھی مقام مسجد ہی ہوتا تھا۔

نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے تمام دعوتی امور مسجد میں کر کے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور عملا اس کو دعوت کا سب سے بڑا مرکز قرار دیا ہے۔

صدائے توحید و رسالت کے مراکز:
مسجد سے روزانہ پانچ اوقات میں صدائے توحید و رسالت بلند کی جاتی ہے اور نماز و بھلائی کی طرف بلایا جاتا ہے۔ چنانچہ صبح و شام پنجگانہ اوقات میں مؤذن اذان کے ذریعے اللہ تعالی کی توحید، عظمت و کبریائی کا، نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعلان و اقرار کرتا ہے اور ہر خاص و عام کو نماز و کامیابی کی طرف دعوت دیتا ہے۔
جمعہ کے دن مؤذن کی صدا کے ساتھ ساتھ خطبات جمعہ کا مستقل سلسلہ ہوتا ہے جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں وعظ و نصیحت کی جاتی ہے اور اسلامی تعلیمات کا درس دیا جاتا ہے۔ چنانچہ عوام کی ایک بہت بڑی تعداد مساجد کا رخ کر کے یہ خطبات سنتی ہے اور دینی رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مساجد میں دروس قرآن، دروس حدیث، وقتا فوقتا دینی و اصلاحی مجالس کا اہتمام سمیت تمام پروگرام دعوت و اصلاح اور اسلامی تعلیمات سے آگاہی کا مؤثر ترین ذریعہ ہیں۔

اتحاد و اخوت کا عملی نمونہ :
اتحاد و اخوت اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہیں، جب کہ اتحاد و اخوت کا عملی مظاہرہ مسجد میں ہوتا ہے۔ روزانہ پانچ وقت میں لوگ نماز کے لئے حاضر ہوتے ہیں، جہاں امیر، غریب، چھوٹے اور بڑے کی تفریق کئے بغیر سب بلا امتیاز ایک ہی صف میں کھڑے کر نماز ادا کرتے ہیں اور یوں اتحاد عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اسی طرح پانچ وقت مسجد میں حاضر ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات اور حال و احوال جانے کا موقع ملتا ہے جس سے اخوت اور باہمی محبت فروغ پاتی ہے جو اسلامی معاشرے کا اہم ترین رکن ہے۔

عوامی رابطے کا ذریعہ :
دعوتی پیغام پہنچانے کے لئے سب سے مشکل کام عوام الناس تک رسائی حاصل کرنا اور اپنے سے مانوس کرنا ہے۔ اس رسائی کے حصول کے لیے اور انسیت کا ماحول سازگار کرنے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ مسجد ہے جہاں روزانہ پانچ مختلف اوقات میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شریک ہوتے ہیں اور ایک امام کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں۔ ان میں پانچ مرتبہ مسجد میں حاضری سے امام اور مقتدی کے در میان ایک انسیت ہو جاتی ہے اور باہمی تعلق مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان تک اپناکوئی پیغام پہنچانا ان کو اپنی فکر کے ساتھ منسلک کر نا انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔ اس کا عملی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ لوگ اسی فکر کو اختیار کرنے لگتے ہیں جو انہیں مسجد میں اپنے امام اور مقتداء سے ملتی ہے۔

معاشرے میں مسجد کا کردار :
معاشرے کی اصلاح و ترقی میں بنیادی کردار بھی مسجد کا ہے۔ اصلاح و تربیت کی کوئی بھی تحریک اٹھتی ہے تو اس کا نکتہ آغاز مسجد سے ہوتا ہے۔ مسجد سے اٹھنے والی اس آواز کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں اور اسی کے نتیجے میں ایک اسلامی معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ مساجد سے دی جانے والی دعوت معاشرے میں اس قدر مقبول حیثیت اختیار کر چکی ہے کہ اب اگر حاکم وقت کو بھی کسی چیز پر لوگوں کو عمل در آمد کرانا تو اس کے لئے مساجد کے ذمہ داران سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مسجد سے اس پیغام اور دعوت کو چلائیں تاکہ عوام الناس تک پیغام پہنچا کر انہیں اس پہ عمل کے لیے آمادہ کیا جا سکے۔

2 ۔ عملی معاشرہ کی تشکیل :
دعوت کا موثر ترین ذریعہ یہ ہے کہ زبان کے ساتھ ساتھ اپنے عمل اور کردار سے دعوت دی جائے۔ داعی جس پیغام کی طرف دعوت دے رہا ہے، اس کا ذاتی فعل اپنے قول کے مطابق ہو اور عوام الناس کے سامنے زبان و عمل کے بہترین امتزاج کا عملی نمونہ ہو۔ چنانچہ حضور صل اللہ علیہ وسلم نے صفا کی چوٹی پر چڑھ کر دعوت دینے سے قبل اپنی چالیس سالہ زندگی کو بطور نمونہ پیش کیا اور سب کی طرف سے صداقت و امانت کے اعتراف کے بعد دعوت کا آغاز کیا تا کہ داعی کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اور کوئی شخص جھوٹا یا خائن کہہ کر دعوت کو مسترد نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے درخشاں پہلو، اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ، چہرہ انور کی نورانیت دیکھ کر ہی متعدد کفار ایمان لے آئے کہ ایسے شخص کی دعوت کبھی جھوٹی نہیں ہو سکتی ۔

اسی عملی دعوت کا حکم اللہ تعالی قرآن میں بھی دیا:
"اے پیغمبر !آپ کہدیجئے میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میر مرنا سب کچھ اللہ کے لئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے اطاعت کے لئے جانے والا ہوں”۔

دوسرا نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا منہج یہ تھا کہ اسلام کے حقیقی نمائندگان پہ مشتمل ایسا معاشرہ وجود میں لایا جائے جو اس نظام و تربیت کی بہترین عکاسی کر سکے جس کی دنیا کو دعوت دینا اور اس پہ عمل درآمد کے لئے آمادہ کرنا مقصود تھا۔ چنانچہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام پہ مشتمل ایسی جماعت تیار کی جو تعلیمات اسلامی اور سیرت نبوی کی عملی تصویر تھے۔ چنانچہ سینکڑوں واقعات اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں کہ جہاں صحابہ کرام کے اخلاق، اوصاف، صداقت و امانت اور اسلامی تجارت دیکھ کر لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور انہیں زبان سے دعوت دینے کی نوبت ہی نہ آئی۔

عملی معاشرہ کا قیام :
امت مسلمہ کے پاس الحمد لله قرآن اور سنت رسول تو بعینہ اسی طرح محفوظ ہے، لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ آج ہمارے پاس ایسا کوئی معاشرہ موجود نہیں جس کے بارے میں مکمل یقین کے ساتھ یہ کہا جا سکے کہ یہ سو فیصد اسلامی معاشرہ ہے، اگر کسی نے اسلام کو سمجھنا ہو تو ان کے طرز حیات سے سمجھ لے۔ عملی معاشرہ کا عدم وجود دعوت کی تاثیر و افادیت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس لئے آج کے دور میں ایسے معاشرے کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ کرے کہ ہم اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے عملی طور پہ ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوں اور دنیا کے سامنے تعلیمات اسلامی کی افادیت کا عملی نمونہ پیش کر سکیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *