نائجیریا کے بارے میں دلچسپ معلومات

نائیجیریا مغربی افریقہ میں واقع ہے اور آبادی کے لحاظ سے یہ براعظم افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کے شمالمیں ملک نائجیر،مشرق میں چاڈ اور کیمرون، مغرب میں بینن (سابق داہومی ) اور جنوب میں خلیج گنی ہے۔ دریائے نائیجر ملک کے وسط میں بہتا ہے جو سیرالیون کے پہاڑوں سے نکل کر گنی ، مالی اور نائجیر میں سے گزرتا ہے۔ اس کا معاون بینو نائیجیریا کا دوسرا بڑا دریا ہے جو کیمرون سے آتا ہے۔ نائیجیریا کا رقبہ 9,23,768 مربع میل ہے اور آبادی 18 کروڑ کے قریب ہے۔ اس کے ہمسایوں نائیجر اور چاڈ میں دنیا کا سب سے بڑا ریگستان صحرائے اعظم واقع ہے۔ نائیجیریا کے شمالی علاقے میں سوانا کے گھاس کے میدان ہیں جہاں شتر مرغ اور زرافے پائے جاتے ہیں، سوانا کے نیچے گرم مرطوب بارانی جنگلات کی پٹی ہے اور انتہائی جنوب میں ساحلی دلدلی علاقہ ہے۔

 

نائیجیریا کی 49.8 فیصد آبادی شہروں میں مقیم ہے۔ آبادی میں 60 فیصد مسلمان اور 40 فیصد عیسائی یا ارواح پرست ہیں ۔ شمال میں آباد ہوسا اور فولانی قبائل (ملکی آبادی کا 29 فیصد) مسلمان ہیں،اور پوروبا (21 فیصد ) مخلوط ہیں اور جنوب کا ایبو قبیلہ مسیحی ہے۔ انگریزی سرکاری زبان ہے۔ ہوسا ، پوروباء ،اگبو (ایبو) اور فولانی مقائی زبانیں ہیں داراحکومت ابوجا کی آبادی 20 لاکھ ہے جبکہ سابق دارالحکومت اور بندرگاہ لاگوسں ایک کروڑ 6 لاکھ آبادی کا شہر ہے۔ کانو کی آبادی 34 لاکھ اور ابادان کی 29 لاکھ ہے۔ نائیجیریا وفاقی جمہوریہ ہے جو 36 ریاستوں اور ایک وفاقی علاقے (ابوجا )مشتمل ہے۔

بارھویں تا چودھویں صدی عیسوی کا زمانہ نائیجیریا میں شمال سے اسلام کے ورود کا دور ہے۔ پندرھویں سولھویں صدی سے پرتگالی اور برطانوی یہاں وارد ہوئے ۔ 1861ء میں برطانیہ نے لاگوسں پر قبضہ کر لیا اور پھر 1900ء تک پورا نائیجیریا اس کے تسلط میں آ گیا۔ یکم اکتوبر 1960 کو برطانیہ سے آزادی ملی۔ ابوبکر تفاوابلیواوز یر اعظم بنے ۔ جنوری 1966ء میںمسیحی جنرل ارونسی نے فوجی انقلاب برپا کر کے تفاوابلیوا کو شہید کر دیا۔ اگست میں ارونسی جنرل یعقو بوگوان کے ہاتھوں مارا گیا ۔ یعقو بوگوان اسلام سے مرتد ہونے والا عیسائی تھا۔ 1967 میں جنوب مشرق کے علاقے میں مسیحی کرنل”چوکومیکواودمیگواجوکو” نے بغاوت کر کے ایک آزاد ریاست بیافرا قائم کر لی جو شدید خونریزی کے بعد 1970 ء میں ختم ہوئی اور کرنل اجوکو ملک سے فرار ہو گیا۔ اگلی دہائی میں جنرل مرتلا محمد نے انقلاب برپا کیا۔ 2 سال بعد وہ ایک اور قومی انقلاب میں مارا گیا اور جزل الوسیگن ابا سنجو ( مسیحی ) برسرِاقتدار آیا۔

1979 میں شیخوشگاری کی سول حکومت قائم ہوئی جس کا تنا 1983 میں جنرل محمد بوہاری نے الٹ دیا۔ 1985ء میں جنرل ابراہیم بابنکید نے عسکری انقلاب برپا کیا۔متنازع انتخابات کے بعد اگست 1993 میں عبوری سول حکومت قائم ہوئی مگر چند ماہ بعد جنرل ثانی اباچا نے تختہ الٹ دیا۔
1998 ء میں اباچا کی موت پر جنرل عبدالسلام ابوبکر نے حکومت سنجالی۔ فروری 99ء کے صدارتی انتخابات جنرل الوسیگن ابا سنجو نے جیت لیے۔ اپریل 2007ء میں عمرو موسیٰ یار آدوا صدر منتخب ہوئے۔مئی 2010 ء میں ان کی وفات پر مسیحی نائب صد گڈلک جوناتھن نے اقدار سنبھالا اور اپریل 2011 میں محمد بوہاری کے خلاف صدارتی انتخاب جیت لیا۔
اکتوبر 1998ء میں نائیجیریا میں ایک شکستہ پائپ لائن سے تیل حاصل کرتے ہوئے 700 افراد آگ لگنے سے ہلاک ہو گئے ۔ شمال کے صوبوں میں نفاذِ شریعت کے بعد جنوری مارچ 2000ء کے فسادات میں کم از کم 800 افراد مارے گئے۔ ستمبر اکتوبر 2001ء کے مسیحی مسلم فسادات میں 600 جانیں ضائع ہوئیں۔ اکتوبر ہی میں فوجیوں نے جنوب مشرقی نائیجیریا میں 200 افراد گولیوں سے بھون ڈالے۔ نومبر 2002ء میں مس ورلڈ کے مقابلے کی میزبانی کے منصوبے کے خلاف احتجاج پر کدونا شہر میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے جن میں 200 افراد ہلاک اور 1100 زخمی ہوئے مئی 2004ء میں یلوا(وسطی نائیجیریا) میں مسیحی ملیشیا نے کم و بیش 630 مسلمان شہید کر ڈالے ۔ جولائی 2009ء میں فوج کے ساتھ جھڑپوں میں شمال مشرقی نائجیریا میں بوکوحرام تعلیم کے 800 تک لوگ جان کین ہوئے ۔ صدرجوناتھن کے انتخاب کے بعد 12 شمالی صوبوں کے فسادات میں 800 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ 2013ء میں "بوکوحرام‘‘ کے سینکڑوں افراد فوجی کارروائیوں میں شہید ہوئے۔
نائجیریا کی بڑی فصلیں کوکو،مونگ پھلی، کپاس، پام آئل، مکئی، چاول ، سورگھم، باجرا، کساوا رتالو اور ربڑ ہیں ۔ معدنی وسائل میں قدرتی گیس، تیل،قلعی، لوہا، چونے کا پتھر،سیسہ اور جست شامل ہیں ۔ سکہ نائرا ہے۔ فی کس آمدنی 2500ڈالر ہے۔ قابل کاشت زمین 37.3 فیصد ہے۔ خام تیل کے زخائر 37.2 ارب بیرل ہیں ۔ شرح خواندگی 60.8 فیصد ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *