اٹلی کے بارے میں دلچسپ معلومات

اٹلی یا اطالیہ جنوبی یورپ کا ایک اہم ملک ہے۔ اس کے شمال میں سوئٹزر لینڈ اور آسٹریا میں سلووینیا اور بحیرۂ ایڈریاٹک،مغرب میں فرانس اور بحیرہ روم اور جنوب میں بحیرہ آئیونین اور بحیرۂ روم واقع ہیں ۔ اٹلی اور اس کے دو بڑے جزیروں سسلی (صقلیہ ) اور سارڈینیا کے درمیان بیر ٹائرینین گھرا ہوا ہے۔ اٹلی کا رقبہ 3,01,340 مربع کلومیٹر اور آبادی 6 کروڑ سے زائد ہے۔ اطالوی (اٹالین ) سرکاری زبان ہے۔ اس کے علاوہ شمال میں فرانسیسی، جرمن اور سلووینی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ جنوبی اٹلی میں کچھ البانوی اور یونانی اطالوی بھی آباد ہیں ۔ سوئٹزر لینڈ، آسٹریا اور اٹلی کے درمیان یورپ کا مشہور پہاڑی سلسلہ الپس پھیلا ہوا ہے۔

اٹلی دراصل ایک جزیرہ نما ہے۔ اس کے شمال میں دریائے پوکی زرخیز وادی ہے جو کر ایڈریاٹک میں گرتا ہے۔ وسط میں اپسی نائن کا پہاڑی سلسلہ ہے جس میں سے دریائے ٹائبر لاتا ہے۔ روم کا تاریخی شہر اور پوپ کا مرکز و ٹیکن ٹائبر ہی کے کنارے واقع ہیں ۔ مغرب میں بحیرہ روم کے اندر اٹلی کا جزیرہ سارڈینیا(سردانیہ) کا ہے اور جنوب میں مشہور جزیرہ صقلیه (Sicily) ہے جسے آبنائے مسینا اٹلی سے جدا کرتی ہے۔ 827ء سے 1091ء تک مسلمانوں کے تسلط میں رہا۔ اسےامام مالک رح کے شاگرد قاضی اسد بن فرات نے فتح کیا تھا۔ یہیں شریف الا دریسی جغرافیہ دان نے چاندی سے دنیا کا پہلا گلوب تیار کیا تھا۔

اٹلی کے دارالحکومت روم شہرکی بنیاد 753 ق م میں رومولس نے ڈالی تھی۔ یہاں رومن بادشاہ حکمران رہے۔ پھر 510 ق م میں رومن جمہوریہ قائم ہوئی جس کا انتظام سینیٹ کے ہاتھ میں تھا۔ تیسری دوسری صدی ق م میں قرطاجہ یا قرطاجنہ (Carthage) اور روم میں تین فنیقی جنگیں (Punic Wars) لڑی گئیں ۔ دوسری پیونک وار میں قرطاجہ کے جرنیلہنی بال نے اٹلی پر یلغار کر کے بڑی شہرت حاصل کی تیسری فنیقی جنگ (148-146ق م ) میں رومیوں نے قرطاجہ شہر کو نذرِ آتش کر دیا۔ 74-64ق م میں رومیوں نے ایشیائے کوچک ( ترکی ) ،شام اور فلسطین کر لیے۔60 ق م میں سینیٹ نے جولیئس سیزر نامی جرنیل کو اختیارات دیے تو اس نے گال (فرانس) فتح کرلیا۔سپین اور مصر بھی فتح ہو گئے۔ 44 ق م میں جولیئس سیزر قتل ہوا اور اگسٹس سیز مختارِکل بن کر 16 ق م میں ایمپرر بادشاہ بن بیٹھا۔رومی سلطنت 476ء تک قائم رہی۔ 330 ء میں قسطنطین اعظم نے روم کے بجائے قسطنطنیہ کو دارالحکومت بنا لیا۔ ازمنہ وسطی میی اٹلی کئی ریاستوں میں بٹا ہا: جنوا،وینس (بندقیه ) نیپلز سسلی اور پاپائ ریاست وٹیکن یہاں پورپ کو مذہبی او سیاسی اقدار حاصل رہا۔ دریں اثناء اٹلی پر کبھی فرانس کا اور کبھی جرمنی کا قبضہ رہا۔ 1861 میں اطالوی ریاستوں کے اتحاد سے موجود اٹلی وجود میں آیا۔

اٹلی کے بڑے شہر دارالحکومت روم ( آبادی 34 لاکھ ) میلان (30لاکھ) کی نیپلز (23 راکھ ) اور ٹیورن (17لاکھ) ہیں۔ زرعی اجناس میں انگور، آلو، چقندر، سویابین، گندم ، زیتون اور معدنی پیداوار میں کوئلہ، پارہ، جست، پوٹاش، سنگِ مرمر، ایسبسٹاس، گندھک، قدرتی گیس اور معدنی تیل شامل ہیں ۔ سکہ یورو ( پہلے لیرا) اور فی کس آمدنی 30500 ڈالر ہے۔ شرح خواندگی 98.9 فیصد ہے۔ اہم بندرگاہیں جنوا،وینس، نیپلز،باری،سلرنو،کٹانیہ (سسلی ) اور کاگلری (سارڈینیا) ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *