اسلامی مہینوں کے نام و معنی

عربوں نے اسلام سے پہلے قمری مہینوں کے نام استعمال کیے ہیں اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عرب میں کچھ ناموں پر اتفاق ہو گیا اور سارے عرب علاقے میں رائج ہو گئے، اور یہ وہی صورت تھی جس میں یہ نام آج کل ہمارے ہاں معروف ہیں، نیز یہ پانچویں صدی عیسوی کا واقعہ ہے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پانچویں دادا “کلاب” کا زمانہ تھا۔
 

1۔ محرم الحرام کا معنی و مفہوم کیا ہے؟

 
محرم کے لغوی معنی ہیں ممنوع، حرام کیا گیا، عظمت والا اور لائق احترام
 

2۔ صفر کا معنی و مفہوم کیا ہے؟

 
صفر کے لغوی معنی خالی ہونے کے ہیں، جو گھر سامان سے خالی ہو اسے کہتے ہیں: ” بیت صفر من المتاع”۔ خالی ہاتھ کو کہتے ہیں: “صفر الید” (المنجد)کہا جاتا ہے کہ عرب محرم کے مہینے کا احترام کرتے ہوئے اس میں قتال وغیرہ سے باز رہتے تھے لیکن ماہِ صفر کے شروع ہوتے ہی وہ قتال اور جدال کے لیے نکل کھڑے ہوتے اور گھروں کو خالی چھوڑ دیتے ، اس لیے اس مہینے کا نام صفر پڑ گیا۔ واللہ اعلم۔
 

3 ربیع الاول کا معنی و مفہوم کیا ہے؟

 
ربیع الاول کے لغوی معنی پہلی بہار کے ہیں اِس ماہ کو تاریخ ِ انسانی میں خاص مقام حاصل ہے اِسی مہینے میں محسن انسانیت سرورِ دو عالم محبوب خدا ۖ کی ولادت با سعادت ہو ئی ربیع الاول ہجری سال کا اہم سنگِ میل اور تاریخ عالم میں نمایاں اور کلیدی مقام رکھتا ہے
ربیع “رَبع” کے مادے سے بہار کے معنی میں ہے۔ اس مہینے کو ربیع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا نام بہار کے موسم میں رکھا گیا تھا
ربیع الاول کی وجہ تسمیہ یہ ہے [یہ ” ارتباع” سے ہے] اور ارتباع گھر میں ٹکے رہنے کو کہتے ہیں چونکہ اس مہینے میں لوگ اپنے گھروں میں بیٹھےرہتے تھے ، اس لیے اسے ربیع کا نام دیا گیا، اس کی عربی زبان میں جمع: ” أربعاء” جیسے ” نصيب” کی جمع ” أنصباء” آتی ہے، اسی طرح اس کی جمع ” أربعة” بھی آتی ہے جیسے ” رغيف” کی جمع ” أرغفة” آتی ہے، ربیع الثانی کا وجہ تسمیہ بھی یہی ہے۔
 

4۔ربیع الثانی کا معنی و مفہوم کیا ہے؟

 
ربیع الثانی اسلامی سال کا چوتھا قمری مہینہ ہے عرب کے لوگ اسے اکثر ربیع الآخر ہی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ مذکر ہے اور اس کے الآخر کے خ پر خصوصیت سے فتحہ پڑھا اور لکھا جاتا ہے اسکے معنی موسم بہار کی نشاۃ ثانیہ ہیں ۔ اسی ماہ مبارک بہار کی نشاۃ ثانیہ میں تبلیغ دین کا غلغلہ ہوا اس ماہ مبارک میں حضرت خدیجہؓ ،حضرت علیؓ،حضرت زیدؓابن حارث اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ شرف اسلام سے بہرہ ور ہوئے اسکے علاوہ اور بھی بہت سے واقعات اور شواہد ایسے ہیں جنکا ظہور خصوصیت کے ساتھ اسی مہینے ہوا ۔ چند اہم واقعات یہ ہیں (1) فرض نمازوں میں اضافہ ہوا ۔ (2) ربیع الثانی ہی میں عبداللہ بن سلام ؓ اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے ان کے ہمراہ اہل خانہ اور انکی پھوپھی حضرت خالدہ بنت حارثؓ نے بھی اسلام قبول کیا یہ ان دنوں کی بات ہے جب آپ ؐ مدینہ منورہ تشریف لائے اور ابھی حضرت ابو ایوبؓ کے گھر تشریف نہ لائے تھے ۔
ربیع الثانی میں ہی حضرت قیس بن صرعہؓ اسلام لائے جن کے متعلق سورۃ البقرہ کی آیت 187 نازل ہوئی ۔مہاجرین و انصار میں مواخات بھائی بندی ربیع الثانی میں ہی ہوئی۔
دوربیع الثانی 3ھ کو ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ کا انتقال ہوا ۔
ربیع الثانی 6ھ غزوہ ذی قرد پیش آیا اس غزوہ کو غزوہ الغابہ بھی کہتے ہیں۔ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع ہوئی کہ بن حض نے 40 سواروں کے ساتھ آپؐ کے مویشیوں پر ڈاکہ ڈالا ہے تو آپؐ نے حضرت ابن ام مکتوم ؓ کو جانشین بنایا اور300 افراد کو مدینہ منورہ کے پہرے پر مقرر فرمایا اور خود لشکر لیکر ان کے تعاقب میں چلے۔ حضرت سلمہ بن اکوع ؓ نے مویشی واگزار کر الئے اور دشمن سے30 چادریں30 نیزے اور 30 ڈھالیں بھی چھین لیں اور اپنے تیروں سے کئی کافروں کو واصل جہنم کیا ۔ آپؓ اونٹوں کو واپس لا رہے تھے کہ اتنے میں رسول پاکؐ اور صحابہ کرام ؓ پہنچ گئے ۔ آپؐ وہیں سے مدینہ منورہ واپس آگئے۔
ربیع الثانی6ھ سریہ اس کو کہتے ہیں جس میں آنحضرت ؐ شریک نہ ہوں بلکہ ان کے حکم سے مجاہدین اسلام کا لشکر روانہ کیا گیا ہو۔ حضرت مکاشہؓ کو 40 سواروں کی معیت میں غمر زوق کی طرف بھیجا گیا ۔یہ بنو اسد کے کنویں کا نام ہے جو مکہ کے راستے پر واقع تھا یہ حضرات غنیمت کے 200 اونٹ لائے مگر کسی سے مقابلہ نہ ہوا نہ ان میں سے کوئی شہید ہوا بلکہ صحیح سالم مدینہ واپس آگئے ۔
ربیع الثانی6ھ حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کو10 افراد کی معیت میں روانہ کیا گیا یہ لوگ رہذہ کے راستے میں موضع ذوالقصہ میں آباد تھے کفار مکہ کو غلبہ ہوا اور ان میں سے بیشتر حضرات شہید ہو گئے۔ سرکاردوعالمؐ کو اس کی خبر ملی تو انکی مدد کیلئے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ کو بھیجا انہوں نے کفار سے انتقام لیا ذوالقصہ مدینہ منورہ سے 40 میل پر ایک جگہ کا نام ہے رہذہ یہ بھی مدینہ کے قریب ایک جگہ کانام ہے جو عراقی حاجیوں کے راستے میں ذات عرق کے قرب وجوار میںواقع ہے ۔
ربیع الثانی6ھ کے آخری دن حضرت زین بن حارث ؓ کو سریہ بنی سلیم کی طرف موضع جموم بھیجا گیایہ مدینہ سے 12میل پر بطن نخلہ کے قریب ایک جگہ تھی ان حضرات نے دشمن کے چند افراد کو پکڑا اونٹوں پر قبضہ کیا اور مدینہ واپس آگئے۔
 

5۔جماد الاولی کا معنی و مفہوم کیا ہے؟

 
جمادی الاولی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس مہینے میں پانی جامد ہو گیا تھا۔
ایسا لگتا ہے کہ ان کے حساب سے قمری مہینے گرمی سردی میں تبدیل ہو کر نہیں آتے تھے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ اگر قمری مہینے چاند سے منسلک ہیں تو لازمی بات ہے کہ یہ مہینے گرمی اور سردی تبدیل ہو کر آئیں؛ البتہ یہ ممکن ہے کہ جس وقت انہوں نے ان مہینوں کو نام دیے تو اس وقت پانی سردی کی وجہ سے جم چکا تھا، جمادی کی جمع عربی زبان میں:” جماديات” آتی ہے ، جیسے کہ “حبارى” کی جمع: “حباريات ” آتی ہے۔عربی زبان میں ” جمادى” کا لفظ مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے، چنانچہ ” جمادى الأول” اور ” جمادى الأولى” اسی طرح ” جمادى الآخر” اور ” جمادى الآخرة ” دونوں طرح کہنا درست ہے۔
 

6۔جمادی الثانی

 
جمادی الثانی چھٹا اسلامی مہینہ ہے۔ جس وقت اس مہینے کا نام رکھا گیا اس وقت موسم کا آخر تھا جس میں پانی جمتا تھا۔ عربی زبان میں ” جمادى” کا لفظ مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے، چنانچہ ” جمادى الآخر” اور ” جمادى الآخرة ” دونوں طرح کہنا درست ہے۔
 
 

7۔رجب کا لغوی معنی و مفہوم کیا ہے؟

 
رجب ترجیب سے هے ترجیب کا معنی هے تعظیم ،
رجب کا لغوی معنی ( لسان العرب ) میں اس طرح بیان کیا گیا هے
ورجب سموه بذالک لتعظیمہم ایاه فی الجاهلیه عن القتال فیه ،
یعنی رجب کو رجب اس لیئے کہتے هیں کہ عرب جاهلیت میں اس کی تعظیم کرتے تهے قتل وجدال کوچهوڑدیتے تهے ،
 

8۔شعبان المعظم کا معنی و مفہوم کیا ہے؟

 
پانچویں صدی کے مجدد سیدنا امام محمد غزالی﷫ فرماتے ہیں ’’شعبان دراصل شعب سے مشتق ہے۔ اس کا معنی ہے پہاڑ کو جانے کا راستہ، اور یہ بھلائی کا راستہ ہے۔شعبان سے خیر کثیر نکلتی ہے۔‘‘ ایک اور قول کے مطابق شعبان تشعب سے ماخوذ ہے اور تشعب کے معنی تفرق کے ہیں۔ چونکہ اس ماہ میں بھی خیر کثیر متفرق ہوتی ہے، نیز بندوں کو رزق اس مہینہ میں متفرق اور تقسیم ہوتے ہیں۔ ماہِ شعبان کو شعبان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ شعبان شعِب یشعَب سے ماخوذ ہے،جس کا معنی ہے نکلنا، ظاہر ہونا، پھوٹنا چونکہ اس مہینہ میں خیر کثیر پھوٹتی پھیلتی ہے اور بندوں کا رزق تقسیم ہوتا ہے اور تقدیری کام الگ ہوجاتے ہیں، اس وجہ سے اس مہینہ کا نام شعبان رکھ دیا۔
شعبان کا لفظ ” تشعب” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے بکھرنا، منتشر ہونا، [اس مہینے میں لوگ حرمت والے مہینے میں گھروں میں قید رہنے کے بعد لڑائی جھگڑے کیلیے باہر نکلتے تھے]اس کی جمع: ” شعابين” اور ” شعبانات”آتی ہے۔
 

9-رمضان کا معنی و مفہوم کیا ہے؟

 
عربی زبان میں رمضان کا مادہ رَمَضٌ ہے، جس کا معنی سخت گرمی اور تپش ہے. رمضان میں چونکہ روزہ دار بھوک و پیاس کی حدت اور شدت محسوس کرتا ہے اس لئے اسے رمضان کہا جاتا ہے۔
(1) ابن منظور، لسان العرب، 7 : 162
ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ رمضان رمضاء سے مشتق ہے اس کا معنی سخت گرم زمین ہے لہٰذا رمضان کا معنی سخت گرم ہوا۔ رمضان کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جب عربوں نے پرانی لغت سے مہینوں کے نام منتقل کئے تو انہیں اوقات اور زمانوں کے ساتھ موسوم کر دیا۔ جن میں وہ اس وقت واقع تھے۔ اتفاقاً رمضان ان دنوں سخت گرمی کے موسم میں آیا تھا۔ اس لئے اس کا نام رمضان رکھ دیا گیا.
رمضان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ مہینہ، اللہ تعالیٰ کی رحمت، بخشش اور مغفرت کی کثرت کی وجہ سے (مسلمانوں کے) گناہوں کو جلا کر ختم کر دیتاہے۔
اس مہینہ کو رمضان کا نام کیوں دیا گیا اس کی وجہ یوں بیان کی گئی ہے: چونکہ جب اس مہینہ کا نام رکھا گیا اس وقت یہ مہینہ شدید گرمی کے عالم میں واقع ہوا تھا(۵)۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا: رمضان، گناہوں کو جلا دینے والا مہینہ ہے خداوند عالم اس مہینے میں اپنے بندوں کے گناہوں کو جلا دیتا ہے اور انہیں بخش دیتا ہے اس وجہ سے اس مہینہ کا نام رمضان رکھا گیا‘‘۔
 

10-شوال کا معنی و مفہوم کیا ہے؟

 
شوال کا لفظ عربی زبان کے مقولے ” شالت الإبل بأذنابها للطراق” سے ماخوذ ہے اور یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب اونٹ جفتی کیلیے اپنی دم اٹھائے، اس کی جمع: ” شواويل”، “شواول” اور ” شوالات” آتی ہے۔
شوال کے مہینہ کوعرب لوگ… اپنے بعض نقصان دہ علوم کی وجہ سے ’’منحوس‘‘ سمجھتے تھے… ایک علم کا تعلق لغت سے تھا اور دوسرے علم کا تعلق تاریخ سے… شوال میں کبھی ’’طاعون‘‘ کا مرض آیا تھا جو عربوں کی بستیاں اُجاڑ گیا… کچھ پنڈتوں نے ان تاریخوں کو پکا د با لیا اور شوال کی نحوست کا پرچار کر دیا… جبکہ لغت میں بھی شوال کے بعض معنیٰ… زائل ہونے، کم ہونے کے آتے ہیں… تو اس سے یہ سمجھ لیا کہ اگر اس مہینے میں شادی ہوگی… یا رخصتی ہو گی تو زیادہ نہ چلے گی… میاں، بیوی میں جو ملاپ ہوگا وہ پائیدار اور محبت خیز نہ ہوگا… جب اسلام کی روشنی آئی تو ’’شوال‘‘ کی بدنامی بھی دور کر دی گئی… شوال کے چھ روزے رکھو اور پورے سال کے فرض روزوں کا ثواب پالو… کسی اور مہینے کے نفل روزوں کا یہ مقام نہیں ہے… فرما دیا کہ… جس نے رمضان کے پورے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے بھی ساتھ جوڑ دئیے تو وہ ایسا ہے جیسے ہمیشہ پوری زندگی روزہ دار رہا… یہ تو ہوئی ایک بہت بڑی اور زوردار برکت شوال کے مہینہ کی… اب دوسری برکت دیکھئے کے مسلمانوں کی کُل دو عیدیں ہیں… ان میں سے پہلی عید… یعنی عید الفطر شوال میں رکھ دی گئی… سبحان اللہ!… لوگ جس ماہ کو نحوست والا قرار دیتے تھے… اسلام نے اس مہینہ کو عید مبارک کا مہینہ بنادیا… اب اس سے بڑھ کر برکت کی دلیل اور کیا ہوگی؟؟
 

11- ذو القعدہ کا معنی و مفہوم کیا ہے؟

 
ذو القعدہ میں “ق” پر زبر پڑھی جائے گی، لیکن میں کہتا ہوں کہ زیر بھی پڑھی جا سکتی ہیں؛ کیونکہ عرب اس مہینے میں جنگوں اور سفر کرنے سے گھروں میں بیٹھ جاتے تھے، اس کی جمع: ” ذوات القعدة” آتی ہے۔
 

12- ذوالحجہ کا معنی و مفہوم کیا ہے؟

 
اسلامی سال کا بارہواں مہینہ ذوالحجہ ہے اس کی وجہ تسمیہ ظاہر ہے کہ اس ماہ میں لوگ حج کرتے ہیں اور اس کے پہلے عشرے کا نام قرآن مجید میں ’’ایام معلومات‘‘ رکھا گیا ہے یہ دن اللہ کریم کو بہت پیارے ہیں۔ اس کی پہلی تاریخ کو سیّدۂ عالم حضرت خاتونِ جنت فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح سیدنا حضرت شیر خدا علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھ ہوا۔ اس ماہ کی آٹھویں تاریخ کو یومِ ترویہ کہتے ہیں۔ کیوں کہ حجاج اس دن اپنے اونٹوں کو پانی سے خوب سیراب کرتے تھے۔ تاکہ عرفہ کے روز تک ان کو پیاس نہ لگے۔ یا اس لیے اس کو یوم ترویہ (سوچ بچار) کہتے ہیں کہ سیّدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آٹھویں ذی الحجہ کو رات کے وقت خواب میں دیکھا تھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے حکم دیتا ہے کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر۔ تو آپ نے صبح کے وقت سوچا اور غور کیا کہ آیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے۔ اس لیے اس کو یومِ ترویہ کہتے ہیں۔ اور اس کی نویں تاریخ کو عرفہ کہتے ہیں۔ کیوں کہ سیّدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب نویں تاریخ کی رات کو وہی خواب دیکھا تو پہچان لیا کہ یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اسی دن حج کا فریضہ سر انجام دیا جاتا ہے۔ دسویں تاریخ کو یوم نحر کہتے ہیں۔ کیوں کہ اسی روز سیّدنا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی صورت پیدا ہوئی۔ اور اسی دن عام مسلمان قربانیاں ادا کرتے ہیں۔ اس ماہ کی گیارہ تاریخ کو ’’یَوْمُ الْقَرْ‘‘ اوربارہویں، تیرہویں کو ’’یَوْمُ النَّفَرْ‘‘ کہتے ہیں اور اس ماہ کی بارہویں تاریخ کو حضور سراپا نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھائی چارہ قائم فرمایا تھا ۔
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *