دوسرا دور ؛ علانیہ دعوت و تبلیغ

نبوت کے چھٹے سال کے آغاز میں جب یہ آیت نازل ہوئی:
وَأنْذِر عَشِیْرَتَکَ الأقْرَبِینَ
الشعراء [۲۱۴]
یعنی: آپ ڈرائیے اپنے خاندان والوں ٗ قرابت داروں کو
اس حکمِ ربانی کی تعمیل میں آپ ﷺ نے اب علانیہ دعوت و تبلیغ کا آغاز فرمایا، اور یوں مکی زندگی کے دوسرے دور کا آغاز ہوا، جو کہ نبوت کے دسویں سال تک جاری رہا۔
چنانچہ ایک روز آپ ﷺ نے کوہِ صفا پر اپنے خاندان والوں یعنی بنوہاشم کو جمع کیا تا کہ ان کے سامنے دعوتِ حق پیش کرسکیں، لیکن اس موقع پر ابولہب نے حسبِ معمول الٹی سیدھی ہانکنی شروع کی، جس کی وجہ سے آپ ﷺ اپنا مدعیٰ بیان نہ کرسکے۔
دوسرے روز آپ ﷺ نے دوبارہ بنوہاشم کو جمع کیا اور مدعیٰ بیان کرنے سے پہلے ان سے اپنی تصدیق چاہی جس پر ان سب نے بیک زبان کہا: مَا جَرَّبنَا عَلَیکَ کَذِباً یعنی ’’ہم نے آپ سے کبھی جھوٹ نہیں سنا۔‘‘ تب آپ ﷺ نے انہیں اللہ کاپیغام پہنچایا، اللہ کے دین کی طرف انہیں دعوت دی، صرف ایک اللہ کی عبادت کی تلقین فرمائی، بت پرستی اور ہر قسم کے شرک سے انہیں روکا، معاشرتی برائیوں سے باز رہنے کی تاکید فرمائی۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے ان حاضرینِ محفل سے دریافت فرمایاکہ اس کام میں تم میں سے کون میرا ساتھ دے گا…؟
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس وقت کم سن تھے، اور اس محفل میں موجود تمام افرادِ بنوہاشم میں وہ سب سے چھوٹے تھے، مگر اس کے باوجود وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور بآوازِ بلند ٗ بلاتردد آپ ﷺ کی حمایت اور اس کام میں بھرپور ساتھ دینے کا وعدہ کیا، جبکہ وہ اس سے بہت قبل ہی مشرف باسلام بھی ہوچکے تھے۔
آپ ﷺ کے سرپرست اورمشفق و مہربان چچا ابوطالب نے اس موقع پر آپ ﷺ کو اس سلسلے میں اپنی مکمل حمایت اور تائید کا یقین دلایا، البتہ ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ : اِنّ نَفسِي لَاتُطَاوِعُنِي عَلیٰ فِرَاقِ دِینِ عَبدِ المُطّلِب یعنی ’’میرا دل نہیں مانتا کہ میں عبدالمطلب کے دین سے روگردانی کروں۔‘‘
مقصد یہ کہ دینِ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور نشر و اشاعت کی جہاں تک بات ہے ٗ اس سلسلے میں میں آپ ﷺ کے شانہ بشانہ ہر تعاون اور مدد کیلئے مکمل طور پر تیار ہوں… لیکن جہاں تک میرے اپنے دین کا معاملہ ہے تو میں اپنے آبائی دین کو نہیں چھوڑ سکتا…!!
رسول اللہ ﷺ نے اپنا سلسلۂ گفتگو جاری رکھا، اسی دوران جب آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا: اِنِّي نَذِیرٌ لَکُم بَینَ یَدَيْ عَذَابٍ شَدَیدٍ یعنی ’’ میں تمہیں ڈراتا ہوں سخت عذاب سے۔ ‘‘ یہ الفاظ سنتے ہی ابولہب بھڑک اٹھا، اور یوں ہرزہ سرائی کرنے لگا: تَبّاً لَکَ ، اَلِھٰذَا جَمَعتَنَا؟ یعنی (نعوذباللہ) ’’ تو ہلاک ہو جائے، کیا تو نے ہم سب کو صرف اسی لئے یہاں جمع کیاہے؟‘‘
ابولہب کی زبانی یہ انتہائی سخت اور قبیح ترین الفاظ سن کر رسول اللہ ﷺ انتہائی رنجیدہ ہوگئے، جس پر آپ ﷺ کی دلجوئی و تسلی کیلئے خالقِ ارض و سماء کی جانب سے سورۂ تبت یدا (یعنی سورۂ مسد) نازل کی گئی ، جس میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف سے یہ کہا گیا کہ ہلاکت و بربادی تو خود ابولہب کیلئے ہے…!
انہی دنوں جب آیت : فَاصْدَع بِمَا تُؤمَرُ…
الحجر [۹۴]
یعنی ’’ آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے آپ خوب صاف صاف بیان کر دیجئے…‘‘ نازل ہوئی تو اس حکمِ ربانی کی تعمیل کرتے ہوئے اب آپ ﷺ نے اپنے سلسلۂ دعوت و تبلیغ کو مزید تیز کر دیا اور اس کام کو مزید وسعت دی، چنانچہ اب آپ ﷺ نے اپنے قرابت داروں کے علاوہ مزید یہ کہ پورے شہر مکہ میں ہر جگہ اور ہر قبیلے کو پیغامِ حق پہنچانا شروع کردیا، اب آپ ﷺ جگہ جگہ گھومتے، مختلف قبائل اور خاندانوں کے مساکن میں تشریف لے جاتے، بازاروں ٗ گلیوں ٗ محلوں ٗ میں جاتے، کوئی میلہ منعقد ہوتا… یا کوئی محفل سجتی… یا کسی بھی قسم کا کوئی اجتماع ہوتا… آپ ﷺ وہاں پہنچتے… خصوصاً حج کے موقع پر بیرونِ مکہ سے بڑی تعداد میں جو لوگ حج کی غرض سے آتے ٗ آپ ﷺ انہیں دینِ اسلام کی دعوت دیتے، اسی طرح مختلف علاقوں سے عربوں کے جو تجارتی قافلے مکہ آتے آپ ﷺ ان سے ملاقاتیں کرتے، ان کے ٹھکانوں اور ان کی اقامت گاہوں میں جا کر انہیں پیغامِ حق سناتے اور دینِ برحق کی طرف دعوت دیتے…!
[جاری ہے]

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *