سات ستمبر یوم تجدید عہد تحفظ ختم نبوت

تحریر : شیخ الحدیث مولانا زبیراحمد صدیقیؔ

اعلیٰ ترین مناصب کے لیے اہل اور اعلیٰ ترین شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے، دنیوی مناصب کے لیے میرٹ اور شرائط اہلیت اہل دنیا اور روحانی و دینی منصب کے لیے انتخاب باری تعالیٰ ہی کرتے ہیں ختم نبوت تو کجا نبوت بھی کوئی کسبی عہدہ نہیں کہ کوئی شخص اسے از خود حاصل کر سکے، قرآن کریم کی تصریحات کے مطابق نبوت کے لیے انتخاب حق تعالیٰ خود کرتے ہیں سورۃ حج کی آیت نمبر۵۷ میں ارشاد خدا وندی ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سے رسول منتخب فرماتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ سمیع و بصیر ہیں، منصب ختم نبوت، نبوت سے بالا اور کائنات کا اعلیٰ ترین منصب ہے حق تعالیٰ نے اس منصب کے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ازل سے انتخاب فرماکر ختم نبوت کا تاج آپ کے سر سجا دیا سلسلہ نبوت کو آپ پر ختم فرما کر قصر نبوت کی آخری اینٹ نصب فرما دی۔

ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کی اساس اور مسلمانوں کا امتیاز ہے اس عقیدہ کو قرآن کریم کی بیسیوں آیات اور چار سو احادیث نبویہ میں بیان کیا گیا ہے۔ ”سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مبارک عہد میں اس عقیدہ کے تحفظ کے لیے حضرات صحابہ کرا م و اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین نے باقاعدہ جہاد کر کے منکرین ختم نبوت کے ارتداد و کفر اور منکرین ختم نبوت کے گستاخ رسول ہونے پر اجماع منعقد کر لیا، اس مقدس عقیدہ کے دفاع میں بعض روایات کے مطابق دو ہزار سے زائد صحابہ کرام جن میں سات سو کے قریب حفاظ و قراء صحابہ کرام تھے نے جام شہادت نوش کیا، تب سے امت کے جملہ طبقات کا اجماع چلا آرہا ہے کہ جو شخص جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی شخص کو کسی طرح کا نبی مانے وہ اسلام کی اساس پر حملہ آور، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب ختم نبوت کا غاصب، قرآن و سنت کی نصوص کا منکر اور اجماع امت کا ناقض ہونے کی وجہ سے ملحد و زندیق اور گستاخ رسول ہے، منکرین ختم نبوت در اصل رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک کرسی پر کسی اور کو براجمان کر کے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا تاج نبوت اسی کے سر پر سجانا چاہتا ہے، جسے عاشقان مصطفی قطعاً گوارا نہیں کر سکتے جو لوگ منکرین ختم نبوت کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں ان سے سوال کرنے میں حق بجانب ہوں کہ کیا وزیر اعظم، چیف جسٹس، آرمی چیف جیسی مسندوں پر کسی انڈین یا پاکستان کے کسی دشمن ملک کی کسی بھی نااہل غیر آئینی شخصیت کو براجمان کر نے کی کوشش قبول کی جا سکتی ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں۔ تو بس سمجھ لیجئے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور نبوت کی دعویدار ہر شخصیت در اصل حضور کی کرسی پر قبضہ جمانا چاہتا ہے جسے روکنا امت مسلمہ کا فریضہ ہے۔

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر عہد میں مسیلمہ کذاب، اسود عنسی جیسے لوگوں نے نبوت کا دعوی کیا تھا، آپ نے ان کی سرکوبی کے لیے باقاعدہ لشکر روانہ فرمائے تھے، آپ کے وصال کے بعد کچھ اور لوگوں نے بھی نبوت کے دعوے کیے جنہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ٹھکانے لگا دیا تھا۔

بر صغیر میں انگریز نے قدم جمائے تو بہت سے فتنے بھی بپا کردیے، اہل اسلام کے دلوں سے جذبہ جہاد نکالنے اور اپنے قبضہ کے خلاف مزاحمت روکنے کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی نامی شخص سے دعوی نبوت کروا کر اس فتنہ کی مکمل سرپرستی کی، جو تاہنوز جاری ہے امت کے جملہ طبقات نے قیام پاکستان سے قبل اس فتنہ کے کفرو ارتداد اور ہولناکی سے امت کو آگاہ کیا چنانچہ سب سے پہلے علماء لدھیانہ نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کے ارتداد سے متعلق فتوی دیا اور پھر ہندوستان بھر کے علماء و مشائخ نے اس فتوی کی توثیق کی حضرت حاجی امداد اللہ مہاجد مکیؒ نے اس فتنہ کے متعلق حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ کو آگاہ فرمایا اور انہیں خلافت سے سرفراز فرما کر اس فتنہ کے خلاف جہاد کا حکم دیا دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے اپنے مرض الوفات میں علالت و نقاہت کے باوجود بہاولپور تشریف لا کر عبدالرزاق نامی مرتد قادیانی کی مسلمان بیوی مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش کے فسخ نکاح کے مقدمہ میں دلائل کے انبار لگا دیے، مقدمہ کا فیصلہ آنے سے قبل حضرت کشمیریؒ وصال فرما گئے لیکن فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آیا اور منکرین ختم نبوت کو اسلام سے خارج قرار دے کر نکاح فسخ کر دیا گیا، علاوہ ازیں فقیہ العصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، حضرت مولانا محمد حسین بنٹالوی،حضرت مولانا قاضی محمد سلمان منصور پوریؒ، مولانا محمد حسن چاندپوریؒ، حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ، علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ جیسے اکابر نے جد و جہد کی۔ مجلس احرار اسلام نے قادیان میں پہلی ختم نبوت کانفرنس منعقد کی۔

قیام پاکستان کے بعد حکومت کی چھتری تلے قادیانی سرگرمیاں عروج پرپہنچ گئیں تو 1953ء میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ مولانا ابو الحسنات قادری رحمہ اللہ، مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمہ اللہ، علامہ غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ،خواجہ قمرالدین سیالوی رحمہ اللہ، علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا عبدالحامد بدایونیؒ، مفتی محمد جعفر حسین، مولانا محمد یوسف، شیخ حسام الدین جیسے اکابرنے ختم نبوت کی چوکیداری کی اور دس ہزار عاشقان رسول شہید ہوئے۔

1974ء میں نشتر میڈیکل کالج کے طلباء چناب ایکسپریس کے ذریعے سیاحتی سفر پر تھے ربوہ (چناب نگر) ریلوے اسٹیشن پرٹرین رکی تو قادیانی گماشتوں نے اپنا لٹریچر تقسیم کرتے ہوئے قادیانیت زندہ باد کے نعرے لگائے جواب میں ان طلباء نے ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے قادیانیت کاجواب دیا ٹرین روانہ ہوگئی ایک ہفتہ بعد اسی ٹرین کے ذریعے یہ قافلہ واپس آرہا تھا کہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں نے ان طلباء پر حملہ کر کے سب کو لہو لہان کر دیااس واقعہ اور ملک بھر میں قادیانی سرگرمیوں کے رد عمل میں قوم متحد ہو گئی مجلس عمل ختم نبوت کے نام سے تمام مکاتب فکر کا مشترکہ پلیٹ فارم معرض و جود میں آیا جس کی قیادت علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ، مولانا شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ، مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ، مولانا عبیداللہ انور رحمہ اللہ،حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ،نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم، آغا شورش کشمیریؒ علامہ احسان الٰہی ظہیر،ؒ مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، مولانا فیض رسول حیدرؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ اورمولانا صاحبزادہ افتخار الحسن کر رہے تھے۔

قومی اسمبلی میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے مرزائیوں، لاہوریوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرار داد پیش کی، قوم اسمبلی کو کمیٹی کا درجہ دے کر بحث کا فیصلہ ہوا، مولانا مفتی محمودؒ نے مرزا ناصر محمود(قادیانی خلیفہ) سے تفصیلی مذاکرہ و مناظرہ کیا جس کے بعدحکومت کی جانب سے عبدالحفیظ پیرزادہ نے بھی قرار داد پیش کی مؤرخہ 7ستمبر1974ء کو اسمبلی میں متفقہ طور پر یہ قرار داد منظور کی گئی۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی کابینہ، اپوزیشن اور جملہ ارکان اسمبلی نے قرار داد پر دستخط کے ذریعہ سامان جنت حاصل کیا۔آج کا دن تحفظ ختم نبوت کے لیے بیدار رہنے جدوجہد کرنے اور فرقہ واریت سے بالا تر ہوکر متحد رہنے کے عہد کی تجدید کا دن ہے، ہماری نظر میں عالمی استعمارکے دباوپراس کازکوخطرات لاحق ہیں نیزختم نبوت جیسے اساسی موضوع پر افتراق سے دشمنان نبوت کو فائدہ اور ختم نبوت کاز کو نقصان پہنچتا ہے، جس اتحاد کا مظاہر قوم کے اکابر نے کیا تھا آج اسی اتحاد کے قیام کی ضرورت ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *