تائیوان کے بارے میں دلچسپ معلومات

جزیرہ تائیوان بحیرۂ چین مشرقی اور بحیرۂ چین جنوبی کے درمیان ساحل چین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ اس کے مشرق میں بحرا کابل (Pacific) ہے۔ اس کا رقبہ 35980 مربع کلومیٹر اور آبادی اڑھائی کروڑ کے قریب ہے۔ آبادی میں تائیوانی ( مقامی چینی )84 فیصد ہیں اور 1949ء کے بعد ملک چین سے آبسنے والے 14 فیصد ہیں ۔ منڈارن چینی سرکاری زبان ہے۔ 93فیصد آبادی بدھ مت اور تاؤ مت سے تعلق رکھتی ہے جبکہ عیسائی 5 فیصد ہیں ۔ شمالی ساحل پر دارالحکومت تائپے کی آبادی 27 لاکھ ہے۔ کاؤ سیونگ (16لاکھ ) اور تائی چونگ (13 لاکھ ) مشہور شہر ہیں۔
تائیوان پر 1620ءاور 1662ء کے درمیان ڈچ سامراجی قابض رہے۔ انھوں نے اسے فارموسا کا نام دیا تھا۔ پھر یہ
چین میں شامل ہوگیا۔ 1895ءسے 1945 ء تک اس پر جاپان کا قبضہ رہا۔ جاپان کو شکست ہوئی تو جزل سموچیانگ کائی شیک کی چینی افواج نے اس پر تسلط جما لیا۔ 1949ء میں چین کی قوم پرست ( کومنتاتگ ) حکومت چیانگ کائی شیک کی قیادت میں فرار ہوکر تائیوان چلی آئی ۔ چیانگ کائی شیک نے 1975ء میں وفات پائی ۔
دریں اثناء اقوام متحدہ نے 1971 ء میں عوامی جمہوریہ چین ( کمونسٹ چین) کو تسلیم کرلیا اور تائیوان سے نشست واپس لے لی ۔ یوں تائیوان کی جگہ کمونسٹ چین سلامتی کونسل کا رکن اور ویٹو پاور کا حامل بن گیا۔ 1987ء میں تائیوان میں مارشل لا اٹھالیا گیا جو 38 سال سے چلا آرہا تھا اور 1991ء میں ایمرجنسی کا اختتام ہوا۔ مارچ 2000ء میں نیشنلسٹ پارٹی کے پانچ عشرے طویل اقتدار کا خاتمہ ہوا جب جمہوری ترقی پسند پارٹی چن شوئی بیان نے صدارتی الیکشن جیت لیا۔نومبر 2008ء میں سابق صدرچن شوئی بیان کو کرپشن کے الزامات میں عمرقید کی سزا سنائی گئی ۔
عوامی جمہوریہ چین 1949ء سے تائیوان کو اپنا باغی صوبہ جھتا آرہا ہے۔ 1991ء تک حکومت تائیوان خود کو دونوں حصوں کی حکومت قرار دیتی رہی۔ پھر دونوں میں تجارتی تعلقات استوار ہوئے ۔ 2003ء میں چین نے امریکہ کی جگہ تائیوان کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر کی حیثیت اختیار کر لیا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *