سنگاپور کے بارے میں دلچسپ معلومات

سنگاپور جزیرہ نماملایا کے جنوبی سرے پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 697 مربع کلو میٹر اور آبادی 55لاکھ ہے۔ آبادی میں77 فیصد چینی ،14 فیصد ملائی اور 8 فیصد ہندوستانی ( ہندو،مسلم،سکھ ) ہیں، مذہبی لحاظ سے سنگا پور میں 43 فیصد بدھ،15 فیصد مسلمان، 9فیصد تاؤ،5 فیصد کیتھولک عیسائی، 4 فیصد ہندو اور 10 فیصد دیگر بھی ہیں ۔
آبنائےجوہور سنگاپور کو جزیرہ نما ملایا ملائیشیا سے الگ کرتی ہے۔ سنگاپور کے مغرب میں آبنائے ملاکا کے پار انڈونیشیا کا جزیرہ سماٹرا ہے اور مشرق میں بھی بحیرہ چین جنوبی کے پار انڈونیشی جزیرہ بورنیو ( کلمنتان ) واقع ہے۔ جزیرہ سنگا پور میں محدود رقبے پر صرف سبزیاں کاشت ہوتی ہیں یا باغات ہیں ۔ قدرتی وسائل میں صرف سمندری مچھلی ہے، البتہ صنعتوں
میں سنگاپور بہت ترقی یافتہ ہے۔ یہاں الیکٹرانکس، کیمیکلز ، آئل ڈرالنگ مشینری، تیل صاف کرنے کا کارخانہ، ربڑ پروسیسنگ، ڈبہ بند غذائیں، مشروبات، آف شور پلیٹ فارم کی صنعتیں بہت ترقی کر چکی ہیں ۔ سنگا پور کی فی کس آمدنی62100ڈالر ہے۔ سکہ سنگاپور (SGD) ڈالر ہے۔ شرح خواندگی 94.7فیصد ہے۔
سنگاپور 1819ء سے 1959ء تک برطانوی تسلط میں رہا جب اسے دولت مشترکہ میں خودمختار مملکت کا درجہ مل گیا۔ 16 ستمبر 1963 ء کو ملایا، سنگا پور اور سراوک وصباح (جزیرہ یورنیو ) کے اشتراک سے وفاق ملائیشیا وجود میں آیا لیکن سنگاپور کے چینیوں کی ملائیوں (مسلمانوں) سے نہ بنی اور 19 اگست 1965ء کو سنگاپور نے الگ ہو کر آزاد مملکت کی حیثیت حاصل کر لی۔ لی کوان یو 1959ء سے 1999 تک سنگاپور کے وزیراعظم رہے۔ ان کے عہد میں اس ننھے سے ملک نے بے مثال ترقی کی۔ پھر گوہ چوک ٹونگ 14 برس برسرِاقتدار رہے۔ اگست 2004ء سے لی کوان یو کے بیٹے لی سائن لونگ وزیراعظم چلے آرہے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *