آدھی رات کا مسافر

تحریر : نادر اختر ساحر

ٹرین کی رفتار مدہم ہوچکی تھی.. وہ تاحال اپنے برتھ پہ آنکھیں بند کر کے لیٹا ہوا تھا.. کسی نے اسے جھنجھوڑ کر یاد دلایا کہ منزل آچکی ہے مگر اسے منزلیں اب کہاں مزہ دیتی تھیں کہ وہ کچھ ہی گھنٹوں کا مہمان تھا باہر تاریکی پھیل چکی تھی اور اسے لگا کہ جیسے اس کی زندگی کا سورج بھی غروب ہوگیا ہے۔ اس نے خود کو اٹھانے کی کوشش کی اور یوں لگا کہ جیسے کوئی پہاڑ اٹھا رہا ہو.. وہ پلیٹ فارم پر آیا اور وہیں بیٹھ گیا آوازوں کا شور تھم گیا اور ٹرین کی سیٹی بجی اور آگے کی طرف چل پڑا.. اسے محسوس ہوا کہ شاید یہ ٹرین کبھی نہ رکے اور وہ اس ٹرین کو ایسے دیکھنے لگا جیسے کوئی کسی کو الوداع کرتے ہوئے دیکھتا ہے مگر اس کے پاس اسے ایک بھی لمحہ میسر نہ تھا جس میں وہ کسی اپنے کو الوداع کرتا..

تو کیا ہوا ٹرین سے بھی اس کو اپنائیت کا احساس ہورہا تھا.. جیسے اس نے زندگی میں ہر کسی کو الوداع کیا ایسے ہی اس نے ٹرین کو کیا مگر وہ رویا نہیں بلکہ مسکرایا کہ اب وہ سمجھ چکا تھا کہ یہ الوداع اور خوش آمدید ایک ہی سکے کے دو رخ تھے جس کو وہ الگ سمجھتا رہا.. ساون کے دن تھے، بارش برسنے کو تھی، مگر وہ بیٹھا رہا.. وہ سوچتا رہا کہ مایوسی کی آخری سرحد کتنی پرسکون ہے۔ انسان اطمینان اور مایوسی کے آخری درجے پر شکر گزار بن جاتا ہے۔ وہ بس قبول کرتا ہے سب کچھ… اس پہ جب بارش کا پہلا قطرہ گرا تو اس نے اوپر کی طرف ایسے دیکھا جیسے کوئی بیٹا اپنے والدین کو محبت سے دیکھتا ہے مگر اسے یہ دکھ ہمیشہ رہا تھا کہ وہ والدین سے وہ سب نہ کہہ سکا جو کہنا چاہتا تھا اس نے پھر سے خاموشی اختیار کی اور مسکرایا۔

وہ چاہتا تھا کہ خدا سے پوچھے کہ ان خوابوں کے قبرستان کہاں بنے ہیں جن کو اس نے زندہ دفنایا تھا۔ کیا روز قیامت خدا اپنے انسان کو اس کے زندہ درگور کئے گئے خوابوں کا ازالہ دے پائے گا؟ مگر اسے معلوم تھا کہ اس کے سوالوں کا جواب کوئی نہیں جانتا..
وہ پھر مسکرایا اور اپنی جیب سے آدھا ٹوٹا ہوا سگریٹ اٹھایا اور سلگایا۔ کش لیتے ہوئے اسے یہی لگتا رہا کہ بارش تیز ہوجائے گی اور اس کی سگریٹ کو بجھا دے گی مگر بارش نے شاید اس کے آخری سگریٹ کے ختم ہونے کا انتظار کیا۔
اسے پتھروں سے ہمیشہ محبت رہی تھی کہ اس نے کچھ پتھر جیسے انسانوں کو بہت چاہا تھا۔ اسے کچھ پتھر یاد آگئے مگر اس کا ان پہ اختیار نہیں تھا، وہ مسکرایا…

بارش کافی تیز ہوچکی تھی اور وہ وہی بیٹھا بھیگتا رہا آدھی رات کے ٹرین کو یہاں سے گزرنے میں ابھی تھوڑا سا وقت تھا.. اس نے کچھ ضروری ایڈریس اور فون نمبر جو لکھے تھے وہ نکالے اور اپنی جیب میں رکھ دیئے..
وہ سوچ رہا تھا کہ اس کی جوان آنکھیں ابھی بھی کافی جوان ہیں اور یہ کسی کو دینے چاہئیں مگر وہ کوئی بھی حصہ زندہ رکھنے کے حق میں نہ تھا.. اس نے اپنے آپ کو اچھے سے دیکھا اور ٹرین کی پٹٹری کی طرف چل پڑا…

ٹرین کے آنے کی آواز دور سے آرہی تھی۔ وہ پلیٹ فارم سے آگے چل کر پٹٹری پہ لیٹ گیا اور ایسے پرسکون لیٹا کہ جیسے کوئی بچہ ماں کی گود میں لیٹ جاتا ہے تھوڑی دیر بعد ٹرین کے مسلسل ہارن سنائی دینے لگی اور بالآخر وہ ٹرین سے یوں ملا جیسے کوئی اپنے کسی محبوب سے ملتا ہے.. اس کے بعد پلیٹ فارم پر کچھ دیر خاموشی رہی اور پھر لوگ باتیں کرنے لگے.. مگر وہ آخری لمحے مسکرایا تھا اور پھر تاریکی چھا گئی تھی

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *