اسٹیٹ بینک کی زیر تعمیر منصوبوں میں ہاؤسنگ فنانس کے فروغ کے لیے ہدایات جاری

کراچی : بینک دولت پاکستان نے زیر تعمیر رہائشی یونٹوں میں ہاؤسنگ فنانس کے حصول میں خریداروں کو سہولت دینے کے لیے بینکوں اور ڈی ایف آئیز کے لیے گائیڈلائنز جاری کی ہیں جن کے تحت وہ زیر تعمیر منصوبوں کے لیے قرضے دے سکیں گے ۔ اس وقت بینک اس طرح کی فنانسنگ فراہم کرنے سے ہچکچا تے ہیں جس کی وجہ سے گھر خریدنے والوں کے آپشنز محدود ہوجاتے ہیں جنہیں مکمل یونٹوں کے لیے فنانسنگ درکار ہوتی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی نئی گائیڈ لائنز سے بینکاری صنعت کے لیے خطرات کم کرنے کا ایک ضروری فریم ورک مہیا ہوجاتا ہے کہ وہ ہاؤسنگ فنانسنگ کے اس شعبے میں آسکیں۔ بنیادی طور پر بینکوں کے فنانسنگ رسک کو بلڈرز کے ساتھ مخصوص انتظامات کی بنیاد پر پراجیکٹ کی زمین کے مارگیج کے ذریعے محفوظ بنایا جائےگا۔ بلڈرز کو ایک خاص طو رپر بنائے گئے اکاؤنٹ (جسے ایسکرو اکاؤنٹ کہا جاتا ہے) سے ادائیگی کی جائے گی جس تک فروخت کنندہ کو اس وقت تک رسائی نہیں ہوگی جب تک فنانسنگ بینک اور بلڈرز کے درمیان طے شدہ تعمیر کے مختلف مراحل مکمل نہ ہوجائیں۔

اس سے رہائشی یونٹوں کے خریداروں کو متعدد فوائد حاصل ہو جائیں گے۔ اوّل، خریداروں کوزیر تعمیر منصوبوں میں مکانات حاصل ہوں گے، جو مکمل تعمیر شدہ یونٹوں کے مقابلے میں قدرے کم لاگت ہیں۔ دوم، بینکوں کی جانب سے مضبوط نگرانی سے منصوبے کی بروقت تکمیل اور اس کا قبضہ خریداروں کو منتقل کرنے میں مدد ملے گی۔ سوم، مکانات کے یونٹس نئے ہیں، خریداروں کو ابتدائی برسوں میں اس کی مرمت اور بحالی کی کم لاگتیں برداشت کرنا پڑیں گی۔ توقع ہے کہ ان فوائد سے زیر تعمیر مکانات خریدنے کے لیے ترغیبات پیدا کرنے میں مدد ملے گی، جس سے تعمیرات کی صنعت میں طلب پیدا ہو گی۔

بینک مکمل پراجیکٹس کے مقابلے میں زیر تعمیر منصوبوں میں فنانس مہیا کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ مارکیٹ کے موجودہ رواج کے مطابق بلڈروں کی جانب سے مکانات کی خریداری کرنے والوں کو الاٹ منٹ لیٹر پر تعمیر شروع کرتے وقت میعادی ادائیگیوں کی اجازت دی جاتی ہے، جو انہیں گھر کی ملکیت کے قابل بنانے کا ایک باسہولت طریقہ ہے۔ تاہم بینک الاٹ منٹ لیٹر پر مکانات کے قرضے فراہم نہیں کرتے ۔ نتیجے کے طور پر خریدار بینکوں سے مکانات کے قرضے لینے کے مواقع اور نتیجتاً منصوبوں کے زیر تعمیر مرحلے میں سستے مکانات خریدنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب بلڈر بھی یہ شکایت کرتے ہیں کہ زیر تعمیر منصوبوں کے لیے بینکوں سے مکانات کے قرضوں کی عدم دستیابی طلب میں کمی اور نئے منصوبوں کی ترقی کو سست کرنے کا باعث بنتی ہے۔ ان گائیڈلائنز کے اجرا کے بعد فنانسنگ بڑھنے سے ان مسائل سے نمٹا جاسکے گا۔

ان رہنما ہدایات کا اجرا ایک اہم پیش رفت ہے اور اسٹیٹ بینک ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبوں میں سرگرمی کے فروغ کے ذریعے اقتصادی ترقی کو مہمیز دینے کے لیے جو کوششیں کر رہا ہے، یہ اجرا اُن سے ہم آہنگ ہے۔ ان رہنما ہدایات کے اجرا سے توقع ہے کہ بینکوں کے ہاؤسنگ کے قرضوں میں مستقبل قریب میں معقول نمو ہوگی۔ ایک طرف، قرضہ لینے کے خواہش مند افراد کو زیرِ تعمیر منصوبوں میں ’میرا پاکستان میرا گھر‘ کے تحت مکاناتی قرضے لینے کا موقع ملے گا، تو دوسری طرف ملک بھر میں بلڈرز/ ڈویلپرز کو نئے ہاؤسنگ یونٹوں کا اسٹاک بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *