طلبہ اور علامہ قرضاوی کا مناظرہ

طلبہ وفد نے عالم اسلام کے ممتاز عالم دین شیخ یوسف قرضاوی سے ملاقات کی ہے۔ شیخ نے انہیں مفید مشوروں سے نوازا ہے۔ 96 سالہ شیخ قرضاوی مدظلہ العالی 52 کتابوں کے مصنف اور الاتحاد العالمي لعلماء المسلمين کے سابق رئیس ہیں۔ جامعہ ازہر کے فاضل اور اس وقت دنیا کے سب سے بڑے عالم سمجھے جاتے ہیں۔ مصر سے تعلق اور قطر میں مقیم۔ افغان سرزمین سے ان کا پرانا تعلق رہا ہے۔ روس کے خلاف جہاد کے زمانے سے۔ طلبہ کے سابقہ دور حکومت میں بھی وہ ایک بھاری بھرکم وفد لے کر قندھار گئے تھے۔ ان دنوں طلبہ بامیان کے بت توڑنے کے درپے تھے۔ جس سے عالمی میڈیا میں ایک طوفان برپا تھا اور مغرب کے ساتھ مشرق بھی ان کا دشمن بننے والا تھا۔ علامہ انہیں سمجھانے گئے تھے۔ اُدھر قطر سے وفد روانہ ہوا، اِدھر بت توڑ دیئے گئے۔

بہرحال طلبہ قیادت اور علامہ قرضاوی کے درمیان ایک دلچسپ مناظرہ ہوا۔ جس کی روداد وفد میں شریک فهمی هويدی نے اپنی کتاب (طلبہ..(اصل نام) جند الله في المعركة الغلط) میں تفصیل سے لکھی ہے۔ بت تو ختم ہوگئے تھے۔ بحث کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ لیکن افغان علما نے کہا کہ اچھا آپ لوگ قطر سے اس لئے آئے تھے کہ پتھر کے چند ٹکڑوں کو بچا لیں تو مجبوراً بحث کرنا پڑی اور جانبین میں دلچسپ مناظرہ ہوگیا۔ علامہ قرضاوی نے سوال کیا کہ بت توڑنے کیلئے آپ کے پاس کیا دلیل ہے؟ طلبہ نے قرآن و سنت کی نصوص کے ساتھ عرب علما کا فتویٰ سامنے رکھا۔

علامہ قرضاوی نے کہا: اچھا تاریخ سے ثابت ہے کہ اس علاقے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آئے تھے، فتح بھی حاصل کی تھی، لیکن انہوں نے یہ بت نہیں توڑے، کیا آپ لوگ ان سے بھی زیادہ شریعت کا فہم رکھتے ہیں؟ یا آپ کے پاس کوئی اور شرعی حکم آگیا؟ طلبہ کے علما نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی حدیث پیش کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ کسی بت کو مت چھوڑو یہاں تک کہ اسے توڑ نہ دو اور کسی اونچی قبر کو مت چھوڑو، یہاں تک کہ اسے زمین کے ساتھ ہموار نہ کردو۔ اس پر علامہ قرضاوی نے کہا کہ آپ لوگوں نے بتوں کو توڑ دیا لیکن یہاں ہر طرف اونچی اونچی قبریں موجود ہیں، مزارات بھی ہیں، انہیں کیوں نہیں توڑتے؟ طلبہ کے مناظر نے کہا یہ اس لئے نہیں کر سکتے کہ مقامی عوام ناراض ہو جائیں گے، ان کے ردعمل کے خوف سے قبریں اور مزارات نہیں توڑ رہے۔

علامہ قرضاوی نے کہا آپ اپنے لوگوں کی نارضی کے خوف سے قبروں کو نہیں چھیڑتے، لیکن پوری دنیا کی ناراضی کی پروا کیے بغیر بت توڑ دیئے؟ اپنے موقف (اسامہ وغیرہ) سے مغرب کو پہلے ہی اپنا دشمن بنالیا تھا، اب (بودھا کا بت توڑ کر) مشرق کو اپنا دشمن بنا لیا، میرے سادہ لوح پیارو، کیوں مشرق ومغرب کو اپنا دشمن بنا رہے ہو، اپنے عوام کے خوف سے قبروں کو نہیں چھیڑتے تو عالمی برادری کی رعایت رکھتے ہوئے بتوں کو بھی رہتے دیتے تو کیا حرج تھا؟ ہم پتھر کے چند ٹکڑوں کو بچانے نہیں، اپنے افغان بھائیوں کے درد و غم میں انہیں مشورے دینے آئے ہیں۔ لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *