ہم جنسی کا تدارک اور ہماری ذمہ داریاں

معاشرہ میں رفتہ رفتہ وہ احساس اور شعور ختم ہوتا جا رہا ہے جو کسی نازیبا فعل پہ مشتعل ہوتا تھا اور اجتماعی طور پر اس پہ صدائے احتجاج بلند کی جاتی تھی۔ اسی غفلت کا نتیجہ ہے کہ تمام تر لادین قوتیں اپنے مذموم عزائم لئے ہمارے ملک اور معاشرے میں پھیلتی چلی جا رہی ہیں اور مغرب کی بیہودہ تہذیب کو مسلط کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر کسی عمل پہ کہیں کوئی آواز بلند ہوتی ہے تو وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ خاموش ہو جاتی ہے اور زندگی دوبارہ اپنے معمول پہ آ جاتی ہے۔

ان لادین قوتوں کے عزائم میں ایک ہم جنس پرستی کو دنیا بھر میں فروغ دینا ہے۔ اسلام اور تمام آسمانی تعلیمات میں ہم جنس پرستی حرام اور ناجائز ہے۔ سب سے پہلے یہ عمل قوم لوط نے شروع کیا تھا، نہ صرف یہ گناہ کرتے بلکہ علی الاعلان کرتے اور پھر اس پہ فخر کرتے۔ اس سے قبل معاشرتی طور پہ اس برائی کا وجود نہیں تھا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے متعدد مقامات پر ان کے اس فعل بد کی قباحت و شناعت کا ذکر کیا اور اس سے باز آنے کی تلقین کی۔ لیکن جب قوم نے اپنے پیغمبر سیدنا لوط علیہ السلام کے سمجھانے پہ ان کی بات ماننے کی بجائے شہر سے نکالنے کی دھمکیاں دیں تو اللہ تعالٰی نے ان پہ سخت عذاب نازل کیا، زلزلے کے جھٹکے دئیے، ان پہ پتھر برسائے اور ان کی بستیوں کو تہہ و بالا کر دیا۔

احادیث میں نبی علیہ السلام نے اس فعل کے مرتکب شخص پہ لعنت فرمائی اور ایک حدیث میں اس فعل کے اپنی امت میں عام ہو جانے کے فتنے کے متعلق نبی علیہ السلام نے اندیشہ اور خوف کا اظہار فرمایا۔ اس عمل کے مرتکب شخص کے اعمال اور ان کے اجر و ثواب کے ضیاع کا اعلان کرتے ہوئے نبی علیہ السلام نے فرمایا۔
’’جس کسی نے اپنی بیوی یا کسی مرد یا کسی لڑکے کے ساتھ پچھلی طرف سے بد فعلی کی ، قیامت کے روز اس کے جسم کی بدبو مردار کی بدبو سے زیادہ ہو گی جس کی وجہ سے لوگ سخت اذیت محسوس کریں گے، یہاں تک کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اللہ تعالی اس کے اجر کو ضائع کر دیں گے اور اس کی فرض عبادت یا نفلی عبادت قبول نہ ہو گی۔ جہنم میں اسے آگ سے بنے ہوئے صندوق میں رکھا جائے گا۔‘‘

اس فعل کی جواز کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ فعل عقلی اور فطری طور پہ انتہائی شرمناک ہے حتی کہ فقہاء کا اس بات پہ اتفاق ہے کہ جنت میں یہ فعل (لواطت) نہیں ہوگا۔ یعنی جہاں انسان کی ہر خواہش پوری کی جائے گی وہاں انسان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہی نہیں ہوگی کیونکہ اس وقت انسان کی عقل اور فطرت پاک ہو چکی ہوگی اور کوئی بھی سلیم العقل اور سلیم الفطرت شخص کسی صورت میں اسے درست نہیں سمجھتا۔ اس فعل کو حلال اور جائز سمجھنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے کیونکہ اس فعل کی حرمت قطعی دلائل سے ثابت ہے جن کا انکار کفر ہے۔ جو شخص اس فعل کی عادت بنا لے اس کی سزا فقہاء یہ تجویز کرتے ہیں کہ حاکم اسے تعزیر کے طور پہ قتل کر دے۔

یہ فعل قانونی طور پہ بھی جرائم میں شمار ہوتا ہے۔ قانون میں فاعل اور مفعول دونوں کو مجرم قرار دیا گیا، چاہے اپنی بیوی یا کسی عورت کے ساتھ پچھلے حصے سے کرے، کسی مرد کے ساتھ کرے یا جانور سے کرے، رضامندی سے کیا جائے یا بغیر رضامندی کے ہو، بہر صورت جرم ہے۔ البتہ اگر مفعول سولہ سال سے کم عمر ہو تو اسے جبر سمجھ کر مجرم قرار نہیں دیا جاتا۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 377 کے تحت ایسے فعل کا ارتکاب کرنے والے دونوں افراد پہ جرمانہ اور دو سال سے زائد قید کی سزا دی جائے گی اور عمر قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

اس برائی کو معاشرے میں دوبارہ عام کرنے اور فروغ دینے کے لئے گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک بار پھر عالمی سطح پہ محنت کی جا رہی ہے، اور آزادی کے نام پر اس بےحیائی کو رواج دیا جا رہا ہے۔ دراصل یہ آزادی مذہب سے ہی آزادی ہے کہ تمام لوگ مذہب کی تعلیمات سے بیزار ہو کر مغربی تہذیب کے دلدادہ بن جائیں۔

فحش فلموں کا کاروبار اس وقت عروج پہ ہے اور اسے باقاعدہ انڈسٹری بنا دیا گیاہے، بطور خاص ہم جنس پرستوں کے ہر طرح کے بیہودہ مناظر دکھا کر قوم کو اس فعل بد پر آمادہ کیا جا رہا ہے، ٹک ٹاک جیسی بیہودہ ایپ کو دنیا بھر میں متعارف اور مقبول بنایا گیا جس کا موٹو ہی جنس پرستی کو دنیا بھر میں فروغ دینا ہے۔

ہم جنس پرستی کی لہر باقاعدہ اور منظم طور پر ہمارے ملک میں داخل ہو چکی ہے اور اس فعل بد کو پاکستان میں فروغ دینے کے لیے چار سنٹرز قا ئم ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے چاربڑے شہر کراچی، ملتان، لاہور اوراسلام آباد بچوں کی سیکس مارکیٹ بن چکے ہیں۔ اسی کا عملی نمونہ حالیہ عرصہ میں وطن پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں خواتین مارچ کے نام پہ ہونے والے مظاہروں میں ملا جس میں ہم جنس پرست ممالک اور تنظیموں کے جھنڈے لہرائے گئے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ غیر ملکی فنڈ پہ چلنے والا یہ طبقہ اب اس قدر جری ہو چکا ہے کہ ایک اسلامی ملک میں حکومت کے سائے میں ایسے فعل کو فروغ دے رہا ہے جو شرعی لحاظ سے بھی اور قانونی اعتبار سے بھی انتہائی گھناؤنا اور قابل سزا جرم ہے، لیکن آج تک ریاست خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

اس فعل بد کے قباحت و شناعت کے خاتمے کا اندازہ یہاں سے کر لیجئے کہ حالیہ خواتین مارچ میں کئی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے یہ بات سننے کو ملی کہ وہ ہم جنس پرستی کو برا نہیں سمجھتے اور ان کے خیال میں اس کے صحیح ہونے پہ قانون بنا دینا چاہیے۔ ایک اسلامی ملک میں اس سے بڑھ کر ارتداد کیا ہو سکتا ہے کہ اسلامی شریعت کی رو سے اجماعی طور پہ ایک حرام فعل کو جائز اور درست سمجھا جانے لگے اور اس کی آزادی اور قانونی تحفظ کا مطالبہ کیا جانے لگے؟

امریکہ اور کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں ہم جنس پرستی کو مکمل قانونی تحفظ دیتے ہوئے شادی کی اجازت بھی دی جا چکی ہے اور کئی ممالک میں عوام کی طرف سے یہ احتجاج کیا جا رہا ہے کہ انہیں ہم جنس پرستی کی اجازت دی جائے اور تحفظ فراہم کیا جائے جبکہ یورپین ممالک پاکستان سمیت دیگر ممالک پہ مسلسل یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ فراہم کر کے انہیں آزادی دی جائے۔

عورت میں قدرتی طور پر اللہ تعالٰی نے کشش رکھی ہے، جس طرح مردوں کو عورتوں میں رغبت ہوتی ہے اسی طرح عورتوں کا حد سے زیادہ تعلق اور میل جول ایک دوسرے میں رغبت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ خاص طور پہ جہاں خواتین مستقل طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہائش پذیر ہوں تو رفتہ رفتہ انسیت بڑھتی چلی جاتی ہے جو بعد میں ہم جنس پرستی کی شکل اختیار کر لیتی ہے، ایسے واقعات میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جس کا معاشرے میں عمومی طور پر یا ادراک نہیں ہو پا رہا یا پھر اس سیلاب کو روکنے کے لیے سنجیدہ نہیں۔

انسان کے جنسی جذبات اور میلان سے اسلام انکار نہیں کرتا بلکہ اسلام نے اسے جنسی جذبات کی قدر کرتے ہوئے اس کی تسکین کے لیے ایک جائز راستہ دیا کہ مرد و عورت باہم نکاح کر لے اور اپنی خواہشات پوری کرے۔ اگر مرد کی تسکین ایک عورت سے نہ ہو تو اسے ایک وقت میں چار شادیوں کی اجازت دی لیکن اس غیر فطری فعل کو حرام و ناجائز قرار دیا۔

اس فعل بد کے نتیجے میں مغربی معاشرے میں سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ وہاں کا خاندانی نظام منتشر اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ نکاح کی اہمیت و تصور ناپید ہو چکا اور بغیر نکاح کے اولاد کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی اس کے فروغ کا ایک بنیادی مقصد خاندانی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا اور اس کو ایک بے وقعت بنا دینا ہے۔

بے حیائی کا عالم یہ ہے کہ اب مرد و عورت کے مصنوعی اعضائے مخصوصہ بنا کر انہیں فروخت کیا جا رہا ہے۔ مغرب میں یہ کام تو عرصہ دراز سے چل رہا ہے جبکہ اب یہ وطن عزیز پاکستان میں بھی شروع ہو چکا ہے۔ مجھے ایک دور دراز دیہات کی لڑکی نے میسج کیا کہ ہماری ایک پڑوسی خاتون ہمیں اس طرح اپنے ساتھ بد فعلی پہ مجبور کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ اب مردوں کے پاس جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ مردوں والی تمام چیزیں بازار سے مل جاتی ہیں۔ تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ یہ سلسلہ عرصہ دراز سے شروع ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ ایک دور دراز دیہات کی خاتون کی اگر اس حد تک رسائی ممکن ہے تو بڑے شہروں میں کس قدر آسانی سے یہ آلات دستیاب ہوں گے۔ بعض ذرائع سے یہ بھی علم ہوا کہ اس میں پرائیویسی کا اتنا خیال رکھا جاتا ہے کہ آپ آن لائن آرڈر کریں تو ڈبہ میں پیک کر کے یہ سامان آپ تک پہنچایا جاتا ہے، جس کا سوائے بھیجنے والے اور لینے والے کے کسی کو علم نہیں ہوتا۔

ان حالات میں ہمیں درج ذیل کام کرنا ہوں گے:
منبر و محراب سے ان مسائل پہ بات کی جائے اور لوگوں میں آگاہی اور شعور پیدا کیا جائے۔

والدین اپنی اولاد کی دینی و اسلامی اصول و قوانین کی روشنی میں تربیت کریں اور سات سال کے بعد بچوں کے بستر الگ کرنے اور انہیں شرم و حیا کے پاکیزہ سبق سکھائیں۔ اولاد کی آمد و رفت، تعلقات اور پارسل پہ گہری نظر رکھیں اور نگرانی کریں۔ بچوں کو ان تعلیمی اداروں سے تعلیم دلوائیں جہاں مخلوط تعلیم نہ ہو بلکہ لڑکوں اور لڑکیوں کے سیکشن الگ الگ ہوں۔

اس سیلاب کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام گروہی، مسلکی اور لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر ان اقدامات کے خلاف اجتماعی طور پہ منظم اور بھرپور تحریک چلائی جائے  تاکہ ریاست کو ایسے غیر شرعی و غیر قانونی اقدامات کو روکنے پہ مجبور کیا جا سکے۔

اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو پھر وہ وقت دور نہیں کہ جب یہ سیلاب ہمارے گھروں میں بھی داخل ہو چکا ہوگا اور ہم سوائے حسرت اور افسوس کے کچھ نہیں کر پائیں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *