ایف آئی اے میں پولیس کے افسران کی اپائنٹمنٹ ،ٹرانسفر ،پوسٹنگ کے لئے رولز میں ترمیم

اسلام آباد (رپورٹ:الرٹ نیور)ایف آئی اے میں پولیس کے افسران کی اپائنٹمنٹ ،ٹرانسفر ،پوسٹنگ کے لئے رولز میں ترمیم کی تیاری کرلی گئی

اسلام آباد (رپورٹ:الرٹ نیور)ایف آئی اے میں پولیس کے افسران کی اپائنٹمنٹ ،ٹرانسفر ،پوسٹنگ کے لئے رولز میں ترمیم کی تیاری کرلی گئی ،کوٹہ کے مطابق ایف آئی اے میں 40فیصد افسران واہلکار پولیس سے ہونے چاہئے ہیں جبکہ ملک بھر میں 60فیصد سے بھی زائد افسران کا تعلق پولیس سے ہے ،سندھ میں صرف ایک افسر ایڈیشنل ڈائریکٹر (اے ایچ ٹی سی )صفی اللہ جوکھیو تعینات ہے جسکے علاوہ تمام افسران پولیس محکمے سے ہیں ۔ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کے حکم پر ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد حیدر کے دستخط سے جاری ہونے والے آفس آرڈر نمبرNo.E-46/Admn-I/2018کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (امیگریشن )کی نگرانی میں 5رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں ڈائریکٹر آئی پی آر عبدالقادر قیوم ،گریڈ 18کے 4افسران جن میں انوسٹی گیشن گروپ ،لیگل گروپ ،فارنسک گروپ ،ایڈمن اور اکاؤنٹ گروپ کا ایک ایک افسر شامل ہیں،ان کی ذمہ داری ہے وہ ایف آئی اے کے ٹرانسفر ،پوسٹنگ اور اپائنٹمنٹ رولز (اے ٹی پی ) کے رولز 2014میں ترمیم کریں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کا مقصد یہ ہے کہ پولیس محکمے کے افسران کا کوٹہ 40فیصد سے بڑھا کر 60فیصد تک کیا جاسکے ،معلوم رہے کہ اس سے قبل کوٹہ 40فیصد ہے تاہم ملک بھرمیں ایف آئی اے میں تعینات افسران کی تعداد 60فیصد سے بھی زائد ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سندھ زون میں اس وقت صرف ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر صفی اللہ جوکھیو واحد ایف آئی اے کے افسر ہیں جن کے علاوہ تمام اعلی افسران محکمہ پولیس کے ہی تعینات ہیں ۔تاہم مذکورہ ترمیم کی وجہ سے ایف آئی اے کے افسران میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے بعض سینئر افسران نے باہمی مشورے شروع کردیئے ہیں تاکہ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جاسکے کیوں کہ پولیس کے افسران کے آنے سے ایف آئی اے کی کارکردگی کو نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *