وزیر خزانہ کا ایف بی آر کو نوٹسز واپس لینے کی احکامات کا خیر مقدم کرتے ہی، کاٹی

کراچی () کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر سلیم الزماں نے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو جاری احکامات کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے ایف بی آر کوہدایات کی ہیں کہ بزنس کمیونٹی کے خلاف ہراسگی روکی جائے ،اب تک جاری کئے گئے تمام نوٹسز کو واپس لیے جائیں اور عدالت میں زیر التوا کیسسزکو مشاورت سے واپس لیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے بزنس کمیونٹی کا حکومت پر اعتماد بحال ہوگا۔ صدر کاٹی نے وزیر خزانہ سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر حکام بزنس کمیونٹی کو بلا جواز ہراساں کرکے معیشت کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے تھے۔ وزیر خزانہ کے واضع احکامات کے بعد بزنس کمیونٹی نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے فارن ایکسچینج کیسز کو مکمل ڈجیٹلائز کر دیا

سلیم الزماں نے کہا کہ ماضی میں ایف بی آر کی ہراسگی سے تنگ آکر بیشتر صنعتکارو سرمایہ کار ملک چھوڑ کر مشرق وسطی، ویتنام سمیت دیگر ممالک منتقل ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم وزیر خزانہ کے احکامات کے شکر گزار ہیں لیکن یہ احکامات صرف بیان کی حد تک نہ رہے، امید کرتے ہیں کہ وزیر خزانہ کے احکامات پر عملی طور پر عملدرآمد کیا جائے۔

صدر کاٹی نے کہا کہ بلاآخر حکومت کو ادراک ہوا کہ منافع کما نا کوئی گناہ نہیں، وزیر خزانہ نے اس بات کی تائید کی ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ صنعتکار اور سرمایہ کار منافع کمائیں۔ انہوں نے کہا کہ شوکت ترین خود بزنس کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں اسی لئے انہیں بزنس کمیونٹی کے مسائل کا اندازہ ہے ۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا صحافیوں کو ہراساں کرنے کا نوٹس، DG ایف آئی اے، IG اسلام آباد، سیکریٹری داخلہ طلب

سلیم الزماں نے وزیر خزانہ سے اپیل کی کہ وہ ٹیکس کے مسائل کو حل کرانے میں ذاتی دلچسپی لیں اور کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات تیز کریں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کاروباری میں آسانی اور ون ونڈوآپریشن میں سہولیات فراہم کرے تو پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے بیرون ملک سرمایہ کار دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ، یورپ اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار کاٹی کے متعدد اجلاسوں میں اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔سلیم الزماں نے کہا کہ اگر حکومت سہولیات فراہم کرے تو پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اور صنعتکاری میں اضافہ ممکن ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *