معیار زندگی نہیں، زندگی چاہیے

ازدواجی زندگی

تحریر : شزا امداد (جامعہ کراچی)

تین سال مکمل ہونے پر کہا ہے کہ غریب طبقات کا معیار زندگی بلند کرنا، ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان غریب طبقات کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا۔ پھلوں اور سبزیوں کے سرکاری نرخ بڑھ گئے سبزیاں اور پھل 40 فیصد تک مہنگی ہوئے لاہور کے ماڈل بازاروں میں اشیاء مہنگی عام بازاروں میں وہی آشیاں 25 سے 40 فیصد اضافے سے فروخت ہو رہی ہیں متعدد سبزیاں سنچریاں مکمل کر چکی ہیں بڑھتی قیمتیں ان کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں اور ملک میں چینی سو روپے سے ایک سو دس روپے مہنگی ہوگئی ہے۔

کراچی کی انتظامیہ دو سالوں سے دودھ کی قیمت پر بھی عمل نہیں کرا سکی۔ کراچی انتظامیہ کا دودھ کا مقررہ سرکاری نرخ 94 روپے لیٹر سے ایک سو تیس روپے سے ایک سو چالیس روپے لیٹر اور دہی دو سو روپے کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ سبزیاں، پھل، گھی، آئل، چاول، آٹا اور دیگر اشیائے ضرورت کو مسلسل پر لگے ہوئے ہیں اور انڈوں نے موجودہ حکومت میں مہنگائی کا پہلی بار ریکارڈ دو سال سے قائم کر رکھا ہے اور کوئی بھی چیز اب غریب تو کیا متوسط طبقے کی قوت خرید میں نہیں رہی ہے۔ تین سالوں سے حکومت خود بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر مہنگائی بڑھا رہی ہے۔ غریب طبقات کا معیار زندگی بلند کرنے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے جبکہ ملک کے غریب غربت میں خودکشیاں کررہے ہیں۔

مہنگائی اب انتہا پر پہنچ چکی ہے جس کو بنیاد بنا کر عمران خان سابقہ حکومتوں پر کڑی تنقید کیا کرتے تھے وہ مہنگائی کنٹرول کرنے میں پانچوں حکومتیں مکمل ناکام نہ جانے کیوں ہیں اس پر عوام حیران اور روزانہ یہ دیکھ رہے ہیں کے حکومتوں سے تنگ لوگ مسجدوں میں اپنی تعداد بڑھا رہے ہیں کیونکہ انہیں اب اللہ ہی کا سہارا درکار ہے اور وہ جب مساجد سے باہر آتے ہیں تو بڑی مساجد کے تمام دروازے پر جوان، بوڑھے، اور خواتین اپنے بھوکے رہنے، دواؤں کی ضرورت کے ڈاکٹری پرچے لیے فریاد کرتے نظر آتے ہیں کوئی راشن مانگتا ہے کوئی دوائی، ان کی حالت زار اور بےبسی نمازی نہیں صرف حکومتی دور کر سکتی ہے، مگر حکومت کو غریب طبقات کا معیار زندگی بلند کرنے کے بجائے سنجیدگی سے غریبوں کو درپیش اہم مسائل مہنگائی و بے روزگاری پر فوری توجہ دینی ہوگی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *