تباہ حال پڑوسی ملک ابھرتا ہوا معاشی قوت مگر کیسے

تحریر : قاضی نصیر عالم

اگر میں یہ کہوں کہ اگلے تین چار سالوں میں ہمارا تباہ حال پڑوسی ملک خطے کی نہ صرف ایک بڑی معاشی قوت ہوگا بلکہ خوشحالی عرب کے بدووں سے زیادہ تیزی کے ساتھ وہاں کے مکینوں کی طرف لپکے گی تو یقین جانئیے کہ خود مجھے بھی یہ کہتے ہوئے تردد ہو گا ۔۔لیکن کیا کریں کہ یہ محض خوش گمانی نہی مستقبل کے منظر نامے میں یہی بات زیادہ قرین از قیاس ہے۔۔
یہ بات بہر حال طے ہے کہ اگلے کئ سالوں تک وہاں کوئ بیرونی طاقت اپنا سر پھوڑنے کے بجائے کوئ دوسرا موزوں مقام تلاش کرے گی۔۔۔
دفاع پر خرچ کرنے کی انہیں ضرورت نہی کہ یار اغیار اتنا کچھ چھوڑ گئے ہیں کہ اڑوس پڑوس کو وہ سازوسامان کرائے پر دے کر بھی اچھی گزر بسر کر سکتے ہیں ۔

ممکنہ دشمنوں کے لئے “ویوز نام ہی کافی ہے “ کی تختی لگائے بنا مارکیٹ میں ساکھ برقرار رکھ سکتے ہیں۔۔
بد امنی پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے وہ یہ دوسری بار ثابت کر چکے۔۔۔اور سرمایہ دار کو مثالی امن سامان اور تجارت دوست ماحول سے زیادہ کچھ عزیز نہی ہوتا۔۔خیر۔۔۔
وہ تیل جس نے خیموں میں بسنے والے بددوں کو محلات میں پہنچا دیا اس تیل سے چلنے والی گاڑیاں اب الیکٹرک بیٹریوں سے دوڑ رہی ہیں ۔۔اگلے چند سالوں میں سڑکوں پر الیکٹرک گاڑیاں ہی ہوں گی۔۔ان بیٹریوں کا لازمی عنصر لیتھیم ہے اور پینٹا گان کے ایک میمو کے مطابق افغانستان لیتھیم کا “سعودی عرب “ہے ۔۔

دنیا میں اس دھات کے زخائر میں سرفہرست ملک بو لیویا سے زیاد ذخائر صرف غزنی میں ہیں۔۔
اس وقت اس دھات کی طلب میں سالانہ بیس فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔۔افغانستان میں تین کھرب ڈالر کے ممکنہ معدنی وسائل میں
صرف ہلمند میں محتاط اندازے کے مطابق انتہائ کمیاب دھاتوں کے گیارہ سے چودہ ملین میٹرک ٹن کے ذخائر موجود ہیں ۔۔جنہیں REEs کہا جاتا ہے۔۔یہ دھاتیں ٹینکوں کے نیوی گیشن سسٹم سے میزائل گائیڈنس سسٹم اور سیٹلائیٹ سسٹم تک کا لازمی جزو ہیں اور تاحال امریکہ ان دھاتوں کے لیے چین پر انحصار کرتا ہے۔۔۔

یہ سارے تخمینہ حملہ آوروں نے اپنی آمد کے پانچ سال کے اندر لگا لیے تھے لیکن کچھ انفرا اسٹرکچر کی عدم موجودگی اور وہاں جاری مزاحمت نے انہیں قدرت کے ان وسائل سے مستفید ہونے کا موقع نہ دیا ۔اب خیر سے انفرا سٹرکچر موجود ہے۔۔۔اور مزاحمت کار خود اقتدار میں ہیں۔۔
گزرے چھبیس سالوں میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہ گیا۔۔اب وہ وقت نہی کہ وہ عالمی دنیا سے اپنے آپ کو تسلیم کیے جانے کے محتاج ہوں اور ہمارے ہاں آکر ان کے سفیر مذہب سے لگاؤ رکھنے والے صنعتکاروں کو دعوت دیں کہ آئیں ہمارے ہاں سرمایہ کاری کریں۔۔صنعتیں لگائیں۔۔
جو دنیا انہیں تسلیم کرنے سے انکاری تھی اس دنیا سے وہ اپنا آپ منوا چکے۔۔اب چائینہ روس پاکستان سمیت جن ممالک کا سفارتی عملہ وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھتا ہے اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ وہ انہیں تسلیم کرتا ہے۔۔تبدیل ہونے والے سفرا اپنی دستاویز سپرد کرنے کیلیے اشرف غنی کے حکام کو نہی ڈھونڈیں گے۔۔اجازت ان کی ہوگی جو اب وہاں بیٹھے ہیں ۔۔
چین اگر وہاں موجود ہے تو اس کا صرف یہ مطلب نہی کہ وہ انہیں تسلیم کرتا ہے اس کا واضح مطلب یہ بھی ہے کہ زیر زمیں معدنی ذخائر کی تلاش میں وہ ان کا سب سے بڑا شراکت دار ہو گا

اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ چائینہ کبھی بھی کمیاب دھاتوں میں اپنی اجارہ داری کو ٹوٹتا ہوا نہی دیکھنا چاہے گا۔۔
ہاں فرق یہ ہو گا کہ جس طرح انہوں نے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں اپنی من پسند شرائط پر ٹھیکے لئے اور اپنے مفاد کو مقدم رکھا وہاں یہ ٹھیکے ان کے بجائے مقامی لوگوں کے مفاد میں ہوں گے۔۔چین سے جاری اس کاروباری مسابقت میں مغربی دنیا کے لیے زیادہ عرصے تک ایک طرف ہو کے بیٹھے رہنا ممکن نہی ہو گا۔اور وہ مجبوراً یہاں کا رخ کریں گے اور اس مسابقت کا براہ راست فائدہ بھی مقامی لوگوں کو ہوگا۔۔

اب بھی عقل یہ تسلیم کرنے سے انکاری ہو تو سنتے جائیں کہ ہمارے ہاشو گروپ کی نیٹ ورتھ ایک ارب ڈالر سے زائد ہے بعض اندازوں کے مطابق ان کی دولت کا تخمینہ تین ارب ڈالر سے بھی زائد ہے (کمی بیشی ممکن ہے)ان کا ایک بڑا کاروبار معدنیات کا ہے لیکن حال یہ ہے کہ بہت سی جگہ ان کو بھی مائیننگ میں مشکلات کا سامنا ہے۔۔اور کئ جگہوں پر مسائل کی وجہ سے انہیں بھی اپنا کام بند کرنا پڑا۔۔یہی حال عمر ایسوسی ایٹس کا ہے۔۔
اگر کسی خجل خواری کے بغیر انہیں شفاف بنیادوں پر مائننگ کی اجازت اپنے پڑوس میں مل جائے اور امن وامان بھی میسر ہو تو آخر انہیں اپنے کاروبار کو وسعت دینے میں کیا امر مانع ہو گا۔۔جبکہ وہاں ان معدنیات کی باآسانی دستیابی بھی ممکن ہو اور اس کی لاگت بھی انتہائ کم ہو۔۔
ویسے سوچنے میں آخر حرج ہی کیا ہے ۔۔آخر کو ہم کیا کچھ نہی سوچتے۔۔۔لیکن کچھ ایسا ہی آج کل مغرب بھی سوچ رہاہے۔۔اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہی۔۔کہ آپ غلط سوچ رہے ہیں۔۔

جاتے جاتے ایک اور بات بھی سنتے جائیں۔۔۔

ایک برتر ذات ہے جو کہتی ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔۔اسکی طرف سے آسانی ہو تو اتنی ہوتی ہے کہ تنگی داماں کا شکوہ ہونے لگتا ہے۔۔
وہ بنی اسرائیل جنہوں نے بزدلی دکھائ اور پیٹھ پھیر لی چالیس سال صحرائے سینا میں دربدری کے بعد ان کی دوسری نسل کو عہد زریں مل گیا یہ تو اس کے نام لیوا ہیں اسی کے نام پر اپنے گھروں سے بے دخل کیے گئے بے توقیر ہوئے۔۔۔چالیس سال پورے نہی ہوئے کیا۔۔؟
کیا خبر کاتب تقدیر نے کوئ ایسا دن بھی لکھ رکھا ہو کہ جب کوئ سونے سے کئ گنا قیمتی اریڈیم یا رہوڈیم کے کلو،کلو کے باٹ جیب میں ڈالے غزنی سے نکلے اور طور خم تک پہنچے اور کروڑوں روپے جیب میں ڈالے واپسی کا سفر کرے اور اسے کسی کا خوف نہ ہو۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *