مسجدِ گوهرشاد، مشهد (ایران)

دنیائے اسلام میں جہاں مردوں نے خوبصورت مساجد تعمیر کروانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں خواتین بھی اس کار خیر میں حصہ لینے میں پیچھے نہ رہیں۔ انھی میں امیر تیمور کی بیگم کے نام سے مسجد بی بی خانم (سمرقند) تیموری دور کی خوبصورت مساجد میں شمار کی جاتی ہے۔ امیر پور اور بی بی خانم کی بہو اور ان کے بیٹے شاہ رخ کی بیگم گوہرشاد بھی اپنی ساس سے کسی طرح کم نہ ٹھہری۔ ملکہ گوہر شاد نے اپنے درباری ماہر تعمیرات زین الدین شیرازی کو حکم دیا کہ شہر میں ایک خوبصورت اور عالیشان مسجد تعمیر کی جائے۔
 
1418ء میں مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔ اصفہان اور شیراز سے ماہر فن کار اور کاریگر بلائے گئے۔ انھوں نے ملکہ کی خواہشات کے مطابق مسجد تعمیر کرنے میں اپنی ساری توانائیاں صرف کر دیں۔ استاد شیرازی کی زیرنگرانی یہ مسجد بارہ سال میں مکمل ہوئی۔ مسجد سمرقندی طرز تعمیر سے تیار کی گئی۔ پیازی طرز کا گنبد مسجد کی شان ہے۔ گنبد کا رنگ فیروزی ہے، مسجد کا کل رقبہ 101292 مربع فٹ ہے اور صحن 180 فٹ لمبا اور 160 فٹ چوڑا ہے۔ مسجد کے صحن میں سنگ مرمر استعمال کیا گیا ہے۔ صحن کے تینوں اطراف میں برآمدے بنائے گئے ہیں۔ مسجد کے دو مینار ہیں جو 131 فٹ بلند ہیں۔ گنبد کا قطر 49 فٹ اور اس کا محیط 207 فٹ ہے۔ صحن سے مسجد کے اندر ہال میں داخل ہونے کے لیے نو محرابی دروازے ہیں۔ گنبد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ دہری تہہ میں بنایا گیا ہے۔ مسجد کی تعمیر میں سرخ اینٹوں، ٹائلوں اور سنگِ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے۔ خطِ کوفی میں قرآنی آيات اتنی خوشخطی سے تحریر کی گئی ہیں کہ چھ صدیاں گزرنے کے بعد بھی زمانے کے حوادث ان کی آب و تاب میں سرِموفرق نہیں لا سکے۔ مسجد کا منبر اخروٹ کی لکڑی سے تیار کیا گیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ منیر کی تیاری میں کہیں بھی لوہے کی میخ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ مسجد کے ہال میں ہاتھ سے تیار کردہ خوبصورت ایرانی قالین بچھائے گئے ہیں۔ مسجد سے ملحق ایک بڑی لائبریری ہے جس میں 35 ہزار کتاب رکھی گئی ہیں۔ غرضیکہ مسجد گوہر شاد ایران کی نہایت خوبصورت مساجد میں سے ایک ہے۔ یہ مسجد مشہد میں امام رضا رحمہ اللہ کے روضہ کے کمپلیکس کا حصہ ہے۔
 
شاہ رخ کے صدر مقام ہرات میں ایک خوبصورت مدرسہ بھی استاد زین الدین شیرازی کی زیرنگرانی مکمل ہوا تھا۔ ملکہ گوہر شاد امیر تیمور کے پوتے اور شاہ رخ کے بیٹے الغ بیگ کی والدہ تھی۔ الغ بیگ ایک بڑا حکمران مشہور ہیت دان اور سائنس دان تھا۔ اس کی تعمیر کی ہوئی رصد گاہ سمرقند میں ہے جہاں اس کی دادی کی بنائی ہوئی مسجد بی بی خانم آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔ ملکہ گوہر شاد 1457ء بمطابق 861ھ کو اس جہان فانی سے رحلت کر گئی اور ہرات میں دفن ہوئی۔
 
صفوی حکمران شاه عباس نے مسجد گوهرشاد کی مرمت اور تزئین و آرائش پر خاص توجہ دی۔ 1803ء میں زلزلے نے
اس مسجد کے کچھ حصے کو نقصان پہنچایا جس کی بعد میں مرمت کر دی گئی۔
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *