اردو کی ترقی و ترویج کے لئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی خدمات فراموش نہیں کی جاسکتیں،مرتضیٰ وہاب

مرتضیٰ وہاب

کراچی :ایڈمنسٹریٹر کراچی، ترجمان حکومت سندھ و مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اردو وہ واحد زبان ہے جو پاکستان کے تمام صوبوں میں رہنے والوں کو ایک دوسرے سے ملاتی ہے، آج ہمیں قومی یکجہتی اور اتحاد کی جتنی ضرورت ہے اتنی کبھی نہیں تھی،اردو کی ترقی و ترویج کے لئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی خدمات فراموش نہیں کی جاسکتیں،یہ بات انہوں نے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی60 ویں برسی پر کراچی کے شہریوں کی جانب سے ان کے مزار پر حاضری اور پھول چڑھا نے اور فاتحہ خوانی کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر سینئر ڈائریکٹر کلچر اسپورٹس اینڈ ریکریشن سیف عباس، سینئر ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ علی حسن ساجد،انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس کے جنرل سیکریٹری روشن علی، کمپیوٹر سائنس ڈپارٹمنٹ کے محمد صدیق، آفیسر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری خرم مشتاق، شعبہ تعلیمات کے سربراہ ڈاکٹر کمال حیدر، ممبر نامزد کنندہ کمیٹی اردو یونیورسٹی کے دیگر اساتذہ کرام بھی موجود تھے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اپنی پوری زندگی اردو کی خدمت کے لئے وقف کردی اور اردو کو اس کا جائز مقام دلانے کے لئے مصروف عمل رہے، اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانے والے محسنین میں مولوی عبدالحق کا نام سرفہرست ہے، وہ بلاشبہ کاروان اردو کے سرخیل کہے جاسکتے ہیں، انجمن ترقی اردو اور وفاقی اردو یونیورسٹی کا قیام انہی کے خوابوں کی تعبیر ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور کراچی کے شہریوں کی جانب سے ہدیہ تہنیت پیش کرتا ہوں کہ بے شک انہوں نے صحیح معنوں میں اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کی۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جامعہ اردو ہی وہ مقام ہے کہ جہاں مولوی عبدالحق نے نہ صرف یہ کہ اردو کی خدمت کرتے ہوئے اپنی آخری ایام گزارے بلکہ یہیں آسودہ خاک بھی ہیں، انہوں نے کہا کہ مولوی عبدالحق نے اردو زبان کو ہماری قومیت کی نشانی، اسلاف کی یادگار اور ہماری روایات و تہذیب کی امین قرار دیا تھا اور اسی حوالے سے ان کی یہی خواہش تھی کہ عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد کی طرز پر اردو یونیورسٹی قائم کی جائے، مولوی عبدالحق کا سب سے عظیم کارنامہ انجمن ترقی اردو کی پاکستان منتقلی ہے جس کے کتب خانے میں علم و فنون کے نادر اور نایاب نسخے موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی قوم کی تہذیبی شناخت اور اس کے تشخص کی ترجمان ہوتی ہے،اردو صرف تاریخی سرمایہ نہیں بلکہ ایک جدید ترین ترقی یافتہ زبان ہے، اس میں جدید علوم و فنون کے مکمل ابلاغ کی پوری صلاحیت موجود ہے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ بابائے اردو ان خوش قسمت انسانوں میں شامل تھے جو کبھی مرتے نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے، جو بیج انہوں نے بویا تھا آج لاکھوں طالب علم اس سے استفادہ کر رہے ہیں، اردو کے محسنوں اور مخلص خادموں کی فہرست میں اگر مجموعی طور پر اگر کسی ایک کو محسن اعظم کا لقب دیا جاسکتا ہے تو بلااختلاف بابائے اردو مولوی عبدالحق ہی اس کے اصل حقدار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جو صنعتی اور تجارتی لحاظ سے اس ملک کا سب سے بڑا معاشی حب ہے جہاں ملک کے کونے کونے سے تعلق رکھنے والے افراد بہت بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں کراچی ایک خوبصورت گلدستے کی مانندہے جس کی ترقی اور خوشحالی میں سب ہی زبانیں بولنے والے شریک ہیں مگر ان سب کے درمیان رابطے کی زبان صرف اور صرف اردو ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بابائے اردو مولوی عبدالحق کی زندگی اپنے مقصد کے حصول کے لئے خلوص نیت کے ساتھ مسلسل جدوجہد کی بہترین مثال ہے، سرسید احمد خان کی طرح بابائے اردو نے بھی کبھی اردو زبان کو اس کا جائز حق دلانے کی راہ میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا اور ہمیشہ اپنے موقف پر قائم رہے، آج بھی ہمیں اسی قسم کے جذبے اور عزم کی ضرورت ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *