وطنِ عزیز پاکستان سے محبت

14 اگست وہ عظیم دن ہے جب دنیا کے نقشے پر معجزہ ہوا اور پاکستان وجود میں آیا۔ ہر پاکستانی کے دل میں اپنے وطن کے لئے بے تحاشا محبت ہے۔ وطن سے محبت انسان کے خمیر میں رکھ دی گئی ہے۔

فِطْرَةُ الرَّجُلِ مَعْجُوْنَةٌ بِحُبِّ الْوَطَنِ. (محاضرات الأدباء للراغب الأصفهانی، 2: 652)

فطرتِ اِنسان کو وطن کی محبت سے گوندھا گیا ہے (یعنی وطن کی محبت انسانی خمیر میں رکھ دی گئی ہے)۔

قرآن اور احادیث سے ہمیں حب الوطنی کی دلیل ملتی ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام کا اپنی قوم کو اس مقبوضہ وطن کی طرف جانے کا کہنا۔ خضرت ابراہیم علیہ السلام کا مکہ کے لئے خصوصی دعا کرنا۔ پھر سورہ توبہ میں محبوب چیزوں میں وطن /گھر /مسکن کو بھی شامل کرنا ارشاد باری تعالی ہے :

قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِيْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَهَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْکُمْ مِّنَ اﷲِ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی يَاْتِيَ اﷲُ بِاَمْرِهِط وَاﷲُ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَo (التوبة، 9: 24)

(اے نبی مکرم!) آپ فرما دیں: اگر تمہارے باپ (دادا) اور تمہارے بیٹے (بیٹیاں) اور تمہارے بھائی (بہنیں) اور تمہاری بیویاں اور تمہارے (دیگر) رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے (محنت سے) کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکمِ (عذاب) لے آئے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا۔

مساکن کا ترجمہ وطن بھی لیا گیا ہے۔اس آیت میں ان سب چیزوں کی محبت اگر اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جہاد سے بڑھے گی تو خسارے کا سبب ہو گی۔ قرآن کے علاوہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی وطن سے محبت نظر آتی ہے۔ وہ آبائی وطن مکہ ہو یا دار ہجرت مدینہ دونوں سے محبت کی کچھ جھلکیاں دیکھتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے محبت کا وہ عالم تھا کہ جب پہلی وحی آتی ہے اور خضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے جاتی ہیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین باتیں کہتے ہیں، پہلی یہ کہ آپ کی قوم آپ کی تکذیب کرے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے ہیں ۔ دوسری بات وہ کہتے ہیں کہ قوم آپ کو تکلیف و اذیت میں مبتلا کرے گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے ہیں جب تیسری بات کہتے ہیں کہ قوم آپ کو وطن سے نکال دے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً فرماتے ہیں :

أَوَ مُخْرِجِيَّ؟ …..کیا وہ مجھے میرے وطن سے نکال دیں گے؟ اور اس سوال میں جو تڑپ ہے جو دکھ ہے وہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔پھر مکہ سے ہجرت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ الفاظ جو مکہ کو مخاطب کر کے فرمائے: “تُو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے! اگر میری قوم تجھ سے نکلنے پر مجھے مجبور نہ کرتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا”۔ یہ وطن کی محبت ہی تو تھی کہ جب ایک شخص مکہ سے مدینہ ملنے آتا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ ان سے مکہ کا حال پوچھتی ہیں جواب میں وہ شخص مکہ کی باتیں کرنے لگتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لا تُشَوِّقْنَا يَا فُلَانُ ،…..اے فلاں! ہمارا اِشتیاق نہ بڑھا۔ ایک اور روایت میں آتا ہے : دَعِ الْقُلُوْبَ تَقِرُّ، ….دلوں کو قرار پکڑنے دو۔

یہی مکہ کا فراق صحابہ کرام پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے کہ صحابہ بیمار ہو جاتے ہیں۔ بخار ہو جاتا ہے اور اس قدر بخار کہ بیماری نے انہیں بہت لاغر کر دیا۔

نئی جگہ رہنا اور اپنے وطن سے نکال دیئے جانا کچھ کم اذیت ناک ہوتا ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے لیے دعا فرمائی کہ “اے اللہ! مدینہ کی محبت ہمارے دل میں مکہ کی محبت سے زیادہ فرمادے”. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کہیں سفر پر جاتے اور واپسی پر جب مدینہ کی دیواریں نظر آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری کو تیز دوڑاتے تھے۔

حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ ایک بار ہم خیبر سے واپس مدینہ لوٹ رہے تھے جب احد پہاڑ نظر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : ” اے اللہ! میں اس کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان والی جگہ کو حرم بناتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا تھا۔ اے اللہ! ہمیں ہمارے صاع اور ہمارے مُدّ میں برکت عطا فرما”۔

وطن کی مٹی کو شفا بھی قرار دیا گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض سے فرمایا کرتے تھے: ﷲ کے نام سے شروع، ہماری زمین (وطن) کی مٹی ہم میں سے بعض کے لعاب سے ہمارے بیمار کو، ہمارے رب کے حکم سے شفا دیتی ہے۔ اسی طرح کی ہمیں بہت سی احادیث ملتی ہیں جس میں وطن (مدینہ) سے محبت کا ذکر ملتا ہے۔

امام راغب اصفہانی سے کون واقف نہیں وطن کی محبت کی فضیلت میں لکھتے ہیں کہ حُبُّ الْوَطَنِ مِنْ طِيْبِ الْمَوْلِدِ. (وطن کی محبت اچھی فطرت و جبلت کی نشانی ہے)۔

ابو عمرو بن العلاء کہتے ہیں :

“آدمی کے معزز ہونے اور اس کی جبلت کے پاکیزہ ہونے پر جو شے دلالت کرتی ہے وہ اس کا اپنے وطن کے لیے مشتاق ہونا اور اپنے دیرینہ تعلق داروں (یعنی اعزاء و اقربا، رفقاء و دوست احباب اور پڑوسی وغیرہ) سے محبت کرنا اور اپنے سابقہ زمانے (کے گناہوں اور معصیات) پر آہ زاری کرنا (اور ان کی مغفرت طلب کرنا) ہے۔”

وطن کی محبت عین تقاضا فطرت ہے۔ ہمارے لئے اگر کوئی خطہ زمین اہم ہے وہ مکہ اور مدینہ کے بعد پاکستان ہے۔ پاکستان کے لئے جس قدر قربانیاں دی گئیں ہم ان کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ یہ وطن اللہ کا عظیم معجزہ ہے یہ ہماری پناہ گاہ ہے ہماری پہچان ہے۔ وطن سے محبت کے بغیر کوئی قوم دنیا میں معزز نہیں ہوتی۔ جو قوم وطن سے محبت کو فراموش کر دیتی ہے اس کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ وطن سے محبت اگرچہ ایمان کا حصہ نہیں ہے مگر ایمان کے منافی بھی نہیں ہے۔ زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنی زمین اپنے وطن پر سب کچھ قربان کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔ بقول جوش ملیح آبادی ؎

تجھ سے منہ موڑ کے منہ اپنا دکھائیں گے کہاں

گھر جو چھوڑیں گے تو پھر چھاؤنی چھائیں گے کہاں

بزم اغیار میں آرام یہ پائیں گے کہاں

تجھ سے ہم روٹھ کے جائیں بھی تو جائیں گے کہاں

تیرے ہاتھوں میں ہے قسمت کا نوشتہ اپنا

کس قدر تجھ سے بھی مضبوط ہے رشتہ اپنا

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *