جمعیت کے 2 سابق ناظمین میں اختلافات ۔ MPA نے استعفی دے دیا ۔

الرٹ نیوز : جمعیت کے دو سابق ناظمین میں سخت اختلاف , MPA عبدالرشید نے تمام عہدوں سے استعفی دے دیا ۔

جماعت اسلامی کراچی میں گزشتہ کچھ عرصہ سے بعض اعلی عہدیداروں کے درمیان سخت اختلافات پائے جارہے ہیں ۔تاہم جماعتی نظم کی وجہ سے اختلافات میں ذاتیاتی شدت کو داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا تاہم حافظ نعیم الرحمن سے بعض اہم اراکینِ جماعت کے اختلافات اب زیادہ ہو گئے ہیں جس کا اندازہ ذیل میں جماعت اسلامی کے رکن محمد حفظ الدین کی جانب سے جاری ہونے والے خط سے کیا جا سکتا ہے ۔

رکنِ جماعت اسلامی محمد حفیظ الدین کا خط “عقل و دانش رکھنے والے” کے عنوان سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اور قیم پاکستان امیر اعلظیم کے نام جاری کیا گیا ہے ۔

خط کے مطابق ” آج صبح سو کر اٹھا ایک دوست کا پیغام موصول ہوا کہ کراچی جماعت میں عبدالرشید بھائی جو کہ ضلع جنوبی کے امیر کے ساتھ ، صوبائی ‛ مقامی اور مرکزی شوری کے رکن کے ساتھ ساتھ مجلس عاملہ کے رکن بھی تھے انہوں نے اپنی تمام تر مذکورہ ذمہ داریوں سی استعفی دیا ہے اور امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کو بھیجوا بھی دیا ہے ۔

اس بات کی ذمہ داران سے تصدیق کی گئی تو بہت افسوس ہوا اور پھر زبان سے بے اختیار یہ لفظ نکلا کہ کاش علمی لوگ منصب امارت پر فائز ہوتے ۔کاش علمی افراد کی شوری و عاملہ ہوتیں۔ اب اصل بات یہ ہے کہ کراچی جماعت میں اسلامی جمعیت طلبہ کے دو سابق ناظمین اعلی کے درمیان جنگ جاری ہے۔

معذرت کے ساتھ یہ جو جمعیتی ناظم اعلی بن چکے ہیں دراصل یہ انقلاب کے رومینس میں ناکامی محسوس کرنے کے بعد شدید فرسٹیشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔بدقسمتی سے ان لوگوں کے تخیل کی اڑان ناظم سے اوپر نہیں اٹھتی جماعت اسلامی میں بڑے منصب پر فائز ہوجانے کے بعد بھی ناظم کے لیول پر سوچتے ہیں۔ حافظ نعیم صاحب اور عبدالرشید بھائی کی اس لڑائی میں بلی تھیلے سے باہر کیا آئی ۔ بلکہ بلی نے پنجہ مار دیا ہے ۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بج گئی ہے۔اس میں حافظ نعیم صاحب کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے اقرباء پروری کو پروان چڑھایا، کراچی جماعت میں ان لوگوں کو جگہ دی کہ جو ان کی ہاں میں ہاں ملانے، مٹی کا مادھو بن کر ، ایک بت بن کر ان کی کامل اطاعت کرتے ہیں ۔ یہ سب لوگ ٹک ٹک دیم دم نہ کشیدم کی طرح سب کچھ دیکھتا رہے منہ سے ایک لفظ نہ نکالے ۔ تجویز ، تنقید و احتساب کا لفظ تو منہ کے قریب نہ لائے۔جی حضوری کے نت نئے انداز اپنائے ۔ یہ حافظ صاحب غلطی نہیں غلطے کرتے گئے ۔

ایم پی اے عبدالرشید بھائی کی غلطی یہ ہے کہ وہ کراچی کی امارت کو اپنا حق سمجھنے لگے ہیں ۔ ایم پی اے بننے کے بعد اور مجلس عاملہ کے رکن بننے کے بعد وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن ان کی ہدایات کے مطابق کام کریں ۔ ان سے بغیر پوچھے کوئی فیصلہ کرنا تو درکنار اس کا سوچا بھی نہ جا سکے ۔ انہوں نے اس خود نمائیت کو فروغ دیا۔ اصل میں عبدالرشید بھائی کی غلطی کے ذمہ دار امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور قیم پاکستان امیرالعظیم بھی ہیں ۔

کیوں کہ انہوں نے ایک ایسے فرد جس کو استعفی دینا بھی نہیں آتا اس کو مجلس عاملہ کا حصہ کیسے بننے دیا ؟ ۔ میں نے پچھلے دنوں تنظیمی معاملات میں توجہ دلائی تنقید بغرضِ اصلاح کی کوشش کی تو کچھ دوست ناراض ہوئے ۔

ناراضگی کی یہ وجہ سمجھ آئی کہ انہوں نے سید ابوالاعلی مودودی کے لٹریچر اور قرآن وسنت سے استفادہ کم ہی حاصل کیا ۔دنیا جب بھی آگے بڑھی ہے نظم وضبط( ڈسپلن) سے ہی آگے بڑھی ہے ۔ ہمارے دین میں سب سے اہم چیز ڈسپلن ہے ۔ اس بار ڈسپلن کے علمبرداروں کے چیمپینز میں ٹکراو ہے ۔ باہر کے جسم کو بیماریوں سے بچانے کے لئے اپنے اندر کو بیماریوں سے مبرا کرنا چاہیئے ۔ درخت جس کے اندر بیماری ہو اور اس کو گھن لگا ہوا ہو اور اندر ہی اندر سے وہ کھوکھلا ہوتا جائے اس کی بیماری کے علاج کرنے کے بجائے باہر سے اسپرے کرتے رہیں۔ اس پر روشنی کرنے صفائی کرنے سے ہم درخت کی بیماری نہیں روک سکتے ۔ اس کی بیماری دریافت کر کے ادوایات دیں گے ایسا ہی انسان کا حال ہے۔

اے امیر محترم فیصلہ کرنے میں بے لاگ انصاف پسندی دکھانی ہے کیونکہ معاملہ حساس تنظیمی نوعیت کا ہے ۔اے امیر محترم بال آپ کی ڈی میں داخل ہوچکی ہے لہذاہ ان دو افراد کے درمیان فیصلہ قرآن کے مطابق کرنا ! وامرت لاعدل بینکم ( الشوری15) “اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان عدل کروں ۔

امیر پاکستان سراج الحق صاحب آپ کے فیصلے کا منتظر

محمد حفیظ الدین
رکن
جماعت اسلامی پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں