خصوصی دعا – حدیث نبوی ﷺ

حضرت عبداللہ بنِ عباس رضی اللّٰہ عنھما  نے فرمایا کہ:-

نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے :

اے میرے رب !

(1) میری مدد فرمائیے

(2) اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ ہو ( جس سے مجھے نقصان ہو ) ،

(3) میری حمایت فرمائیے ،

(4) اور میرے خلاف کسی کی حمایت نہ ہو ،

(5) میرے لیے تدبیر فرمائیے،

(6) اور میرے خلاف کسی کی تدبیر ( کارگر ) نہ ہو ،

(7) مجھے ہدایت دیجئے،

(8) اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما دیجیے ،

(9) جو مجھ پر ظلم کرے اس کے خلاف میری مدد کیجیے ،

اے اللّٰہ ! مجھے آپ

(10) اپنا شکر کرنے والا ،

(11) اپنا ذکر کرنے والا ،

(12) اپنے سے ڈرنے والا ،

(13) اپنی زیادہ اطاعت کرنے والا ،

(14) اپنی طرف جھکنے والا ،

(15)  اپنی طرف گڑگڑانے والا ( نرم دل) ، رجوع کرنے والا بنا دیجئے ،

اے میرے پروردگار !

(16) میری توبہ قبول فرمائیے ،

(17) میرا گناہ دھو (ختم کر ) دیجیے ،

(18) میری دعا قبول فرما لیجیے ،

(19) میری حجت ( دليل ) ثابت کر دیجیے ،

(20) میرے دل کو ہدایت دے دیجیے ،

(21) میری زبان کو درست کر دیجیے،

(22) اور میرے دل سے کینہ و بغض نکال دیجیے ۔

حدیث مبارکہ کو امام ترمذی (حدیث نمبر: 3551) اور دیگر محدثین عظام رحمۃ اللّٰہ علیھم (سنن أبي داود، حدیث نمبر: 1510 – سنن ابن ماجه، حدیث نمبر: 3830) نے روایت کیا ہے۔

 

اس مبارک حدیث کا عربی متن تخریج کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں

حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الحفري، عن سفيان الثوري، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن الحارث، عن طليق بن قيس، عن ابن عباس، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعو، يقول: ” رب اعني ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامكر لي ولا تمكر علي، واهدني ويسر الهدى لي، وانصرني على من بغى علي، رب اجعلني لك شكارا، لك ذكارا، لك رهابا، لك مطواعا، لك مخبتا، إليك اواها منيبا، رب تقبل توبتي واغسل حوبتي واجب دعوتي وثبت حجتي وسدد لساني واهد قلبي واسلل سخيمة صدري ". قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح.

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/ الصلاة 360 (1510)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 2 (3831) (تحفة الأشراف: 5765)، و مسند احمد (1/227) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3830)
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *