دریائے سندھ سے کراچی آنیوالے پانی میں150 ایم جی ڈی کی پراسرار کمی کا انکشاف

الرٹ نیوز: کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو اینڈ ایس بی) کے حکام اس انکشاف کے بعد سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ دریائے سندھ سے آنے والے 650 ملین گیلن یومیہ پانی میں سے 150 ملین گیلن یومیہ( ایم جی ڈی) پانی کہاں جاتا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پانی کی اس پرسرار کمی کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر مسلسل کی جانے والی میٹر ریڈنگ سے نوٹ کیا گیا تاہم اس بات کو ریکارڈ پر چند روز قبل ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ظاہر کیا گیا۔

اس اجلاس کی صدارت واٹر بورڈ میں صوبائی وزیر کے مشیر سلمان چانڈیو نے کی تھی۔ اجلاس میں چیف انجینئر ای اینڈ ایم نے بتایا ہے کہ دریائے سندھ سے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے 450 ایم جی ڈی پانی آرہا ہے جبکہ ریکارڈ کے مطابق 550 آنا چاہیے۔ اسی طرح گھارو پمپنگ اسٹیشن پر 100 ایم جی ڈی کے بجائے زیادہ سے زیادہ 50 ایم جی ڈی پانی مل رہا ہے۔ اجلاس میں سوال کیا گیا کہ پھر مجموعی طور پر 150 ملین گیلن یومیہ پانی کہاں جارہا ہے۔

یہ 150 ملین گیلن یومیہ پانی کراچی کے علاقوں کو ملنا چاہیے۔ اس ضمن میں نمائندہ جسارت نے واٹر بورڈ کے ایڈوائزر سلمان چانڈیو سے رابطہ کیا اور پانی کی اس کمی کے حوالے سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ میرے سامنے یہ بات خصوصی اجلاس میں آئی تھی جس پر میں نے اس بارے میں انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کاحکم دیا ہے۔

واٹر بورڈ کے نظام سے واقف لوگوں کا کہنا ہے کہ دھابیجی اور گھارو پمپنگ اسٹیشن پہنچنے سے پہلے ہی منظم طریقے سے پانی چوری کرکے کراچی سے دور گوٹھوں کو فراہم کر دیا جاتا ہے جبکہ ٹینکروں کے ذریعے بھی پانی کی مبینہ چوری منظم طور پر جاری ہے۔ خیال رہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں لائنوں سے پانی کی فراہمی ہفتہ وار یا سہ روزہ ہوچکی ہے جس سے شہریوں کو پریشانی کاسامنا کرنا پڑرہا ہے.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *