دیار خلافت کا سفر شوق قسط نمبر 79

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

ترکوں میں ماشاءاللہ نفاست اور اپنی ثقافتی وراثت و روایات کے ساتھ مضبوط اٹیچمنٹ کے ساتھ ساتھ سیاحتی سینس بھی بھرپور ہے۔۔۔ اور وہ سیاحوں کے ساتھ پیش آنے کے شعور اور رکھ رکھاؤ سے اچھی طرح واقف ہیں، اس لئے ساری دنیا ان کے ملک میں کشش محسوس کرتی ہے اور دوڑتی بھاگتی ترکی پہنچتی ہے۔۔۔ چنانچہ ترکی دنیا کے ان چند نمایاں ملکوں میں سر فہرست ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے پر کشش منزل کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔۔ ہم نے کورونا بندشوں کے پہرے میں ترکی کا سفر کیا۔۔۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ترکی اس دور میں بھی سیاحوں کیلئے دلچسپی کا باعث ہے جب ہر طرف عالمگیر وبا کی وجہ سے سخت مردم بیزاری چھائی ہوئی ہے اور لوگ ایک دوسرے سے دور الگ تھلگ رہنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔۔۔

ایک رپورٹ کے مطابق کورونا کی بندشوں سے پہلے 2018 میں صرف ایک سال کے دوران دنیا بھر سے چھیالیس ملین سیاحوں نے ترکی کی سیر و سیاحت کی جس سے ترکی کو تیس بلین ڈالر کا فائدہ ہوا۔۔۔ ہمارے یہاں بھی سیاحتی بالخصوص مذہبی و تاریخی سیاحت کے بے شمار مقامات ہیں۔۔۔ مگر ایک تو ہماری حکومتوں اور بیورو کریسی کو سیاحتی مقامات کو ترقی دینے اور سیاحوں کی رہنمائی اور انہیں سہولتیں فراہم کرنے میں سرے سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔۔۔ دوسرے بد قسمتی سے عوام میں بھی ٹورازم سینس کا فقدان پایا جاتا ہے۔۔۔ چنانچہ ہمارے یہاں کے چند ایک سیاحتی مقامات کا عالم یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے وہاں تک رسائی کے ضروری اقدامات تک نہیں ہیں۔۔۔ جبکہ عوام کے شعور کا یہ عالم ہے کہ ہر کوئی اپنی مرضی کا مالک ہے۔۔۔ جو جیسے چاہتا ہے رویہ رکھتا ہے۔۔۔ اور جہاں پہنچتا ہے گند ڈال کر آجاتا ہے۔۔۔ ایسے میں سیاحت خاک ترقی کرے گی۔۔۔ اللہ کرے ہم بھی دوسرے ملکوں بالخصوص ترکی سے سیاحت کو ترقی دینے کا شعور اور گر سیکھیں۔۔۔۔

قونیہ سے واپسی:

ہمیں رات کو ہی منتظمین نے بتا دیا تھا کہ صبح سویرے ان شاءاللہ قونیہ سے روانگی ہے۔۔۔ شیڈول سے اگہی کے بعد تمام ساتھیوں نے قونیہ میں دوسری اور آخری رات گزارنے کیلئے اپنے اپنے کمروں کا رخ کیا۔۔۔ منتظمین کی ہدایت کے مطابق ہمیں صبح سویرے اٹھنا تھا، اس لئے بلا تاخیر ہم بستر پر پہنچے اور جلدی جلدی شبانہ معمولات سے فارغ ہو کر لیٹ گئے۔۔۔ بستر اور کمرے کا ماحول بہت پر سکون تھا اور پھر قونیہ کی پر کیف و سحر انگیز فضا۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔ دل و دماغ پر عقیدت کا سکون آور احساس بھی سحر پھونکے ہوئے تھے۔

چنانچہ لیٹتے ہی نہایت پر سکون اور میٹھی نیند ہمیں بانہوں میں لیکر حسین خوابوں کی وادی میں پہنچ گئی۔۔۔ صبح ہم پانچ بجے بیدار ہوئے تو ایک ایک مشام جان سے عرق تکان نچڑ کر غائب ہو چکی تھی۔۔۔ آج ہماری استنبول واپسی تھی۔۔۔ رات کی پر سکون نیند کے ساتھ استنبول کی ایک بار پھر زیارت و سیر کی چاہ نے دل میں ایک نئے لے سے حدی خوانی شروع کر دی تھی۔۔۔

جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *