جناب رفیق افغان کی رحلت

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

روزنامہ امت کے ایڈیٹر، ممتاز ادیب، قلم کار اور تحقیقاتی صحافی جناب رفیق افغان صاحب بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔۔۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔۔۔۔

جناب رفیق افغان نے صحافت کے میدان میں بڑی ہنگامہ خیز زندگی گزاری۔۔۔ ان کو ہمارے بہت سے طبقات سے شکایات تھیں۔۔۔ اور یہ شکایات ایسی بے جا بھی نہ تھیں۔۔۔۔ مگر اس سب کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ وہ بے باک اور جرات مندانہ صحافت کا ایک قد آور نام تھے۔۔۔ ان کی ذات کی یہ خوبی تھی کہ جس بات کو اپنے تئیں حق سمجھتے تھے، اس کو بہ بانگ دہل کہنے، لکھنے اور بیان کرنے سے ہرگز نہیں ہچکچاتے تھے.

وہ مدیر تکبیر حق گو صحافی صلاح الدین شہید کے شاگرد اور ان کے داماد تھے۔۔۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کی صحافت میں حق گوئی و بے باکی شہید صلاح الدین کی صحبت و شاگردی کا نتیجہ تھی۔۔۔ ایک معروف انسان کی حیثیت سے ان کی ذات بے شمار تنازعات سے بھی وابستہ کی جاتی رہی۔۔۔ ان کے اخبار سے کئی افراد، شخصیات، اداروں اور جماعتوں کے خلاف نا مناسب پروپیگیشن بھی محسوس کی جاتی رہی جس سے متعلقہ لوگوں میں شدید اشتعال اور غم و غصہ بھی پیدا ہوا۔۔۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا مگر کیا کیا جائے انسان خوبیوں کی طرح خامیوں، کمزوریوں اور کوتاہیوں کا بھی مرکب ہے۔۔۔ اور بحیثیت انسان ہم سب ایسے ہیں۔۔۔ رفیق افغان صاحب اب اپنے نیک و بد کے حساب کیلئے اللہ کے حضور پہنچ گئے ہیں، جبکہ ہمارے لئے حکم یہی ہے کہ اپنے مُردوں کو اچھے لفظوں میں یاد کیا کرو۔۔۔

چنانچہ ہم جناب رفیق افغان صاحب کی بہترین صحافتی خدمات، دینی جذبات، مجموعی طور پر دین، اہل دین، مدارس، اسلامی تحریکوں کی بھرپور ترجمانی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بحق دین اسلام اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی کامل بخشش کی دعا کرتے ہیں اور ان کے جملہ اہل خانہ اور موقر روزنامہ امت کے تمام کارکنوں اور صحافی دوستوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *