نڈر صحافی رفیق افغان تنازعات کا سامنا کرتے ہوئے انتقال کرگئے

تحریر : شکیل نائچ

کراچی میں جب بھی صحافت میں دیدہ دلیری کا ذکر آئے گا رفیق افغان کا نام ان میں ضرور شامل ہوگا یہ 1997ء کی بات ہے کہ تکبیر اور نومود امت میں کچھ دوریاں پیدا ہوئیں تو رفیق افغان کو امت کے لئے رپورٹرز کی ضرورت تھی تکبیر کے سینیئر تجزیہ نگار فاروق عادل نے میرا نام تجویز کیا یوں مجھے رفیق افغان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا سب سے پہلے مجھے بلا کر کہا کہ وہ اور سلام اللہ ٹیپو لیاری کے کسی تھانہ میں ایف آئی آر میں نامزد ہیں سلام اللہ ٹیپو تو مرگیا ہے مگر وہ چاہتا ہے کہ ان کا نام بھی ایف آئی آر سے خارج ہوجائے میں سیدھا سیکریٹری قانون علی احمد جونیجو کے پاس گیا وہ روایتی انداز میں مسکرایا اور کہا تو آپ صحافی بھی غیر قانونی کام لیں گے بحرحال انہوں نے کوشش کی اور رفیق افغان کا نام ایف آئی آر سے خارج کیا پھر ایک پولیس کے اے ایس آئی بشیر احمد کے سسر کو سرکاری وکیل بنوانے کے لئے مجھے کہا وہ بھی سیککریٹری قانون علی احمد جونیجو نے کردیا تکبیر اور امت میں دوریاں ہوئیں تو تمام رپورٹرز کی میٹنگ بلوائی اور حکم دیا کہ کوئی رپورٹر تکبیر کے ملازم سے بات نہیں کرے گا تمام رپورٹرز تو خاموش رہے مگر میں نے جواب دیا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ مالکان کا آپس میں جھگڑا ہوگا صلح ہوگی ورکرز کا اس میں کیا لینا دینا ہم پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹس میں ساتھ ہوتے ہیں کیسے اپنے ساتھیوں کو کہیں کہ مالکان نے أپ سے بات کرنے سے منع کیا ہے۔

رفیق افغان خاموش تو ہوگئے لیکن ان کو میری بات ناگوار گذری پھر میں نے شادی کی تو حیدری کے علاقہ میں موتی جیولرز کو فون کیا جس نے رعایتی نرخ پر زیورات بنا کر دیئے ان دنوں امت مکمل طور پر نواز شریف کا حامی تھا ایک دن رفیق افغان نے میٹنگ بلائی کہ نواز شریف کی فاروق لغاری اور سجاد علی شاہ سے لڑائی ہے فاروق لغاری اور سجاد علی شاہ کی خبریں نہیں مل رہیں میں نے کہا کہ میں کوشش کروں گا تو انہوں نے پوچھا کس سے لیں گے جس پر میں نے کہا کہ میٹنگ کے بعد نام بتاؤں گا میٹنگ کے بعد مجھ سے پوچھا تو میں جواب دیا کہ ارباب غلام رحیم سے پوچھیں گے میرے ان کے ساتھ خبروں کے حوالے سے اچھے مراسم تھے سو ایک ڈیڑہ ماہ تک ارباب رحیم سے فون پر خبریں لیں جھگڑے میں نواز شریف جیت گئے اور فاروق لغاری اور سجاد علی شاہ گھر چلے گئے ایک ماہ بھی نہ گذرا کہ مجھے بلا کر کہا کہ آئی ایس آئی چیف جنرل ضیاء الدین بٹ نے کہا ہے کہ ارباب رحیم کے خلاف مہم چلانی ہے میں نے کہا کہ آپ کا اپنا اخبار ہے بیشک مہم چلائیں اس پر انہوں نے کہا کہ خبر آئی ایس آئی سے بنی بنائی آئے گی وہ آپ کے نام سے شائع کریں گے میں نے صاف انکار کیا کہ یہ صحافتی اصول کے خلاف ہے کیونکہ آپ اپنی مرضی سے خبر چلائیں آپ کا حق ہے مگر میرے نام سے خبر چلائیں گے تو میں خود بناؤں گا اور ارباب رحیم کا بھی مؤقف شامل کروں گا تو اس پر وہ ناراض ہوئے۔

پھر ایک ہفتے تک مجھے ذہنی اذیت دیتے رہے ایک نوجوان جینس کی پینٹ شرٹ پہن کر دفتر میں آکر مجھے دیکھ کر مونچھوں کو تاؤ دیتا تھا اور پھر میں جس بس میں سوار ہوکر جاتا اس کا موٹرسائیکل پر چڑھ کر پیچھا کرتا میں نے رفیق افغان سے شکایت کی تو وہ ایسے جواب دے رہے تھے جیسے یہ کوئی معمولی بات ہے اسی اثنا میں رفیق افغان انٹر کام پر کال ملا دیتے کہ یہ فلاں ایجنسی کا افسر ہے اس سے خبر لیں زیادہ بحث نہ کریں صبح کو وہ خبر امت میں شائع ہوتی ابھی یہی کشمکش جاری تھی کہ مجھے ملازمت سے فارغ کردیا اور یہ کہا کہ دوسرے اخبارات میں وہ اہمیت نہیں ملے گی خیر میرے نکلنے کے بعد امت میں ارباب رحیم کے خلاف مہم شروع ہوئی کہ وہ تھر میں عورتیں فروخت کرتے ہیں ظاہر بات ہے کہ یہ بے بنیاد مہم تھی اس مہم کے دوران ملیر کینٹ میں ایم پی اے علیم عادل شیخ کے گھر پر رفیق افغان کے ساتھ ارباب فیض محمد اور ارباب امیر حسن کے مذاکرات ہوئے جس میں بھاری نذرانہ طلب کیا گیا مگر جب ارباب رحیم سے امیر حسن اور فیض محمد نے بات کی تو آر باب رحیم نے بھاری نذرانہ دینے سے انکار کردیا معاملہ ختم ہوگیا۔

صبح کو ارباب رحیم نے فون کر کے بلایا اور مشورہ کیا تو میں نے بھی بھاری نذرانہ دینے کی مخالفت کی میں نے مشورہ دیا کہ آپ دل باندھیں اور رفیق افغان کے خلاف پریس کانفرنس کریں کچھ مواد تو ہمارے پاس پہلے سے موجود تھا اور کچھ مواد تکبیر سے مل گیا تھا کیونکہ رفیق افغان کو تکبیر سے کافی نوٹس ملے تھے ہمارے پاس چھ صفحے کی اردو میں ٹائپ شدہ پریس کانفرنس اور 80 صفحات پر مواد تھا یہ رفیق افغان کے خلاف کسی بھی سیاستدان کی پہلی اور آخری پریس کانفرنس تھی یہ پر ہجوم پریس کانفرنس تھی جس میں کراچی پریس کلب کا پورا ہال بھر گیا۔

پریس کانفرنس کو اچھی کوریج ملی اس کے دوسرے روز رفیق افغان نے اپنے ایک رپورٹر کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ ارباب رحیم کی طرفداری چھوڑ دیں میرا جواب واضع تھا کہ میں اب امت کا رپورٹر نہیں ہوں خیر ارباب رحیم کے خلاف مہم چند روز میں ختم کردی پھر جب ارباب رحیم وزیر اعلیٰ بنے تو ایک حساس ادارے کے افسر نے ارباب رحیم سے ڈنر پر کہا کہ رفیق افغان سے صلح کریں ارباب رحیم نے اس افسر کےسامنے مجھ سے پوچھا تو میں نے جواب دیا کہ رفیق افغان سے معاملات جوں کے توں رکھیں ان سے نہ دوستی رکھیں اور نہ دشمنی رکھیں یوں وہ افسر خاموش ہوکر چلا گیا۔

رفیق افغان ایک دلیر صحافی تھے ایم کیو ایم جیسی دہشتگرد تنظیم کے خلاف ڈٹ گئےکھل کر لکھا اور اس وقت تک لکھتے رہے جب تک ایم کیو ایم اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچی حکیم سعید سے لے کر عمران فاروق کے قتل پر کھل کر قاتلوں کو بے نقاب کیا بلاشبہ وہ جس کے خلاف لکھتے تو پھر پیچھے نہیں ہٹتے تھے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے آمین

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *