سندھ میں عہدے میرٹ کی بجائے شخصیت کی بنیاد پر ملنے لگے

تعلیمی الرٹ کراچی،

سندھ میں عہدے میرٹ کی بجائے شخصیت کی بنیاد پر ملنے لگے ہیں ایسا ہی اقدام وائس چانسلرز کی تقرری کی سفارش کرنے والے کمیٹی کے ساتھ پیش آیا۔ تلاش کمیٹی میں پہلے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کمیشن کو رکن بنایا گیا لیکن بعد میں شخصیت کی بنیاد پر رکن اور عہدے کو تبدیل کر کے سندھ ایچ ای سی کا کردار ہی ختم کردیا گیا۔ ںمائندہ جنگ نے ریاض الدین سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے موقف دینے سے انکار کردیا۔

تلاش کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن سیکرٹری بورڈز و جامعات ریاض الدین نے 7 مارچ 2019 کو وزیر اعلیٰ سندھ کو منظوری کے بعد جاری کیا تھا جس کے مطابق تلاش کمیٹی میں 6 اراکین کو مستقل رکھا گیا تھا جن میں کمیٹی کے سربراہ مہران یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالقدیر راجپوت، ٹنڈو جام زرعی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اے کیو مغل، شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر ڈاکٹر نیلوفر شیخ، جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد قیصر، سابق وفاقی سیکرٹری امتیاز قاضی اور سیکرٹری سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن شامل تھے.

ریاض الدین کے پاس سیکرٹری سندھ ہائر ایجوکیشن کا اضافی چارج بھی تھا جس کی بنیاد پر وہ تلاش کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوتے رہے لیکن نومبر میں محمد حسین سید کو سیکرٹری سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن مقرر کرکے ریاض الدین سے اضافی چارج لے لیا گیا اور وہ صرف سیکرٹری بورڈز و جامعات رہ گئے اس دوران تلاش کمیٹی کے جو بھی اجلاس ہوئے ان میں محمد حسین سید کو رکن ہونے کے باوجود بلایا نہیں جاتا تھا بلکہ ریاض الدین خود شریک ہوتے رہے بعد ازاں انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو سمری بھی بھیج دی جس میں کہا گیا کہ انہیں یعنی سیکرٹری بورڈز و جامعات کو سیکرٹری ایچ ای سی کی جگہ رکن مقرر کیا جائے .

3 جنوری کو وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر نثار کھوڑو نے اس کی منظوری دی جبکہ وزیر اعلیٰ نے اس کی منظوری 7 جنوری کی دی۔ اس دوران آئی بی اے کے امیدواروں کی اسکروٹنی اور انٹرویو کا عمل بھی ہوگیا جس میں محمد حسین سید رکن ہونے کے باوجود شریک نہ ہوسکے اور ریاض الدین رکن نہ ہونے کے باوجود شریک رہے جس پر آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری پر سوالات بنتے ہیں بعد ازاں ریاض الدین شخصیت اور عہدے کی بنیاد پر نوٹیفکیشن اپنے نام کرانے میں بھی کامیاب ہوگئے اس طرح تلاش کمیٹی سے سندھ ایچ ای سی کا کردار ہی ختم کرادیا گیا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *